
ایک خاتون نے اپنے انتقال سے پہلے یہ وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میری اتنی رقم فلاں نجی ہسپتال میں دے دینا ،خاتون کے انتقال کے بعد ان کی اولاد مذکورہ ہسپتال کا وزٹ کرکے آئے ،لیکن وہاں کے نظام سے ان کو تشفی اور تسلی نہیں ہوئی،اب وہ کسی مدرسے میں وہ رقم وصیت کےمطابق دینا چاہتے ہیں تو کیا ان کا ایسا کرنا درست ہے؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ مرحومہ خاتون نے اپنی زندگی میں اپنے مال میں سے ایک مخصوص رقم ایک متعین ہسپتال میں دینے کی وصیت کی تھی تو حسب ضابطہ شرعی مرحومہ کے متروکہ مال میں ایک تہائی کے بقدر اس وصیت پر عمل کرنا ورثاء پر واجب ہے، ایک تہائی سے زائد ہونے کی صورت میں مرحومہ کے تمام عاقل بالغ ورثاء کی اجازت اور رضامندی ضروری ہوگی، باقی زیر نظر مسئلے میں مرحومہ کے ورثاء اس نجی ہسپتال کے نظام کے مالی معاملات سے اگر مطمئن نہیں ہیں اور وہ رقم اگر ورثاء کسی مدرسے میں دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، ایسا کرنا جائز ہے، بشرط یہ کہ وہ ایسا مدرسہ ہوکہ جہاں غریب مستحق زکاۃطلبہ زیر تعلیم ہوں جن کے قیام وطعام کاانتظام مدرسہ کے ذمہ ہو اور وہاں مفت تعلیم دی جاتی ہو۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو أوصى لفقراء بلخ فأعطى غيرهم جاز عند أبي يوسف وعليه الفتوى خلاصة وشرنبلالية."
(کتاب الوصایا،ج:6،ص:675،ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي المجتبى: أوصى بثلث ماله للكعبة جاز وتصرف لفقراء الكعبة لا غير وكذا للمسجد وللقدس وفي الوصية لفقراء الكوفة جاز لغيرهم.
وينبغي الإفتاء بأن الوصية للمسجد وصية لفقرائه في مثل الأزهر كذا حرر هذا المحل السائحاني - رحمه الله تعالى - وانظر ما في شرح الوهبانية (قوله جاز لغيرهم) قال في الخلاصة الأفضل أن يصرف إليهم وإن أعطى غيرهم جاز وهذا قول أبي يوسف، وبه يفتى."
(کتاب الوصایا،ج:6،ص:665،ط:سعید)
فقط و الله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706102034
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن