بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرنے پر ٹھیکیدار پر جرمانہ لگانا یا طے کردہ رقم سے کٹوتی کرنا


سوال

اگر ٹھیکیدار وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرے اور کام میں تاخیر کرے تو اس پر جرمانہ لگانا یا اس کی مقررہ رقم سے کٹوتی کرنا جائز ہے یا ناجائز؟

جواب

اگر ٹھیکیدار وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرے اور کام میں تاخیر کرے تو اس پر جرمانہ لگانا یا اس کی مقررہ رقم سے کٹوتی کرناجائز نہیں ہے۔

 البحر الرائق میں ہے:

"وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(كتاب الحدود، باب حد القذف، فصل في التعزير، ج: 5، ص: 44، ط: دار الکتاب الإ سلامي) 

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(كتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 61،62، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612100075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں