بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1448ھ 23 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

واقف کے ورثاء کا متولی کو معزول کرنے کا حکم


سوال

 ایک شخص نے اپنی زندگی میں مسجد و مدرسہ کے لیے زمین وقف کی اور ایک عالم باعمل شخص کو اس کا متولی بنایا اور 22 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اور اس متولی کے اوپر کسی قسم کا کوئی شرعی اعتراض ان کے کردار اور عمل اور ان کے انتظام میں نہیں ہے۔ اور اس متولی نے اس شخص کی زندگی میں مسجد اور مدرسہ تعمیر کیا اور حفظ اور درس نظامی کا معیاری مدرسہ بھی وہ چلا رہے ہیں ۔واقف کی وفات کے بعد اس کی اولاد میں سے کچھ کا دعوی ہے کہ ہم اس کے مالک ہیں لہذا یہ مسجد کا نظام ہمارے حوالے کیا جائے اور اس کا محرک ذاتی رنجش اور محض غلط فہمیاں ہیں تو کیا ان کا یہ دعوی ملکیت درست ہے ۔

2۔  کیا اس متولی کو معزول کرنا محض ذاتیات اور غلط فہمیوں کی وجہ سے درست ہے؟

3۔  اگر کسی جرگے نے اس متولی کو معزول کر دیا تو ان ان کا یہ فیصلہ کیا  شرعی نقطہ نظر سے درست ہے؟ کیا متولی معزول ہو جائے گا حالانکہ جرگے کی اکثریت اس کو صحیح فیصلہ نہیں مانتی؟

 4۔ متولی کا  بجلی کے میٹر اپنے نام پر  لگوانا درست ہے یا نہیں ؟اگر متولی نے بجلی کے میٹر اپنے نام لگوائے ہوں  تو اس کو کیا قبضہ مافیا کہنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص اپنی ملکیت کی زمین شرعی طریقے سے مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کردے، تو وہ زمین اس کی ملکیت سے نکل کر  اللہ تعالی کی ملکیت میں چلی جاتی ہے ،اور وہ جگہ وقف ہوجاتی ہے، اس کے بعد نہ  تو خود واقف کو اور نہ ہی اس کے ورثاء کو اس وقف کو ختم کرکے دوبارہ اپنی ملکیت میں لینے یا اس میں مالکانہ تصرف کرنے کا حق رہتا ہے۔

1۔لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر واقف نے اپنی زندگی میں مذکورہ زمین مسجد و مدرسہ کے لیے وقف کرکے ایک شخص کو اس کا متولی مقرر کردیا تھا، اور اس متولی نے واقف کی زندگی میں ہی مسجد و مدرسہ کی تعمیر کرائی، اور گزشتہ بائیس (22) سال سے دیانت و امانت کے ساتھ وقف کے انتظامات انجام دے رہا ہے، نیز اس پر خیانت، نااہلی یا فسق کا کوئی شرعی ثبوت بھی موجود نہیں، تو واقف کی وفات کے بعد اس کے ورثاء کا اس وقف شدہ جائیداد پر ملکیت کا دعویٰ کرنا یا وقف کے انتظامات اپنے سپرد کرنے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ وقف شدہ جائیداد  پر واقف کے ورثاء  کا شرعا کوئی وراثتی حق نہیں ہوتا ۔

2۔3۔ اگر واقف کا مقرر کردہ متولی اگر  اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر انجام دے رہا ہو، اس سے خیانت یا نااہلی ثابت نہ ہو اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی سے عاجز بھی نہ ہو، تو محض ذاتی رنجش، اختلاف یا غلط فہمی کی بنیاد پر اسے معزول کرنا شرعاجائز نہیں۔ اسی بنا پر اگر کسی جرگے نے بھی محض ذاتی وجوہات کی بنیاد پر ایسے متولی کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا ہو، تو  ایسا فیصلہ شرعا معتبر نہیں ہوگا، اور اس سے متولی  بھی معزول نہیں ہوگا۔

البتہ اگر متولی سے خیانت، بددیانتی، فسق یا نااہلی ثابت ہوجائے تو ایسی صورت میں شرعی عدالت یا مجاز قاضی کو اسے معزول کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، محض ورثاء یا جرگے کو پھر بھی  یہ اختیار  نہیں ہوگا ۔

4۔متولی نے مسجد یا مدرسہ کے بجلی کے میٹر اپنے نام پر لگوائے ہیں، تو اگر یہ صرف سرکاری یا انتظامی ضرورت کے تحت ہو اور اس سے وقف شدہ جائیداد پر ذاتی ملکیت یا قبضہ جتانا مقصود نہ ہو، تو محض اپنے نام پر میٹر لگوانا شرعا ناجائز نہیں، اور نہ اس بنا پر اسے "قبضہ مافیا" کہنا درست ہوگا ۔ البتہ اگر اس کے ذریعے وقف شدہ جائیداد پر ناجائز قبضہ یا ذاتی ملکیت ثابت کرنے کی کوشش کی جائے تو  پھر حقائق کے مطابق  فیصلہ کیا جائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(جعل) الواقف (الولاية لنفسه جاز) بالإجماع، وكذا لو لم يشترط لأحد فالولاية له عند الثاني. وهو ظاهر المذهب نهر، خلافا لما نقله المصنف، ثم لوصيه إن كان وإلا فللحاكم فتاوى ابن نجيم وقارئ الهداية وسيجيء،(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف.....(غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح .(وإن شرط عدم نزعه) أو أن لا ينزعه قاض ولا سلطان لمخالفته لحكم الشرع فيبطل كالوصي ،فلو مأمونا لم تصح تولية غيره أشباه.

وفي الرد: مطلب في عزل الناظر (قوله: فلو مأمونا لم تصح تولية غيره) قال في شرح الملتقى إلى الأشباه لا يجوز للقاضي عزل الناظر المشروط له النظر بلا خيانة، ولو عزله لا يصير الثاني متوليا، ويصح عزل الناظر بلا خيانة لو منصوب القاضي أي لا الواقف وليس للقاضي الثاني أن يعيده وإن عزله الأول بلا سبب لحمل أمره على السداد إلا أن تثبت أهليته اه.وأما الواقف فله عزل الناظر مطلقا به يفتي."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:379، ط:ايج ايم سعید)

وفیہ ایضا:

"مطلب ولاية نصب القيم إلى الواقف ثم لوصيه ثم للقاضي (قوله: ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها وأن له عزل المتولي، وأن من ولاه لا يكون له النظر بعد موته أي موت الواقف إلا بالشرط على قول أبي يوسف."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:421، ط:سعید)

فتاوی ھندیہ میں ہے :

"وأما حكمه فعندهما زوال العين عن ملكه إلى الله تعالى وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - حكمه صيرورة العين محبوسة على ملكه بحيث لا تقبل النقل عن ملك إلى ملك والتصدق بالغلة المعدومة متى صح الوقف بأن قال: جعلت أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة أو أوصيت بها بعد موتي فإنه يصح حتى لا يملك بيعه ولا يورث عنه لكن ينظر إن خرج من الثلث والوقف فيه بقدر الثلث كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الوقف،الباب الأول، ج:2، ص:352، ط: الرشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100236

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں