بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وارث کو ترکہ سے مکمل حصہ نہ دینے کا حکم


سوال

میرے والد کا 2007 میں انتقال ہوا ،ان کے ورثاء یہ ہیں، بیوہ، آٹھ بیٹے، دو بیٹیاں۔ ترکہ میں ایک مکان ایک دکان، گھر کا سامان اور والد مرحوم کے شیئرز تھے ، پھر 2012 میں والدہ کا انتقال ہوا ، ان کے بھی یہی ورثاء تھے، ترکہ میں سونے کےزیورات تھے، ایک بھائی نے اپنا حصہ نہیں لیا اور کہا کہ سب بہن بھائیوں اس کو برابر تقسیم کرليں، میرے تمام بہن بھائیوں نے، والد اور والدہ کے ترکہ کو آپس میں تقسیم کیا،  مجھے اس میں سے کچھ بھی نہیں دیا،سوائے گھر کے حصہ کے، گھر کو بیچ کر اس میں جو میرا حصہ بنتا صرف وہی مجھے دے دیا ، باقی تمام جائیداد سے مجھے  کچھ نہیں دیا ۔ میں نے بہت کوشش کی مگر انہوں نے سوائےگھر کی رقم کے باقی جائیداد سے کچھ بھی نہیں دیا ۔

اب سوال یہ ہے کہ : کیا باقی جائیداد میں میرا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں سائل بھی والد کےترکہ میں دوسرے بھائیوں کی طرح برابرحق دارہے، سائل کو بھائیوں نے جس طرح گھرمیں حصہ دیا ہے اسی طرح سائل کو باقی جائیداد میں بھی حصہ دینا ضروری ہے،باقی جائیداد سے سائل کو کوکچھ نہ دینااورمحروم کرناشرعاًجائزنہیں ہے،اور کسی کاحق دبانےوالےکوآخرت میں سخت  بازپرس کاسامناکرناہوگا۔

مشکاۃالمصابیح میں ہے:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه."

(باب الوصايا، ج:2، ص: 926، رقم:3078، ط: دار الكتب الاسلامية)

ترجمہ:

 ’’حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا(یعنی اسے جنت سے محروم کردے گا)۔‘‘ 

شرح المشكاةلطيبي الكاشف عن حقائق السنن ميں ہے:

"عن أنس رضي الله عنه: قوله: ((ميراثه من الجنة)) ((غب)): الوراثة انتقال قنية إليك عن غيرك من غير عقد، ولا ما يجري مجراه، وسمي بذلك المنتقل عن الميت، ويقال لكل من حصل له شيء من غير تعب: وقد ورث كذا. ويقال لمن خول شيئاً مهنأ: أورث. قال تعالي: {تِلْكَ الجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا}.أقول: وتخصيص ذكر يوم القيامة وقطعه ميراث الجنة؛ للدلالة علي مزيد الخيبة والخسرة، ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر وترقب وصول الميراث من مورثه فخاب في العاقبة لقطعه، كذلك يخيب الله تعالي آماله عند الوصول إليها والفوز بها."

(كتاب الفرائض، ج: 7، ص: 2255، رقم: 3578، ط: نزار)

شرح المجلۃ ميں ہے:

"ليس لاحد أن يّاخذمال غيره بلا سبب شرعي."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الفقهية، ج:1، ص: 62، ط:حنفية بيروت)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144612101332

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں