بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 محرم 1448ھ 21 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وارث کا مورث کی طرف سے حج بدل اداکرنے کاحکم


سوال

میں نے اپنی طرف سے فرض حج ادا کیا،اب آئندہ سال والدمرحوم کی طرف سے حج بدل ادا کرنا چاہتاہوں،میرے والد مرحوم پر حج فرض تھالیکن بیمار ہونے کی وجہ سے کمزور تھے،اور حج کرنے کی ہمت نہیں کر پائے،چونکہ میرے والد مرحوم اس بات سے ناواقف تھے کہ حج بدل کی وصیت کی جاسکتی ہے۔

اب یہ پوچھناہے کہ:

(1)والد مرحوم کے بیمار ہونے کے باوجود حج فرض تھا؟یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے یہ فرضیت ساقط ہو چکی ہے۔

(2)اگر ان پر سے فرضیت ساقط نہیں ہوئی ہےتو میرے لیے کیاحکم ہے؟ کیا میں اس فرضیت کی ادائیگی حج بدل کی صورت میں کرسکتاہوں؟میں نے ان شاءاللہ آئندہ سال ویسے بھی جاناتھاتومیں نےسوچاکہ کیوں نہ والد مرحوم کی طرف سے حج بدل اداکروں۔لہٰذا مجھے یہ بتادیں کہ اگر ان پر حج فرض تھا اور حج بدل کی وصیت بھی نہیں کی ہے،تو اس صورت میں مجھے حج کی کیانیت کرنی چاہیے؟

اگر ان پر فرض نہیں تومجھے ان کوثواب پہنچانے کےلیے کیانیت کرنی چاہیے؟آیاحج  تطوع کرکے اس کاثواب پہنچایاجائےیاحج بدل کی نیت سےحج کرکےاس کاثواب پہنچ جایاجائے،تاکہ میر والد مرحوم کی خلاصی ہوجائے۔

جواب

(1)  بیمار ہونے کی وجہ سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی ہے،لہٰذاصورت مسئولہ میں بیمار ہونے کے باوجود ان پر حج فرض تھا۔

(2)چونکہ مرحوم سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوئی ،اور مرحوم نے حج بدل کی وصیت  بھی نہیں کی تھی،تو اس کے ورثامیں سے اگر کوئی اس کی طرف سے اپنی ذاتی رقم سے حج بدل ادا کرناچاہے ،تو اس سے مرحوم  کی طرف سے حج ادا ہوجائیگا،اور یہ مرحوم کے حق میں احسان اور نیکی ہوگی، اور اگر مرحوم والد کے متروکہ مال سے حج بدل کرنا چاہے تو ایسی صورت میں حج بدل کرنے والے وارث کے لیے ضروری ہوگا کہ دیگر ورثا سے اجازت لے کر پھر  جتناخرچ  حج ادا کرنے میں آتاہے وہ مرحوم کے ترکہ میں سے  لے کر حج بدل ادا کریں،اور   اس حج کی نیت  میں جس کی طرف سے حج ادا کررہاہے  احرام باندھتے وقت اس کی طرف سے حج کی نیت کریں ۔

مبسوط للسرخسی میں ہے:

"وحديث الخثعمية مشهور حيث قالت «يا رسول الله إن فريضة الله الحج أدركت أبى شيخا كبيرا لا يستطيع أن يستمسك على الراحلة أفيجزئني أن أحج عنه فقال صلوات الله تعالى عليه أرأيت لو كان على أبيك دين فقضيته أكان يقبل منك؟ قالت: نعم، فقال صلى الله عليه وسلم الله أحق أن يقبل» فدل أن أصل الحج يقع عن المحجوج عنه. وروي عن محمد - رحمه الله تعالى - أنه قال: للمحجوج عنه ثواب النفقة فأما الحج يكون عن الحاج، وهذا لأن الحج عبادة بدنية، والعبادات البدنية لا تجزي بالنيابة في أدائها؛ لأن الواجب عليه إنفاق المال في الطريق وأداء الحج، فإذا عجز عن أداء الحج بقي عليه مقدار ما يقدر عليه وهو إنفاق المال في الطريق فلزمه دفع المال لينفقه الحاج في طريق الحج، ولكن الأول أصح فإن فرض الحج لا يسقط بهذا عن الحاج."

(كتاب المناسك،باب الحج عن الميت وغيره،ج:4،ص: 148،دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأن الوصي لو دفع المال لوارث ليحج به لا يجوز إلا بإجازة الورثة وهم كبار لأنه كالتبرع بالمال، فلا يجوز للوارث بلا إجازة الباقين كما في الفتح."

(كتاب الحج،‌‌باب الحج عن الغير،ج:2،ص:602،ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101076

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں