
میری والدہ کا انتقال 12 مارچ 2026 کو ہوا ہے ان کی وراثت کب تقسیم ہونی چاہئے؟کچھ ورثاء تقسیم وراثت کے فی الحال قائل نہیں ،اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
2- ہم تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں،(والدہ کا کوئی اور وارث نہیں ہے)ان میں والدہ کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟
3-والدہ کی وراثت میں جو آمدنی کرایہ کی مد میں آتی ہےاس کا کیا حکم ہے؟
4-بعض ورثاء یہ کہہ رہے ہیں کہ میت کے مال میں سے ایک بڑی رقم صدقہ کرنا ہے ،اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟نیز ورثاء میں سے کوئی وارث دوسرے ورثاء کے بغیر کوئی تصرف کرسکتا ہے؟
1-میت کے انتقال کے بعد میراث کی تقسیم میں حتی الامکان جلدی کرنی چاہیے ،بغیر کسی سخت مجبوری کے تاخیر کرنا درست نہیں،اگر مرحومہ کے بعض ورثاء فی الحال تقسیم وراثت کے قائل نہ ہوں، جب کہ بعض تقسیم کا مطالبہ کررہے ہوں، توایسی صور ت میں مرحومہ کی متروکہ تمام جائیدادوں کو شرعی اعتبار سے تقسیم کر کے ہر وارث کو اس کا حق دینا ضروری ہے، بعض ورثاء کے مطالبہ کے باوجود تقسیم میں تاخیر کرنا شرعاً جائز نہیں۔
2-صورت مسئولہ میں میت کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن دفن کی اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو اسے ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی میں سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ کے 11 حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو 2حصے اور ہرایک بیٹی کو ایک حصہ ملے گا۔
تقسیم کی صورت یہ ہے:
میت:11
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی 100 فیصد میں سے 18.181فیصد ہر ایک بیٹے کو اور 9.091 فیصد ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
3- مرحومہ والدہ کے ترکہ میں سے جو جائداد کرایہ پر دی ہوئی ہو اور ورثاء نے باہمی رضامندی سے کرایہ پر اس کو باقی رکھا ہو تو اب اس کے کرایہ میں تمام ورثاء اپنے اپنے شرعی حصص کے تناسب سے شریک ہوں گے۔
4-ترکہ میں کسی بھی وارث کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے ترکہ میں سے کسی بھی چیز کو دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر کسی کو ہدیہ،صدقہ یا فروخت کردے، یا اس میں کسی بھی قسم کا تصرف کرے۔البتہ اگرتمام ورثاء بالغ ہو، اور وہ باہمی رضامندی سے اس صدقہ یا کوئی بھی تصرف کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(وقسم) المال المشترك (بطلب أحدهم إن انتفع كل) بحصته (بعد القسمة وبطلب ذي الكثير إن لم ينتفع الآخر لقلة حصته) وفي الخانية: يقسم بطلب كل وعليه الفتوى، لكن المتون على الأول فعليها المعول"
( كتاب القسمة، ج:6، ص:260، ط:سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"دار بين رجلين نصيب أحدهما أكثر فطلب صاحب الكثير القسمة وأبى الآخر فإن القاضي يقسم عند الكل وإن طلب صاحب القليل القسمة وأبى صاحب الكثير فكذلك وهو اختيار الإمام الشيخ المعروف بخواهر زاده وعليه الفتوى."
(كتاب القسمة، الباب الثالث في بيان ما يقسم و مالا يقسم و ما يجوز من ذلك و ما لا يجوز۔ ج: 5، ص: 207، ط: رشيدية)
شرح المجلة للأتاسي میں ہے:
’’الأموال المشترکة شرکة الملک تقسم حاصلاتها بین أصحابها علی قدر حصصهم"
(ج:4،ص:14، المادۃ :1073، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة،ط: رشیدیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره."
(کتاب الشرکة،الباب الأول في بيان أنواع الشركة وأركانها وشرائطها وأحكامها،ج:2،ص:301،ط:رشیدیة)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص27، ط: دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100426
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن