بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثتی جائیداد سے حاصل شدہ پیداوار کی تقسیم کا حکم


سوال

ایک شخص کا انتقال ہوگیا۔ اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ مرحوم کی میراث میں ایک زمین ہے، جس سے 360 کلو گندم حاصل ہوئی۔ بھائیوں نے یہ پیداوار آپس میں تقسیم کرلی اور والدہ اور بہنوں کو حصہ نہیں دیا۔ اب ان بھائیوں میں سے ایک بھائی اپنی والدہ اور بہنوں کو ان کا حصہ دینا چاہتا ہے۔ وہ کس طریقے سے والدہ اور بہنوں کا حصہ ادا کرے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کےترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے  ترکہ  میں سے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ(اگر اب تک ادا نہ کیا گیا ہو یا کسی نے بطورِ قرض ادا کیا ہو، کو)  نکالنے  کے بعد ، اگر مرحوم کےذمہ کوئی قرض   ہو ، تو ترکہ سے اسے ادا کرنے کے بعد،  اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو ،تو  اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی  سے پوراکرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ  کو  64  حصوں میں تقسیم کرکے آٹھ  حصے مرحوم کی بیوہ کو، 14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 7 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم درج ذیل ہے:

مسئلہ:64/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
17
814141477

فیصدی اعتبار سے 12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 21.875 فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 10.937 فیصد مرحوم کی ہر بیٹی کو ملیں گے۔

یعنی 360 کلو گندم میں سے 45 کلو مرحوم کی بیوہ کا، 78.75 کلو مرحوم کے ہر ایک بیٹے کا، اور 39.375 کلو مرحوم کی ہر ایک بیٹی کا حق تھا۔ لیکن جب مرحوم کے بیٹوں نے والدہ اور بہنوں کو حصہ نہیں دیا اور کل گندم تین حصوں میں تقسیم کرکے ہر ایک بھائی نے 120 کلو گندم لے لی، تو اب اس تقسیم کو ختم کرکے یا تو ازسرِنو مذکورہ تفصیل کے مطابق تقسیم کی جائے، یا پھر ہر بھائی اپنے لیے لی گئی 120 کلو گندم میں سے 15 کلو والدہ کو اور 13.125 کلو ہر ایک بہن کو دے دے، تو یہ شرعی تقسیم کے مطابق ہوجائے گا اور ہر بیٹے کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔

کسی وارث کو میراث سے محروم کرنا جائز نہیں، روایت میں آتاہےکہ جوشخص کسی کی ایک بالشت زمین ظلماًدبائےگاقیامت کےدن وہ زمین سات زمینوں  تک اس کی گردن میں بطورِ طوق ڈال دی جائےگی۔ایک روایت میں آپ  ﷺ کاارشادہےجوشخص کسی کی چیزغصب کرےگاوہ ہم میں سےنہیں ہے۔اور روایت میں آتا ہے کہ جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔لہذا مرحوم کے بیٹوں پر لازم ہے  کہ وہ جلد از جلد اپنی والدہ اور بہنوں کا حصہ ادا کریں۔

ارشادِربّانی ہے:

"{لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ}  (سورۃ النسآء، الآیة:11)"

”لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے بقدر ہے۔“(معارف القرآن)

دوسرے مقام پر ارشاد ہے:

"{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ} (سورة النساء، الآیة:12)"

ترجمہ:”اور ان بیبیوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم چھوڑ جاؤ اگر تمہاری کچھ اولاد نہ ہو اور اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا۔“(از بیان القرآن)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."

(‌‌کتاب البیوع، ‌‌باب الغصب والعارية، الفصل الأول، 887/2، ط: المکتب الإسلامي)

”حضرت سعید ابن زیدسےرضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:جوشخص کسی کی ایک بالشت زمین ظلماًدبائےگاقیامت کےدن وہ زمین سات زمینوں  تک اس کی گردن میں بطورِ طوق ڈال دی جائےگی۔“(مظاہرحق)

وفیه أیضاً:

قال علیه الصلوة والسلام:"ومن انتهب نهبة ‌فليس ‌منا."

(‌‌کتاب البیوع، ‌‌باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، 889/2، ط: المکتب الإسلامي)

”اللہ کےرسول ﷺ نےفرمایا:جوشخص کسی کی چیزغصب کرےگاوہ ہم میں سےنہیں ہے۔”

وفیه أیضاً:

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌من ‌قطع ‌ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة".

(‌‌كتاب الفرائض والوصايا، ج:2، ص:926، ط:المكتب الإسلامي)

ترجمہ :حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا، (یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث."

(كتاب الفرائض، الباب الأول في تعريف الفرائض وفيما يتعلق بالتركة، ج: 6، ص: 447، ط: دار الفكر)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144711100019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں