
میں نے ایک گھر خریدا تھا جس کا معاہدہ یہ ہوا تھا کہ مجھے 15 جنوری 2026 تک مکمل ادائیگی کرنی ہوگی، بصورتِ دیگر 15 جنوری کے بعد جو رقم بقایا ہوگی اس پر دس فیصد اضافے کے ساتھ ادائیگی کرنی ہوگی،کل واجب الاداء رقم 3 کروڑ 40 لاکھ(3,40,00,000) روپے تھی، چنانچہ میں نے مذکورہ تاریخ تک ڈیڑھ کروڑ تو ادا کر دئے، لیکن بقایا ایک کروڑ نوےلاکھ ادا نہ کر سکا، اب مذکورہ فریق اس بقایا رقم پر دس فیصد اضافے کا مطالبہ کررہا ہے۔
کیا اس اضافے کا مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟ اور کیا یہ سود کے زمرے میں نہیں آئے گا ؟
واضح رہے کہ کسی معاملے میں اس طرح طے کرنا کہ وقتِ مقررہ پراگر قیمت ادا نہ کی توقیمت پر مقررہ اضافہ بھی ادا کرنا ہوگا، درست نہیں ہے، یہ حرام اور سود ہے، جو لوگ اس کے مرتکب ہوتے ہیں ان کو اللہ و رسول ﷺ کی طرف سے اعلانِ جنگ کی وعید ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں گھر بیچنے والے کے لئے دس فیصد اضافی رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، نیز بائع و مشتری چونکہ معاملے کے شروع میں مذکورہ شرط پر رضامند تھے؛ اس لئے دونوں کو اس گناہ پر توبہ بھی کرنا چاہئے۔
قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالٰی ہے :
"فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ (البقرۃ :279)"
"ترجمہ :پھر اگر تم (اس پر عمل) نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا الله کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے (یعنی تم پر جہاد ہوگا) اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تم کو تمھارے اصل اموال مل جاویں گے نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائے گا۔(بیان القرآن)"
النتف فی الفتاوٰی للسغدی میں ہے :
"احدها ان يبيع رجلا متاعا بالنسيئة فلما حل الاجل طالبه رب الدين فقال المديون زدني في الاجل ازدك في الدراهم ففعل فان ذلك ربا."
(کتاب الولاء، الربا في الدين، ج :1، ص :485، ط :مؤسسة، الرسالة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100249
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن