بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وارث کے لیے وصیت کا حکم اور ترکہ کی رقم کو کاربار میں لگا دینے کے بعد اس کے نفع کی تقسیم میراث کے مطابق ہوگی


سوال

ہم چار بہنیں اور دو بھائی ہیں، والد کے انتقال کے بعد والدہ نے بھائیوں کو وصیت کی  کہ میرا زیور 30 تولہ سونا اور نقد رقم میری بیٹیوں میں تقسیم کردینا، وصیت کے دو دن بعد والدہ کا انتقال ہوگیا، بھائیوں کا کہنا ہے کہ والد کا زیور اور نقدی سب بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

ہم چار بہنیں کرائے پر رہتی ہیں، بھائیوں کا اپنا کاروبار اور مکان ہے،والد صاحب کے انتقال کے بعد والد صاحب کی 3 دکانیں اور ایک مکان بھائیوں نے چار کروڑ میں فروخت کردیا تھا 23 سال پہلے اور رقم اپنے کاروبار میں لگادی، بھائی بہنوں کو حصہ دینے کو تیار نہیں۔

بھائیوں کی جائیداد سے ہمیں کوئی حصہ نہیں چاہیے، لیکن ہمیں والدین کی جائیداد میں سے جو حق ہمارا بنتا ہے وہ ہمیں دیا جائے، چار کروڑ سے جو منافع ان کو ملا، اس میں سے ہمیں حصہ دیں، شریعت کے مطابق ہم چار بہنیں اور دو بھائیوں کے حصہ میں کتنی رقم آئے گی؟ وضاحت فرمادیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والدہ کا یہ کہنا کہ "میرا 30 تولہ سونا اور نقد رقم میری بیٹیوں میں تقسیم کردینا" شرعاً یہ وارث کے حق میں وصیت کرنا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی وارث کے لیے وصیت کرے تو وارث کے حق میں  کی جانے والی  وصیت دیگر  ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی، اگر دیگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور انہوں نے اس وصیت کے نفاذ کی اجازت دے دی تو اسے نافذ کیا جائے گا، اور جس کے لیے وصیت کی گئی ہے اسے اس وصیت میں سے بھی دیا جائے گا اور اس کا شرعی حصہ بھی اسے ملے گا۔ اور اگر بعض ورثاء بالغ ہوں اور بعض نابالغ، اور بالغ ورثاء وصیت کے نفاذ کی اجازت دے دیں تو ان کے حصے کے بقدر نافذ ہوگی، جب کہ نابالغ ورثاء کو ان کا حصہ پورا دیا جائے گا،اگر اجازت دیں تب بھی نابالغ کی اجازت کا اعتبار نہیں ہو گا، اور اگر ورثاء راضی نہ ہوں تو اس صورت میں اس وارث کو صرف اس کا متعین شرعی حصہ ملے گا اور اس وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا، لہذا یہ وصیت بھائیوں کی اجازت پر موقوف ہوگی۔

نیز  مرحوم والدین کے  ترکہ  کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے  مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن دفن کے اخراجات  نکالنے  کے بعد ،اگر  مرحوم پر کوئی قرضہ ہو اس کو ادا کرنے کے بعد، اور اگرمرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو  اس کو  بقیہ مال کے ایک تہائی ترکہ سے نافذ کرنےکے بعد،باقی ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 8 حصوں میں تقسیم کرکےدو دو  حصے ہر بیٹے کو، ایک، ایک حصہ ہر بیٹی کو کو ملے گا۔

باقی بھائیوں نے ترکہ کی رقم جو کاروبار میں لگادی تھی، اس رقم کے تناسب سے سب ورثاء اس کاروبار میں نفع ونقصان میں شریک ہوں گے، لہذا کاروبار میں جو نفع ہوا وہ بھی شریعت کے مطابق سب بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت8

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
221111

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم کے ہر بیٹے کو 25 فیصد، ہر بیٹی کو 12.50 فیصد ملے گا۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة)  (إلا بإجازة ورثته) لقوله  عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث  (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته."

(کتاب الوصایا، ج:6، ص:655، 656، ط:سعید)

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:

"(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم ‌بنسبة ‌حصصهم."

(الکتاب العاشر الشرکات، الفصل الثانی، ص:206، ط:نور محمد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100828

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں