
زمین کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ورثاء میں تقسیم ہوگیاہے،(زبانی تقسیم)مطلب حلقہ پٹوارمیں کسی قسم کے اندراج کی صورت میں یہ تقسیم نہیں ہوئی۔
زمین کا جعرافیہ کچھ اس طرح کا ہے کہ درمیان میں ایک روڈ گزررہا ہے، مقامی پٹواری نے جو تقسیم کے سلسلے میں ہمارے ساتھ تھا یہ تجویز پیش کی کہ وارثوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے حصہ میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے آرہے ہیں کتناہی اچھا ہوکہ ہروارث کو زمین کوایک ٹکڑا ملے۔بقول پٹواری (غیروارث)چونکہ روڈ کے اس پار کی زمین اور اس روڈ کے اس پار کی زمین کی قیمت ایک جیسی ہے بالکل برابر ہےتو بہتر یہی رہے گا کچھ بھائی روڈ کے ایک طرف اور کچھ بھائی روڈ کے دوسرے طرف چلے جائیں ،قرعہ اندازی کے ذریعے سب ورثاء نے مقامی پٹواری کی اس تجویز کو قبول کرلیاکہ چلو دونوں اطراف کی قیمت ایک ہے اور اس طرح ہر بھائی کو ایک بڑا ٹکڑابھی مل جائے گا،سب اس تجویز پر راضی ہوگئے اور قرعہ اندازی ہوگئی،اب کچھ عرصہ بعد اس بات کا علم ہوا،کہ دونوں اطراف کی زمین کی قیمت میں زمین آسمان کا فرق ہے،ایک طرف کی زمین کی فی کنال کی قیمت تقریبا60لاکھ روپے ہے اور دوسری طرف کی زمین کی قیمت 25لاکھ روپے فی کنال ہے، قیمت میں اتنے بڑے فرق کا علم ہونے پر ورثاء میں اختلاف پیداہوگیا ہے،جنگ وجدل کا قوی امکان ہے، شریعت اس تقسیم کے بارے میں کیا کہتی ہے جو مقامی پٹواری کے کہنےپر کہ دونوں اطراف کی قیمت ایک ہی ہے کی بنیاد پر ہوئی ہے ۔
مزید یہ کہ کسی بھی وارث کو زمین کی اصل قیمت کا ادراک قطعا نہیں تھا اور یہ تقسیم صرف زبانی ہوئی ہے حلقہ پٹوار میں کسی قسم کے اندراج کی صورت میں نہیں ہوئی ہے۔
شریعت اب اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا راہ نمائی فرماتی ہے تاکہ ہر وارث کے ساتھ انصاف بھی ہوجائے اورآنے والی نسلوں کے لئے وجہ عناد بھی باقی نہ رہے ،آیا یہ تقسیم درست ہے یا نہیں ؟اور شریعت کا اس حوالےسے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا ورثاء کے درمیان زمین کی تقسیم صرف پٹواری کے اس بیان کی بنیاد پر کی گئی کہ دونوں زمینوں کی قیمت برابر ہے، حالا ں کہ اس وقت ان کی قیمتوں میں نمایاں فرق موجود تھا اور تمام ورثاء اس سے لاعلم تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں زمینوں کی قیمت میں نمایاں فرق ہے، اوراب ورثاء بھی اس تقسیم پر راضی نہیں ہیں، تو ایسی تقسیم شرعاً معتبر نہیں ہوگی، اگرچہ ابتدائی طور پر سب نے رضامندی ظاہر کردی تھی، لہذا اب ازسرِنو تقسیم کرنا ضروری ہے۔
باہمی رضامندی سے مذکورہ زمین کی از سرِنوتقسیم مندرجہ ذیل طریقوں میں سے کسی ایک طریقے سے کی جاسکتی ہے:
روڈ کے دونوں جانب کی زمینوں کوسب ورثاء کے درمیان علیحدہ علیحدہ تقسیم کیا جائے۔
اگر کسی وارث کو زیادہ قیمت والی زمین پوری مقدار میں ملی ہو، تو وہ باقی ورثاء جن کو کم قیمت والی زمین میں حصہ ملاہےان کو قیمت کے فرق کے مطابق ادائیگی کردے۔
یا دونوں زمینوں کی موجودہ قیمت لگاکر مجموعی مالیت میں سے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دے دیا جائے۔
سنن الدار قطنی میں ہے:
"عن أنس بن مالك , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه."
(ج:3، ص:424، رقم الحدیث:2885، ط:بیروت لبنان)
ترجمہ: ”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کسی مسلمان کا مال اس کی خوش دلی اور رضا مندی کے بغیر (کسی کے لیے) حلال نہیں ہے۔“
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإذا مات الرجل وترك أرضين أو دارين فطلب ورثته القسمة على أن يأخذ كل واحد منهم نصيبه من كل الأرضين أو الدارين جازت القسمة وإن قال أحدهم للقاضي اجمع نصيبي من الدارين والأرضين في دار واحدة وفي أرض واحدة وأبى صاحبه قال أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - يقسم القاضي كل دار وكل أرض على حدة ولا يجمع نصيب أحدهم في دار واحدة ولا في أرض واحدة."
(کتاب القسمة، الباب الثانی فی بیان کیفیة القسمة، ج:5، ص:204، ط:رشیدیه)
شرح المجلۃ میں ہے:
"أما الأشجار والأبنية التي على العرصة والأراضي فتقسم بتقدير القيمة، ۔۔۔مثلا لو أراد اثنان تقسيم البستان المملوك لهما إرثا الحاوي أشجارا مختلفة القيمة فيقسمان العرصة بالذراع والأشجار بتقدير القيمة (البهجة) ."
(الکتاب العاشر فی الشرکات، باب فی بیان القسمة، الفصل الخامس فی بیان کیفیة القسمة، ج:3، ص:149، ط:دارالجیل)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"دار بين جماعة أرادوا قسمتها وفي أحد الجانبين فضل بناء فأراد أحد الشركاء أن يكون عوض البناء الدراهم وأراد الآخر أن يكون عوضه من الأرض فإنه يجعل عوضه من الأرض ولا يكلف الذي وقع البناء في نصيبه أن يرد بإزاء البناء من الدراهم إلا إذا تعذر فحينئذ للقاضي ذلك وإذا كان أرض أو بناء فعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه يقسم كل ذلك باعتبار القيمة وعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه يقسم الأرض بالمساحة ثم يرد من وقع البناء في نصيبه أو من كان نصيبه أجود دراهم على الآخر حتى يساويه فتدخل الدراهم في القسمة ضرورة وعن محمد - رحمه الله تعالى - أنه يرد على شريكه بمقابلة البناء ما يساويه من العرصة وإن بقي فضل ويتعذر تحقيق التسوية بأن لا تفي العرصة بقيمة البناء فحينئذ يرد الفضل دراهم كذا في الكافي."
(کتاب القسمة، الباب الثاني في بيان كيفية القسمة، ج:5، ص:205، ط:دارالفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101164
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن