بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرنے پر گاڑی کے مکینک پر جرمانہ لگانا یا طے کردہ رقم سے کٹوتی کرنا


سوال

کیا فرماتےہیں علماءدین ومفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کےبارے میں کہ میرااستعمال شدہ کار کو فروخت کرنے کابزنس ہے میں پرانی گاڑیاں لیتاہوں اور اس کو ریپیئر کرواکر بیچتاہوں ۔سوال یہ ہےکہ گاڑی ریپیئرکرنےوالا متعین وقت پر گاڑی نہیں بناتا بہت تاخیرکردیتاہے بعض اوقات چھ مہینہ اورسال بھی لگادیتاہے جس کی وجہ میرابہت نقصان ہوتاہے کیااس بات کی گنجائش ہے کہ میں تاخیرکرنے کی صورت میں گاڑی بنانےوالے کو جرمانہ کے طور پرکم قیمت اداکروں دلائل کی روشنی میں جواب دیں توعین نوازش ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ قرآنِ مجید اور احادیثِ  مبارکہ میں وعدہ پورا کرنے کی بہت تاکید آئی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت کم ایسا خطبہ دیا ہوگا جس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو:

"اس شخص کا کوئی   ایمان نہیں جس میں امانت نہیں، اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں وعدہ کی پاس داری نہیں۔

وعدہ کی پاس داری ایمان کے کمال کی نشانی ہے، اور وعدہ خلافی  کی عادت منافقوں کا شیوہ ہے؛ اس لیے جب وعدہ کیا جائے ،  خواہ انسان سے ہو خواہ اللہ جل شانہ سے تو حتی الامکان اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے، بلاعذر وعدہ توڑ دینے کو منافق کی نشانی  میں شمار کیا گیا ہے۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں گاڑی ریپیئرکرنے والا مکینک طے شدہ معاہدہ کےمطابق مقررہ وقت  پر گاڑی  تیار کر کےمالک کے حوالے کرنے کا  پابند ہے، اگر مکینک وسعت کے باوجود گاڑی  کی تیاری میں قصداً تاخیر کرتاہے   تووہ معاہدہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے کی وجہ سے گنہگار ہوگا ۔البتہ  وقت مقررہ پر کام پورا نہ کرنے اور کام میں تاخیر کرنے کی وجہ سے گاڑی ریپیئرکرنے والے مکینک پر جرمانہ لگانا یا اس کی مقررہ رقم سے کٹوتی کرناجائز نہیں ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن قتادة عن أنس بن مالك قال: قلما خطبنا نبينا صلى الله عليه وسلم، أو قال: النبي صلى الله عليه وسلم، إلا قال في خطبته: " لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له."

( السنن الكبرى للبيهقي ، باب ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات، ج: 6، صفحہ: 471، رقم الحدیث: 12690، ط:  دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

صحیح البخاری میں ہے:

"حدثنا سليمان أبو الربيع، قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر، قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان."

(صحیح البخاری، باب علامة المنافق، ج: 1، صفحہ: 16، رقم الحدیث: 33، ط: دار طوق النجاة)

 البحر الرائق میں ہے:

"وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(كتاب الحدود، باب حد القذف، فصل في التعزير، ج: 5، ص: 44، ط: دار الکتاب الإ سلامي) 

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."

(كتاب الحدود، باب التعزیر، ج: 4، ص: 61،62، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144609101525

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں