بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وارث کے لیے وصیت کا حکم


سوال

میں الحمد للہ فوج سے ریٹائر ہوا ہوں اور "DHA" اسلام آباد میں میرا ذاتی گھر ہے،میرا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں ہماری بہو شروع دن سے ہمارے خلاف ہے  اور بیٹا اس کا تابعدارہے اور لڑائی بھی ہے ،مجھے خطرہ ہے کہ میرے بعد یہ والدہ کو گھر سے بےدخل کردیں  گے(میں زندگی میں گھر کسی کے نام نہیں کرنا چاہتا) میں چاہتا ہوں کہ میرے بعد میری بیوی گھر میں رہے اور اس کی وفات کے بعد  یہ وراثت تقسیم ہو۔اگر شرعی طور پر ممکن ہو تو میں وصیت کردوں گا۔(بذریعہ سٹام) کہ  میرے بعد میری بیوی میری جائیداد کی محافظ ہوگی اور میری جائیداد اس کی وفات کے بعد شرعی طریقہ سے بچوں میں تقسیم کی جائے۔

کیا یہ جائز ہے؟    

جواب

صورتِ مسئولہ سائل کے لیے اس طرح وصیت کرنا کہ اس کے انتقال کے بعد گھر بیوی کی ملکیت میں رہے اور  بیوی کے انتقال کے بعد وہ گھر ورثاء میں تقسیم ہو۔ وارث کے لیے وصیت کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص وارث کے لیے وصیت کرے تو اس کے مرنے کے بعد وہ وصیت اس کے بقیہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوتی ہے، اگر ورثا اجازت دیں تو اس وصیت کو نافذ کیا جاتا ہے، ورنہ نہیں۔

لہذا سائل کے لیے بہتر صورت یہ ہے کہ اپنے گھر کو کو اپنی بیوی  اور اپنی اولاد  پر وقف کردے، ایسی صورت میں سائل کے انتقال کے بعد گھر اس کے اہل وعیال میں تقسیم نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنی زندگی میں اس گھر سے نفع اٹھانے کے حق دار ہوں گے، اور ہر ایک اس گھر میں رہائش رکھنے کا حق رکھے گا۔ 

یہ صورت بھی ہے کہ مکان بیوی کو فروخت کردے،قیمت جو ملے لے،باقی اس پر ادھار رہے،ادھار پھر معاف کردیں،بیوی کی وفات کےحساب سے شرعی تقسیم ہوگی،پہلے فوت ہوئی تو تقسیم اور ہوگی،بعد میں فوت   ہوئی تو تقسیم اور ہوگی،اس پر غور کرلے،سائل جو بہتر سمجھے اس پر عمل کرلے۔

الجوهرة النيرة  میں ہے:

"قوله (ولا تجوز الوصية للوارث) لقوله - عليه السلام - «إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث .....(إلا أن يجيزها الورثة) يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون لأن الامتناع لحقهم فيجوز بإجازتهم وإن أوصى لأجنبي ولوارثه فللأجنبي نصف الوصية وتبطل وصية الوارث وعلى هذا إذا أوصى للقاتل وللأجنبي."

(کتاب الوصایا،باب الوصية للوارث، ج: 2، ص: 287، ط:المطبعة الخيرية.)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلب ‌أحد ‌الشريكين ‌القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما."

(‌‌كتاب القسمة، ج:5، ص:231، ط:الرشیدیة)

درر الحكام في شرح مجلة الاحكام میں ہے :

"إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر عنها ‌فيقسمه ‌القاضي ‌جبرا أي حكما إذا كان المال المشترك قابلا للقسمة؛ لأن القسمة هي لتكميل المنفعة والتقسيم في المال القابل للقسمة أمر لازم."

(باب في بيان القسمة ، المادة 1130، ج:3، ص:128، ط:دار الجيل)

الفتاوی البساطیة میں ہے:

"وسئل: في وقف موقوف أولاً على النفس ثم على الذرية أبداً ما تناسلوا ودائماً ما تعاقبوا للذكر مثل حظ الأنثيين ولم يصرح فيه بآخره للفقراء فهل يكون الوقف صحيحاً ويكون آخره للفقراء ؟ أم يكون الوقف باطلاً؟ أفيدونا

 

فأجاب: إن ثبت أنه وقف على الترتيب المذكور في السؤال لم يصح الوقف عند أبي يوسف؛ لأن تعيين الموقوف عليه يمنع إرادة غيره بخلاف ما إذا لم تعين فجعله إياه وقفاً للفقراء لأنه فرق بين قوله: "أرضي هذه "موقوفة" وبين قوله : "موقوفة على ولدي"، فصح الأول دون الثاني لأن مطلق قوله : "موقوفة " ينصرف إلى الفقراء عرفاً فإذا إذا ذكر الولد صار مقيداً فلا يبقىالعرف فعلم بهذا أن التأبيد شرط اتفاقاً على الصحيح وقد نص عليه المحققون من المشايخ.كما في الإسعاف."

(الفتاوى البساطية، كتاب الوقف، ص:٢١٤، ط: دار الرياحين)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101333

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں