بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ورثاء کوحکومت کی طرف سے دی جانے والی رقم کا حکم


سوال

میرا بھائی گل پلازہ میں شہید ہوگیاہے، جس پر گورنمنٹ ابھی پانچ لاکھ روپےدے رہی ہے، اور اس کے علاوہ ایک کروڑ روپے کا بھی اعلان کیاہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا رقم ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی؟

میت کے ورثاء میں ایک بیوہ،والدہ، ایک بیٹا،ایک بیٹی ،ایک بھائی اور ایک بہن ہے۔

وضاحت:

حکومت نے مرحومین کے اہل خانہ سے ایف ار سی(FRC)لے کر اس پردستخط لیے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے کسی کی وفات پر  جو رقم دی جاتی ہے ،اس کی حیثیت عطیہ کی  ہوتی ہے،  پس  حکومت جس کے نام پر یہ رقم جاری کرے، وہی اس کا مالک ہوتا ہے،مذکورہ حادثہ میں اگر واقعۃ حکومت نے وفات پانے والوں کے گھر والوں سے ایف ار سی(FRC)لے کر اس پر دستخط لیے ہیں تو اس ایف ار سی(FRC) میں موجود افراد کے لیے حکومت کی طرف سے دی جانے والی رقم عطیہ ہوگی اور  مرحوم کا ترکہ شمار نہیں ہوگی؛  لہٰذا صورت مسئولہ میں حکومت اگر مذکورہ رقم مرحوم  کی بیوہ اور بچوں کے نام پر جاری کرے، تو اس صورت میں مذکورہ رقم بیوہ اور بچوں میں برابر سرابر تقسیم کی جائے گی، جب کہ مرحوم کے والدین اور بھائی بہن کا کوئی حصہ نہیں ہوگا، البتہ اگر صرف بیوہ کے نام پر جاری ہو، یا صرف مرحوم کی اولاد کے نام پر دی جائے، تو وہی نامزد شخصیت اس رقم کی مالک ہوگی، خاندان کے دیگر افراد کا کوئی حق و حصہ نہیں ہوگا۔

البحر الرائق ميں ہے:

"الإرث ‌يجري في الملك."

(كتاب السير، باب الغنائم وقسمتها، ج:5، ص:92، ط:دار الكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

" لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله - سبحانه وتعالى - أعلم."

(كتاب الحدود، فصل في بيان صفات الحدود، ج:7، ص:57، ط: دار الكتب العلمية)

الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:

"‌‌‌الإرث ‌لغة: ‌بقاء ‌شخص ‌بعد ‌موت ‌آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي."

(الباب السادس: الميراث، الفصل الأول: تعريف علم الميراث، ج:10، ص:7697، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101368

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں