بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وارث کے مطالبہ پر ترکہ کی تقسیم


سوال

تین بھائیوں کے مابین ایک نو مرلہ کی مشترکہ غمی و خوشی کی بیٹھک ہے، مذکورہ بیٹھک اُن کے آباء و اجداد سے مشترکہ چلی آرہی ہے، یہ ہاشمی خاندان ہے ان کے لوگوں کے ساتھ کافی تعلقات ہیں، جس کی وجہ ہے غمی و خوشی میں بہت زیادہ لوگ آتے ہیں، اس کے علاوہ دوسری کوئی متبادل جگہ بھی نہیں ہے ،اب ان بھائیوں کے درمیان تنازعہ ہوگیاہے، 2 بھائیوں کا اصرار ہے کہ اس مکان کو تقسیم کیا جائے، جب کہ ایک بھائی مصر ہے کہ تقسیم کے بعد ہماری ضرورت کی جگہ ختم ہو جائے گی، بھائیوں کے مابین شرعی جرگہ منعقد ہوا ہے، علاوہ اس کے دوسرے امور بھی ہیں، مقامی علماءکرام کا مسئولہ صورت میں اختلاف ہے، بعض علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ یہ جگہ جس مقصد کیلئے وضع ہے، تقسیم کے بعد منفعت وضعی مفقود ہو جائے گی، لہذا تقسیم نہیں کرنا چاہیے، جبکہ دوسرے علماء کرام کی رائے اس کے برعكس ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ ایسی جگہ جو موقوفہ نہ ہوبلکہ موروثی ہو، اور قابل تقسیم بھی ہو اور تقسیم کے بعد قابل انتفاع باقی رہتی ہو، تو کسی ایک وارث کے مطالبہ پر اسے تقسیم کرنا ضروری ہوجاتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ جگہ چونکہ  موقوفہ نہیں ہے، اجداد کی متروکہ املاک میں سے ہے، تو اسے کسی ایک شریک کے مطالبہ پر بھی تقسیم کیا جائے گا،پس چونکہ دو بھائی اس کی تقسیم کے طالب ہیں اس لیے تقسیم ضروری ہے، البتہ تقسیم کس نوعیت کی ہوگی اس بارے میں حکم یہ ہے کہ اگر تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد ہر شریک کے لیے تقسیم سے پہلے والا انتفاع ممکن ہو، تو  مذکورہ جگہ کی بعینہ تقسیم کی جائے گی، اور اگر حسی تقسیم سے پہلے والی منفعت فوت ہوتی ہو، تو  پھر تقسیم کی کوئی دوسری صورت اختیار کی جائے گی مثلا شرکاء ایک دوسرے کو فروخت کرسکتے ہیں یا کسی اور کو فروخت کرکے رقم تقسیم کرسکتے ہیں یا باری باری استعمال میں لاسکتے ہیں۔ الغرض شریک کے مطالبہ پر تقسیم ضروری ہے، البتہ تقسیم کی نوعیت جگہ کی نوعیت کے حساب سے ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے : 

"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم ‌بطلب ‌كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول."

( كتاب القسمة، ج:6، ص:260، ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

 "دار بين رجلين نصيب أحدهما أكثر فطلب صاحب الكثير القسمة وأبى الآخر فإن القاضي يقسم عند الكل وإن طلب صاحب القليل القسمة وأبى صاحب الكثير فكذلك وهو اختيار الإمام الشيخ المعروف بخواهر زاده وعليه الفتوى."

 (کتاب القسمة، الباب الثالث في بيان ما يقسم و ما لا يقسم و ما يجوز من ذلك و ما لا يجوز، ج : 5، ص: 207 ، ط: رشیدیة)

مجلۃ الاحکام میں ہے:

"إذا طلب أحد الشريكين القسمة ‌وامتنع ‌الآخر فيقسمه القاضي جبرا إن كان المال المشترك قابلا للقسمة ."

 

(كتاب الشركات، فصل في بيان شرائط القسمة، ص: 218، ط: كارخانه تجارت كتب، كراتشي)

الأصل میں ہے:

"وقال أبو حنيفة: لو كانت ‌دار ‌بين ‌رجلين ميراثاً أو غيره فتهايآ فيها على أن يسكن أحدهما منزلاً منها معلوماً، والآخر منزلاً منها معلوماً، وعلى أن يؤاجر كل واحد منهما منزله ويأخذ غلته، فإن ذلك جائز."

(کتا ب الصلح، ‌باب كتاب المهايأة في العقار، ج: 10، ص: 616، ط: دار ابن حزم)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144703101614

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں