بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

واقف کا وقف شدہ زمین واپس لینا


سوال

وقف کے بعد واقف کو موقوفہ جگہ واپس لینے کا اختیار ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقف کرنے سے وقف کردہ چیز واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں آجاتی ہے، بعد ازاں واقف  کو وقف سے رجوع کرنے یا وقف باطل کرکے موقوفہ چیز اپنی ملکیت میں لینے کا اختیار نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے وقف شدہ چیز میں مالکانہ تصرفات کاحق ہوتا ہے ، لہذا بصورتِ مسئولہ اگر وقف صحیح اور تام ہوچکا ہے، تو واقف کو مذکورہ موقوفہ جگہ واپس لینے کا اختیار نہیں ہوگا، وہ جگہ  جس   جہت اور مقصد کے لیے   وقف کی گئی ہے  اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔

البتہ اگر واقف نے موقوفہ جگہ کسی متولی و نگران کے حوالے کی ہو اور وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو واقف کو یہ حق حاصل ہے کہ اُسے معزول کر کے زمین واپس لے لے اور  کسی دوسرے شخص کو  اُس موقوفہ زمین پرمتولی نصب کردے، بہرحال وقف کالعدم کر کے زمین اپنی ملکیت میں لینے کا اختیار کسی صورت میں نہیں ہوگا ۔

 فتح القدیر میں ہے:

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد، فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولايورث".

 (کتاب الوقف، ج: 6، ص: 203، ط: دار الفکر)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما."

(کتاب الوقف، الباب الأول، ج: 2، ص: 350، ط: دار الفكر)

وفيه أيضاً:

"وأما حكمه فعندهما زوال العين عن ملكه إلى الله تعالى وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - حكمه صيرورة العين محبوسة على ملكه بحيث لا تقبل النقل عن ملك إلى ملك والتصدق بالغلة المعدومة متى صح الوقف بأن قال: جعلت أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة أو أوصيت بها بعد موتي فإنه يصح حتى لا يملك بيعه ولا يورث عنه لكن ينظر إن خرج من الثلث والوقف فيه بقدر الثلث كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الوقف، الباب الأول، ج: 2، ص: 352، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌الرجوع ‌عن ‌الوقف."

(كتاب الوقف، مطلب في إقالة المتولي عقد الإجارة، ج: 4، ص: 456، ط: سعيد)

وفيه ايضاً:

"(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف درر فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح، أو كان يصرف ماله في الكيمياء نهر بحثا (وإن شرط عدم نزعه) أو أن لا ينزعه قاض ولا سلطان لمخالفته لحكم الشرع فيبطل كالوصي فلو مأمونا لم تصح تولية غيره أشباه.

وفي الرد: مطلب في عزل الناظر (قوله: فلو مأمونا لم تصح تولية غيره) قال في شرح الملتقى إلى الأشباه لا يجوز للقاضي عزل الناظر المشروط له النظر بلا خيانة، ولو عزله لا يصير الثاني متوليا، ويصح عزل الناظر بلا خيانة لو منصوب القاضي أي لا الواقف وليس للقاضي الثاني أن يعيده وإن عزله الأول بلا سبب لحمل أمره على السداد إلا أن تثبت أهليته اه.وأما الواقف فله عزل الناظر مطلقا به يفتي."

(کتاب الوقف، ج: 4، ص: 380، ط: سعید)

فقط والله تعالى اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101329

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں