
اگر دو آدمیوں کے درمیان قسطوں پر بیع ہوئی ہو، مثلاً: کوئی چیز 100000 روپے میں قسطوں پر بیچی گئی ہو اور ابھی قسطوں کی مدت باقی ہو پھر مشتری کہے کہ: “میں ابھی ساری رقم ادا کر دیتا ہوں، آپ کچھ اضافہ (منافع) معاف کر دیں” اور بائع راضی ہو جائے کہ: “ٹھیک ہے، اگر ابھی دے دیتے ہو تو میں کچھ رقم چھوڑ دیتا ہوں”، تو ایسا کرنا شرعا درست ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ کسی بھی معاملے میں (چاہے وہ نقد ہو، ادھار ہو، یا قسطوں کا معاملہ ہو) جانبین کی طرف سے مجلس عقد میں رقم کی ادائیگی کے متعلق جو طے ہوا ہو ، اس کی پاسداری کرنا دونوں پر لازم ہے، کسی ایک فریق کی طرف سے رقم کی جلد ادائیگی پر ڈسکاؤنٹ کی شرط لگانا،یا مشتری کا مثلا :قسط وقت مقررہ سے پہلے ادا کرنے کی صورت میں طے شدہ رقم میں کمی کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں مشتری کا بائع سے قسط کی رقم جلد ادا کرنے پر اضافی رقم معاف کرنے کا مطالبہ کرنا،اور یہ کہنا کہ :"میں ابھی ساری رقم ادا کردیتا ہوں،آپ کچھ اضافی (منافع) معاف کردیں"تو یہ شرعا درست نہیں ہے،بلکہ مذکورہ ایک لاکھ روپے ہی مشتری پر ادا کرنالازم ہوں گے۔
البتہ اگر بائع مشتری کے مطالبہ کےبغیر اپنی خوشی اور رضامندی سے ازخود کچھ رقم معاف کردے تو بائع کو شرعا یہ حق حاصل ہے ۔
درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة ٢٤٥) البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه
"البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح يصبح البيع بتأجيل الثمن وتقسيطه بشرط أن يكون:
أولا: بخلاف جنسه.وثانيا: أن يكون دينا لا عينا ليس للبائع أن يطالب بالثمن قبل حلول الأجل."
(الکتاب الاول البیوع،الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالثمن، الفصل الثانی، ج: 1، ص: 227، ط: دار الجیل)
العنایہ شرح الھدایہ میں ہے:
"(ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز) لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه،وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام.
(وكذا إذا كان له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة) فإنه لا يمكن حمله على الإسقاط (لأن المعجل) لم يكن مستحقا بالعقد حتى يكون استيفاؤه استيفاء لبعض حقه وهو (خير من النسيئة) لا محالة فيكون خمسمائة في مقابلة خمسمائة مثله من الدين (و) صفة (التعجيل في مقابلة الباقي وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام) روي أن رجلا سأل ابن عمر رضي الله عنهما فنهاه عن ذلك، ثم سأله فقال: إن هذا يريد أن أطعمه الربا.وهذا لأن حرمة ربا النساء ليست إلا لشبهة مبادلة المال بالأجل، فحقيقة ذلك أولى بذلك."
( کتاب الصلح، باب الصلح في الدين،ج: 8، ص: 426/427، ط: دار الفکر )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102104
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن