بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثتی جائیداد میں ذاتی سرمایہ لگانے اور علیحدہ کمائی سے حاصل شدہ املاک کا شرعی حکم


سوال

1-میرے والد کا انتقال 1992ء میں ہوا۔ انتقال کے وقت ورثاء میں بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھیں۔ والد کے ترکے میں ایک گھر اور چار دکانیں تھیں،لہذا تقسیم میراث کیسے ہوگی؟

اسی طرح والد کے انتقال کے بعد ہم نے مندرجہ ذیل کا م کئے تھے،لہذا  ہر ایک  کے بارے میں  شرعی راہ نمائی فرمائیں:

2-سن 1997ء میں ہم نے والد کے گھر کی جگہ پر ایک عمارت (بلڈنگ) تعمیر کرنے کا ارادہ کیا۔ اس موقع پر کمرشل لائیزیشن اور دیگر اخراجات کے لیے میں نے اپنی ذاتی رقم سے 70 لاکھ روپے خرچ کیے۔ یہ رقم میں نے اپنے ذاتی ذرائع آمدن سے ادا کی تھی، نہ والد کے ترکے سے اور نہ بھائیوں سے کوئی رقم لی۔ رقم لگاتے وقت بھائیوں کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ بعد میں یہ رقم واپس لوں گا،البتہ یہ کام سب کے مشورے ہی سے ہوگیا تھا، تاہم انہیں اس رقم کے بارے میں مکمل علم تھا اور اب بھی کوئی انکار نہیں کر رہا ہے۔

3-سن 1999ء میں میں نے نارتھ ناظم آباد میں ایک پلاٹ اپنی ذاتی آمدن سے خریدا۔ اس پلاٹ کی خریداری میں نہ والد کے ترکے کی رقم شامل تھی اور نہ کسی بھائی یا ورثہ کی رقم۔

4-سن 2003ء میں ہم نے والد کا گھر بیچ دیا اور اس کی رقم سے سوا تین کروڑ روپے کی ایک بلڈنگ اور ڈیڑھ کروڑ روپے کی ایک دکان خریدی۔ بعد ازاں 2004ء میں میں نے اسی دکان میں اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا، جس میں جو سرمایہ لگایا گیا وہ میں نے بینک سے قرض لے کر حاصل کیا۔ اس کاروبار میں نہ بھائیوں کی رقم شامل تھی، نہ ترکے کی رقم،دکان میں کام، اسباب اور مالِ تجارت سب کچھ میری ذاتی کمائی سے خریدا گیا۔

5-پھر 2006ء میں میں نے زمینوں کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع کیا، اس کاروبار میں بھی جو سرمایہ لگایا گیا وہ میری ذاتی کمائی سے تھا۔ اسی سال میں نے 14 ایکڑ زمین خریدی، جس کے تمام پیسے میں نے خود ادا کیے۔ یہ زمین میں نے 2012ء میں اپنے نام منتقل کرائی اور 2017ء میں اسے 14 کروڑ روپے میں فروخت کیا، جس کے بعد میں نے ڈیفنس میں چھ کروڑ روپے کا ایک مکان خریدا۔

اب سوال یہ ہے کہ:

1-مرحوم والد کا ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟

  • 2-گھر کی تعمیر میں جو 70 لاکھ روپے میں نے خرچ کیے تھے، کیا وراثت کی تقسیم کے وقت میں وہ رقم ترکے سے واپس لے سکتا ہوں؟

3-میں نے 1999ء میں نارتھ ناظم آباد میں ایک پلاٹ اپنی ذاتی کمائی سے خریدا —کیا یہ پلاٹ میری ذاتی ملکیت ہے یا والد کے ترکے میں شامل سمجھا جائے گا؟

4-میں نے 2004ء میں ترکے کی دکان میں اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا، جس کا سرمایہ میں نے بینک قرضے سے حاصل کیا —کیا یہ کاروبار اور اس کا نفع میری ذاتی ملکیت شمار ہوگا یا والد کے ترکے کا حصہ ہوگا؟

5-میں نے 2006ء میں اپنی ذاتی کمائی سے زمینوں کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع کیا، 14 ایکڑ زمین خریدی اور 2017ء میں فروخت کر کے ڈیفنس میں مکان خریدا ـــــ-کیا یہ مکان میرا ذاتی اثاثہ شمار ہوگا یا والد کے ترکے میں شامل کیا جائے گا؟

جواب

1-صورتِ مسئولہ میں والدمرحوم کے ترکہ  سے ان کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات  اگر اب تک ادا نہ کیے گئے ہوں ،تو اس کو اداکرنے کے بعد،اگر ان پر کوئی قرض ہو تو  اس کو ادا کرنے کے بعد، اور اگر انہوں نے کوئی  جائز وصیت کی ہو تو  اُسے بقیہ ترکہ کے ایک تہائی  حصہ سے پورا کرنے کے بعد بقیہ کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو80حصوں میں تقسیم کر کے10 حصے بیوہ کو،14 ،14حصے مرحوم کے ہر ایک   بیٹے کو،7،7 حصے مرحوم کی  ہر ایک بیٹی کو ملیں گے ۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت-مرحوم والد :80/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹی
17
101414141477

یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5فیصد بیوہ کو،17.5فیصد ہر ایک بیٹے کو،8.75فیصد ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

2- صورتِ مسئولہ میں، جب سائل نے مشترکہ مکان میں تمام شرکاء کی اجازت اور مشورے سے اپنی ذاتی آمدنی میں سے 70 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں، تو سائل کو مرحوم کے   دیگر ورثاء سے مذکورہ رقم کے مطالبے کا شرعاً حق حاصل ہے۔

3- سائل کی ذاتی آمدنی سے نارتھ ناظم آباد میں  خریدا گیا پلاٹ، سائل کی ذاتی ملکیت شمار ہوگا، اور اس میں کسی بھائی یا دیگر وارث کا کوئی حق نہیں ہے۔

4- سائل کا 2004ء میں اپنی ذاتی آمدنی سے شروع کیا گیا کاروبار اور اس سے حاصل ہونے والا منافع بھی سائل کی ذاتی ملکیت ہے، اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں۔

5- سائل نے 2006ء میں اپنی ذاتی آمدنی سے زمینوں کی خرید و فروخت کا جو کاروبار کیا، اس میں استعمال شدہ رقم اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والا نفع و منافع بھی سائل ہی کی ملکیت ہے، کسی دوسرے شریک یا وارث کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و ما حصله أحدهما فله و ما حصلاه معا فلهما)
(قوله: و ما حصله أحدهما) أي بدون عمل من الآخر(الیٰ قولہ) مطلب: اجتمعا في دار واحدة و اكتسبا و لا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج و تكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها"

(کتاب الشرکة ،فصل فی الشرکة الفاسدۃ، ج: 4،ص:325،ط:سعید)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية:

"(أقول) وفي الفتاوى الخيرية سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اهـ"."

(کتاب الدعوی، ج: 2، ص: 17/18، ط: دار المعرفة)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"إذا عمر أحد الشريكين الملك المشترك ففي ذلك احتمالات أربعة:

"الاحتمال الثالث - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكا له فتكون التعميرات المذكورة ملكا للمعمر ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه. انظر المادة (831) وشرح المادة (906)"

(الکتاب العاشر، الباب الخامس، ج:3، ص:315، ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں