
1:کسی شخص کا جب انتقال ہوتاہےتو اگر اس کا کوئی وارث باہر کسی ملک میں ہو،تو کیا میت کو اس کے انتظار میں رکھنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کبھی کبھار وارث کے پہنچنے میں 24 گھنٹےبھی لگ جاتے ہیں۔
اسی طرح یہ بھی دیکھنے میں آتاہےکہ کسی وارث کے نہ پہنچنے کی صورت میں تابوت کو قبر میں اتار کر پاؤں اور سینے کے جانب کے تختے رکھ دیتے ہیں لیکن سر کی جانب کو کھلارہنے دیتے ہیں،پھر جب وہ پہنچتاہےتو دیکھنے کے بعد پھر سر کے جانب کو ڈھانپ کر تدفین کا عمل شروع ہوجاتاہے،کیا یہ شرعاًدرست ہے؟
2:اسی طرح میت کو جب گھر کے صحن میں رکھ دیتے ہیں تو محرم وغیرمحرم سب عورتیں آکر دیکھتی ہیں،تو کیا اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے؟ اور کن کن عورتوں کے لیے مردے کو دیکھنا جائزہے؟
3:میت پر کلمہ والی چادر ڈالنے کا کیاحکم ہے،کیا یہ شرعاًجائزہے؟
1: کسی کا انتقال ہوجانے کے بعد اس کی تجہیز وتکفن اور تدفین میں جلدی کرنا مسنون ہے، شرعی عذر یا قانونی مجبوری کے بغیر تاخیر کرنا خواہ کسی بھی مقصد کے لیے ہو مکروہ ہے، اس سے میت کی بے حرمتی ہوتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں کسی وارث کے انتظار میں میت کو رکھنایا قبر میں رکھنے کے بعد اس کے سر کی جانب کو کھلا رکھنا شرعاً درست نہیں ہے،بلکہ قبر میں اتارنے کے بعد مرحوم کا چہرہ دیکھنا ہی ممنوع ہے۔
2: مرد میت کا چہرہ مردوں اور محارم (وہ عورتیں جن سے اس شخص کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو)کے لیے دیکھنا جائز ہے،نیز عورت کا چہرہ عورتیں اور محارم مردوں (وہ مرد جن سے اس عورت کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو) کے لیے دیکھنا جائز ہے ۔
3:جنازہ پر قرآنی آیات اور کلمہ لکھی ہوئی چادر ڈالنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ یہ شریعت سے ثابت نہیں ہے اور اس میں بے ادبی اور بے احترامی کا خطرہ ہے،بسا اوقات قرآنی آیات لکھی ہوئی چادریں بغیر وضو کے پکڑی جاتی ہیں حالاں کہ بغیر وضو کے قرآنی آیات وسورتیں چھونا جائز نہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله ويسرع في جهازه) لما رواه أبو داود «عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف قال ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه وعجلوا به فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله» والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة فإنه يحتمل الإغماء. وقد قال الأطباء: إن كثيرين ممن يموتون بالسكتة ظاهرا يدفنون أحياء لأنه يعسر إدراك الموت الحقيقي بها إلا على أفاضل الأطباء فيتعين التأخير فيها إلى ظهور اليقين بنحو التغير إمداد؛ وفي الجوهرة وإن مات فجأة ترك حتى يتيقن بموته."
(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2،ص: 193،ط:سعید)
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
"وكذا يستحب الإسراع بتجهيزه كله" أي من حين موته فلو جهز الميت صبيحة يوم الجمعة يكره تأخير الصلاة عليه ليصلي عليه الجمع العظيم بعد صلاة الجمعة، ولو خافوا فوت الجمعة بسبب دفنه يؤخر الدفن ـ."
(کتاب الصلاۃ،باب أحكام الجنائز،فصل في حملها ودفنها،ص: 604،ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
موسوعہ فقہیہ میں ہے:
"ذهب الفقهاء إلى أن حكم نظر الرجل إلى المرأة بعد موتها كحكمه في حياتها۔۔۔، لأن الموت لا ترتفع به الحرمة، بل تتأكد، ولأن هذه الحرمة لحق الشرع، والآدمي محترم شرعا حيا وميتا."
(الأحكام المتعلقة بالنظر،نظر الرجل إلى المرأة الميتة،ج:40،ص:354،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية،الكويت)
فتاوی شامی میں ہے:
"وقد أفتى ابن الصلاح بأنه لا يجوز أن يكتب على الكفن يس والكهف ونحوهما خوفا من صديد الميت والقياس المذكور ممنوع لأن القصد ثم التمييز وهنا التبرك، فالأسماء المعظمة باقية على حالها فلا يجوز تعريضها للنجاسة، والقول بأنه يطلب فعله مردود لأن مثل ذلك لا يحتج به إلا إذا صح عن النبي صلى الله عليه وسلم طلب ذلك وليس كذلك اهـ وقدمنا قبيل باب المياه عن الفتح أنه تكره كتابة القرآن وأسماء الله - تعالى - على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت فتأمل."
(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2،ص: 246،ط:سعید)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
"عورت چھپانے کی چیز ہے نہ کہ دکھانے کی چیز آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے ۔ " المرأة عورة یعنی عورت چھپانے کی چیز ہے ( مشکوۃ ص ۲۶۹ باب النظر الى المخطوبة ) نیز آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے۔ لعن الله الناظر والمنظور اليه . یعنی خدا کی لعنت ہے اس پر جو نامحرم عورت کو دیکھے اور اس بے پردہ عورت پر بھی جس کو دیکھا جائے ( مشکوۃ باب النظر الى المخطو بہ ) ( کتاب النکاح ) ان احادیث میں زندہ اور مردہ کا کوئی فرق نہیں ہے۔ لہذا جس کو بحالت حیات دیکھنا منع ہے۔ مرنے کے بعد بھی اس کو دیکھنا منع ہے۔ حضرت فاطمہ سے دریافت کیا کہ عورت میں سب سے اچھی اور خوبی کی بات کیا ہے؟ جواب میں فرمایا نہ وہ خود نا محرم مرد کو دیکھے اور نہ اس کو نامحرم مرد دیکھ سکے ( مسند بزاز و غیره ) حضرت فاطمه کو نا محرم سے پردہ کا اس قدر خیال تھا کہ وفات کے وقت وصیت فرمائی۔ کہ میرے جنازہ پر اور کپڑا ڈال دیا جائے ۔ تا کہ نامحرم مردوں کو میرے جسم اور قد و قامت کا اندازہ بھی نہ ہو سکے۔ اس لئے عورت کی میت کو دفنانے کے وقت قبر پر پردہ کیا جاتا ہے۔
حضرت فاطمہ کی حیاء وشرم کی حالت یہ تھی مگر اس کے برخلاف آج کل کے ان کے نام لیوا گھر میں گھس کر نامحرم عورت کا منہ دیکھتے ہیں۔ کسی قدر افسوس کی بات ہے۔ خلاصہ یہ کہ رشتہ دار جو محرم بھی ہیں۔ جیسے باپ، بیٹا ، دادا، ناناچچا، ماموں، بھائی، بھتیجا، پوتہ نواسہ، بھانجا و غیر ہ جن کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے وہ چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت نا محرم عورتیں وہاں سے ہٹ جائیں ۔ نامحرم جیسا کہ خالہ زاد بھائی ، ماموں زاد بھائی ، پھوپھی زاد بھائی . بہنوئی وغیرہ جن کے ساتھ شریعت نے نکاح حرام قرار نہیں دیا ہے۔ ان سے پردہ کرنے کا حکم ہے ان کو منہ دیکھنے کی اجازت نہیں ۔ لہذا مذکورہ بالا دستور نا جائز اور موجب گناہ ہے۔"
(کتاب الجنائز، باب متفرقات الجنائز، ج: 7، ص: 121،ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100006
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن