
واقعۂ غدیرِ خم اور حدیثِ «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» کی مکمل تاریخی و حدیثی پس منظر (سیاق و سباق)، واقعے کی تفصیلی وضاحت۔
اور اس حدیث سے متعلق شیعہ اعتراضات کے اہلِ سنت والجماعت کے مطابق علمی و تحقیقی جوابات مستند دلائل کے ساتھ فراہم فرما دیجیے۔
مذکورہ واقعے کا پس منظر کچھ یوں ہےکہ حجۃ الوداع سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف والی/عامل بنا کر بھیجا۔ وہاں انہوں نے محصولات وصول کیے، ان کی تقسیم کی اور بیت المال کا حصہ ادا کرنے کے بعد حج کی ادائیگی کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ ﷺ نے ان حضرات کو انفرادی طور پر سمجھایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عمل کی تصویب فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق تھا۔ مزید برآں آپ ﷺ نے انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا حکم دیا اور ان کے بارے میں دل میں کدورت یا میل رکھنے سے منع فرمایا۔ چنانچہ ان حضرات کے دل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے صاف ہوگئے اور وہ خود بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ محبوب ہوگئے۔
البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں۔ آپ ﷺ نے محسوس فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور ان کا حق مزید وضاحت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریم ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ اور حکیمانہ اسلوب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق واضح فرمایا اور جن لوگوں کے دل میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں دور فرمایا:«اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا:"أمسيت يا ابن أبي طالب مولى كل مؤمن ومؤمنة" (اے ابنِ ابی طالب! آپ ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔)
حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے موجود تھی، اور جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے وہ بھی اس ارشاد کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت سے سرشار ہوگئے۔
اس خطبہ سے رسول اللہ ﷺ کا مقصود یہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں۔ ان سے اور اہلِ بیت سے تعلق رکھنا ایمان کا تقاضا ہے، اور ان سے بغض، عداوت یا کدورت رکھنا ایمان کے منافی ہے۔
شیعہ اور روافض اس حدیث کو بنیاد بنا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت بلا فصل ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کا استدلال یہ ہے کہ اس حدیث میں "مولى" کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی أولى بالولاية یعنی سب سے زیادہ حق رکھنے والا اور ولایت میں مقدم ہے۔ اس پر وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ حدیث کے سیاق و سباق میں بھی "أولى" کا لفظ آیا ہے، جہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ألست أولى بكم من أنفسكم؟ اور وہاں اس سے مراد ولایت اور مقدم ہونا ہے۔ لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ یہاں بھی "مولى" سے یہی معنی مراد ہوگا۔
اس بنا پر شیعہ کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ ولایت اور قیادت کے حق دار ہیں، جیسے کہ اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ اس حق کے مالک اور مقدم تھے۔ لہٰذا حدیث میں ذکر کردہ "أولى" کا معنی أولى بالولاية ہے، نہ کہ الناصر یا المحبوب۔ کیونکہ اگر یہاں محبوب یا ناصر کے معنی مراد ہوتے تو تمام صحابہ کو جمع کرنے کی ضرورت باقی نہ رہتی اور نہ ہی دعا کی حاجت پیش آتی۔ مزید یہ کہ ایسی دعا صرف امام معصوم ہی کے لیے کی جاتی ہے۔ اس بنا پر شیعہ کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقام وہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کا مقام تھا، یعنی ان پر وہی حق ہے جو نبی کریم ﷺ کا صحابہ پر تھا۔
اہلِ سنت والجماعت نے اس استدلال کا تفصیلی جواب دیا ہے، جیسا کہ امام ابن حجر مکی نے الصواعق المحرقة میں ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق "مولى" کا وہ معنی نہیں جو شیعہ اور روافض نے لیا ہے، بلکہ اس کا معنی ناصر اور محبوب ہے۔ "مولى" ایک مشترک لفظ ہے جس کے کئی معانی ہیں: معتِق، عتيق، متصرف، ناصر، محبوب وغیرہ۔ کسی ایک معنی کو بلا دلیل متعین کرنا محض تحکم ہے۔
لغت اور شریعت میں "مولى" کو امام یا خلیفہ کے معنی میں لینا ثابت نہیں۔ کسی بھی لغوی امام نے یہ نہیں کہا کہ "مولى" کا مطلب "أولى بالإمامة" ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کی موالات پر زور اس لیے دیا تاکہ لوگ ان سے بغض نہ رکھیں اور ان کی قدر و منزلت کو پہچانیں۔ یہ تاکید حضرت علیؓ کے شرف اور مقام کو مزید واضح کرنے کے لیے تھی، نہ کہ خلافت کے اعلان کے لیے۔
اس خطبہ میں نبی کریم ﷺ نے عمومی طور پر اہلِ بیت کی محبت اور خصوصاً حضرت علیؓ کی محبت پر زور دیا۔ واقعہ یمن کے پس منظر میں بعض لوگوں نے حضرت علیؓ پر اعتراض کیا تھا، اس لیے نبی ﷺ نے ان کی فضیلت کو بیان فرمایا اور فرمایا: من كنت مولاه فعلي مولاه۔ اس کا مقصد حضرت علیؓ کی فضیلت اور محبت کو ظاہر کرنا تھا، نہ کہ خلافت کا اعلان۔
مزید تفصیلات کے لیے حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کی کتاب "تحفہ اثنا عشریہ"کی طرف رجوع کیا جائے۔
الاعتقاد للبیھقی میں ہے:
"فقد ذكرنا من طرقه في كتاب الفضائل ما دل على مقصود النبي صلى الله عليه وسلم من ذلك وهو أنه لما بعثه إلى اليمن كثرت الشكاة عنه وأظهروا بغضه فأراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يذكر اختصاصه به ومحبته إياه ويحثهم بذلك على محبته وموالاته وترك معاداته فقال: «من كنت وليه فعلي وليه» وفي بعض الروايات: من كنت مولاه فعلي مولاه اللهم وال من والاه وعاد من عاداه. والمراد به ولاء الإسلام ومودته، وعلى المسلمين أن يوالي بعضهم بعضا ولا يعادي بعضهم بعضا وهو في معنى ما ثبت عن علي رضي الله عنه أنه قال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي صلى الله عليه وسلم إلي «أنه لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق» . وفي حديث بريدة شكا عليا فقال النبي صلى الله عليه وسلم أتبغض عليا؟ فقلت: نعم، فقال: لا تبغضه وأحببه وازدد له حبا، قال بريدة: فما كان من الناس أحد أحب ألي من علي بعد قول رسول الله صلى الله عليه وسلم"
(باب اجتماع المسلمین علی بیعۃ ابی بکرالصدیق، ص:354، ط:دار الآفاق الجديدة - بيروت)
لمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"وعن البراء بن عازب وزيد بن أرقم: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما نزل بغدير خم أخذ بيد علي فقال: "ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ " قالوا: بلى،قال: "ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن من نفسه؟ " قالوا: بلى، فقال: "اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه". فلقيه عمر بعد ذلك فقال له: هنيئا يا ابن أبي طالب أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة. رواه أحمد [حم: 4/ 281].
۔۔۔۔
وقوله: (وعاد من عاداه) وزاد في رواية: (وأبغض من أبغضه، وانصر من نصره، واخذل من خذله، وأدر الحق معه حيث دار).
اعلم أن هذا الحديث أقوى ما تمسكت به الشيعة في ادعائهم النص التفصيلي المصرح بخلافة علي رضي الله عنه، فإنهم قالوا: المولى بمعنى: الأولى بالولاية، بدليل قوله: (ألست أولى بكم) لا الناصر والمحبوب، وإلا لما احتاج إلى جمعهم لذلك مع الدعاء له لأن ذلك يعرفه كل أحد، قالوا: ولا يكون هذا الدعاء إلا لإمام معصوم مفترض الطاعة، فلعلي عليهم من الولاء ما له صلى الله عليه وسلم عليهم منه، فهذا نص صريح على خلافته،وهذا حديث صحيح لا مرية فيه، وقد أخرجه جماعة كالترمذي والنسائي وأحمد، وطرقه كثيرة جدا، رواه ستة عشر صحابيا، وفي رواية لأحمد: أنه سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثون صحابيا، وشهدوا به لعلي صلى الله عليه وسلم لما نوزع أيام خلافته، وكثير من أسانيده صحاح وحسان، ولا التفات لمن قدح في صحته، ولا إلى قول بعضهم: إن زيادة: (اللهم وال من والاه)، إلى آخره موضوع، فقد ورد ذلك من طرق صحح الذهبي كثيرا منها، كذا قال الشيخ ابن حجر في (الصواعق المحرقة) (1).
وقال أيضا: ولكن نقول إلزاما للشيعة: إنهم اتفقوا على اعتبار التواتر فيما يستدل به على الإمامة، وهو منتف فيه للخلاف في صحته، وإن كان مردودا، بل الطاعنون في صحته جماعة من أئمة الحديث وعدوله المرجوع إليهم فيه، كأبي داود السجستاني وأبي حاتم الرازي وغيرهم، ولم يروه بعض المتقنين الحافظين الذين طافوا البلاد وساروا الأمصار في طلب الحديث كالإمام البخاري ومسلم والواقدي وغيرهم من أكابر أهل الحديث، وهذا وإن لم يخل بصحته لكن دعوى التواتر في مثله أعجب من كل عجب، وقد اشترطوا التواتر في أحاديث الإمامة.
هذا وقد رد عليهم أهل السنة والجماعة، وكلامهم في ذلك طويل مذكور في (الصواعق المحرقة) للشيخ ابن حجر المكي، ونحن نقلنا منه ما تيسر اختصارا، قال: لا نسلم أن معنى المولى ما ذكروه، بل معناه الناصر لأنه مشترك بين معان كالمعتق والعتيق والمتصرف في الأمر والناصر والمحبوب، وتعيين بعض معاني المشترك من غير دليل يقتضيه تحكم لا يعتد به، ونحن وهم متفقون على صحة إرادة الحب -بالكسر-
والناصر، وعلي رضي الله عنه سيدنا وحبيبنا وناصرنا، على أن كون المولى بمعنى الإمام لم يعهد لغة ولا شرعا، ولم يذكر أحد من أئمة اللغة أن مفعلا يأتي بمعنى أفعل، ويقال: هو أولى من كذا، دون: مولى من كذا، وأولى الرجلين دون مولاهما، فالغرض من التنصيص على موالاته الاجتناب من بغضه؛ لأن التنصيص عليه أوفى بمزيد شرفه، وصدره بـ (ألست أولى بكم من أنفسكم) ليكون أثبت على قبولهم إياه، وكذا بالدعاء له لأجل ذلك أيضا، ويرشد لما ذكرناه حثه صلى الله عليه وسلم في هذه الخطبة على أهل بيته عموما وعلى علي خصوصا، كما جاء عند الطبراني وغيره بسند صحيح، وأيضا سبب ذلك كما نقله الحافظ شمس الدين الجزري عن ابن إسحاق: أن عليا تكلم فيه بعض من كان معه في اليمن، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم حجه خطبها تنبيها على قدره وردا على من تكلم فيه كبريدة، كما ذكر في (صحيح البخاري) أنه كان يبغضه، وذكر الذهبي وصححه (1): أنه خرج معه إلى اليمن فرأى منه جفوة فنقصه للنبي صلى الله عليه وسلم، فجعل يتغير وجهه ويقول: (يا بريدة! ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم) قلت: بلى يا رسول الله، قال: (من كنت مولاه فعلي مولاه)، سلمنا أنه أولى، لكن لانسلم أن المراد أنه أولى بالإمامة بل بالاتباع والقرب منه فهو كقوله تعالى: {إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه} [آل عمران: 68] ولا قاطع ولا ظاهر على نفي هذا الاحتمال، بل هو الواقع، إذ هو الذي فهمه أبو بكر وعمر، وناهيك بهما في فهم الحديث، فإنهما لما سمعاه قالا له: أمسيت يا ابن أبي طالب مولى كل مؤمن ومؤمنة، أخرجه الدارقطني. وأخرج أيضا أنه قيل لعمر: إنك تصنع بعلي شيئا لا تصنعه بأحد من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إنه مولاي،سلمنا أولى بالإمامة، فالمراد المآل وإلا لكان هو الإمام مع وجوده صلى الله عليه وسلم، ولا تعرض فيه لوقت المآل، فكان المراد حين يوجد عقد البيعة له، فلا ينافي حينئذ تقديم الأئمة الثلاثة عليه، لانعقاد الإجماع حتى من علي فيه، للأخبار المصرحة بإبامة أبي بكر بعده صلى الله عليه وسلم، وكيف كان نصا على إمامته ولم يحتج به ولا العباس ولا غيرهما وقت الحاجة إليه، وإنما احتج به علي في خلافته، فسكوته عن الإفصاح إلى أيام خلافته قاض بأنه علم منه أنه لا نص فيه على خلافته عقب وفاة النبي صلى الله عليه وسلم، على أن عليا رضي الله عنه صرح بأنه صلى الله عليه وسلم لم ينص عليه ولا على غيره، كما جاء في الأخبار الصحيحة.
وفي (صحيح البخاري) وغيره خروج علي والعباس من عند النبي صلى الله عليه وسلم، الحديث، ولو كان حديث (من كنت مولاه) نصا في إمامة علي لم يحتج هو والعباس إلى مراجعته صلى الله عليه وسلم، ولما قال العباس: فإن كان هذا الأمر فينا علمناه، مع قرب العهد جدا بيوم الغدير نحو الشهرين، وتجويز النسيان على سائر الصحابة السامعين بخبر يوم الغدير وسترهم لذلك مع وجود العلم محال عادي، [يجزم العاقل بأدنى بديهته بأنه لم يقع منهم نسيان ولا تفريط] وأنهم كانوا حال بيعتهم لأبي بكر متذكرين لذلك الحديث عالمين [به وبمعناه]، على أنه صلى الله عليه وسلم خطب بعد يوم الغدير وأعلن بحق أبي بكر وعمر، وقال لهما: (لا يتأمر عليكما أحد بعدي)، أخرجه ابن سعد عن بسطام بن أسلم، وقد ثبت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما حث على مودة أهل بيته ومحبتهم واتباعهم، وشتان ما بينهما وبين مقام الخلافة.
وزعم الشيعة والرافضة بأن الصحابة علموا هذا النص، ولم ينقادوا له عنادا ومكابرة وظلما، وإنما تركه علي تقية، وهذا كذب وافتراء لأنه كان في منعة من قومه مع كثرتهم وشجاعتهم، وإذا احتج أبو بكر بخبر: (الأئمة من قريش)، فكيف سلموا له هذا الاستدلال؟ ولأي شيء لم يقولوا له: ورد النص على إمامة علي فكيف تحتج بمثل هذا العموم؟
وقد أخرج البيهقي عن أبي حنيفة رضي الله عنه أنه قال: أصل عقيدة الشيعة تضليل الصحابة، والرافضة يقولون بتكفيرهم؛ لأنهم غاندوا بترك النص على إمامة علي رضي الله عنهم أجمعين.
وقال القاضي أبو بكر الباقلاني: إن فيما ذهبت إليه الرافضة مما ذكر إبطالا للإسلام رأسا؛ لأنه إذا أمكن اجتماعهم على كتم النصوص أمكن منهم نقل الكذب والتواطؤ عليه لغرض، فيمكن أن سائر ما فعلوه من الأحاديث زور وباطل.
وأيضا ما المانع من قوله صلى الله عليه وسلم في خطبته السابقة يوم الغدير: هذا الخليفة بعدي، فعدوله إلى ما سبق من قوله: (من كنت مولاه) إلى آخره ظاهر في عدم إرادة ذلك، وقد أخرج أبو نعيم عن الحسن المثنى بن الحسين السبط أنه لما قيل له ذلك -أي: خبر (من كنت مولاه) نص في إمامة علي- فقال: أما والله لو كان يعني به النبي صلى الله عليه وسلم بذلك الإمارة والسلطان لأفصح لهم به، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أفصح الناس للمسلمين، ولقال لهم: يا أيها الناس هذا ولي أمري والقائم عليكم بعدي، فاسمعوا له وأطيعوا، فوالله لئن كان الله ورسوله اختارا عليا لهذا الأمر، والقيام به للمسلمين من بعده، ثم ترك علي أمر الله ورسوله أن يقوم به أو يعذر فيه إلى المسلمين، إن كان أعظم الناس خطيئة لعلي، إذ ترك أمر الله ورسوله وحاشاه من ذلك، وقد بينت بالدلائل الصحيحة أنه صلى الله عليه وسلم لم ينص على خلافة أحد، ثبت ذلك من كلام علي رضي الله عنه، والكلام في هذا المقامطويل، وهذا القدر يكفي لمن أنصف، ومن تعصب وزاغ فلا كلام معه إلا السكوت، والله أعلم وعلمه أحكم."
(باب مناقب علی بن ابی طالب، الفصل الثالث، ج:9، ص:664۔۔670، ط:دار النوادر، دمشق - سوريا)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101557
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن