
اگر ٹھیکیدار وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرے اور کام میں تاخیر کرے تو اس پر جرمانہ لگانا یا اس کی مقررہ رقم سے کٹوتی کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
اگر ٹھیکیدار وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرے اور کام میں تاخیر کرے تو اس پر جرمانہ لگانا یا اس کی مقررہ رقم سے کٹوتی کرناجائز نہیں ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
(كتاب الحدود، باب حد القذف، فصل في التعزير، ج: 5، ص: 44، ط: دار الکتاب الإ سلامي)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
(كتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 61،62، ط: دار الفکر بیروت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100075
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن