
واقف جب بغیر کسی شرط کے وقف کرکے کسی متولی کے حوالے کردے اور وہ متولی اس وقف شدہ جائیداد کے انتظام کو سنبھالنا شروع کردے تو کیا واقف اب اس متولی کی تولیت ختم کرکے خود یا اپنے کسی من پسند شخص کو متولی بناسکتا ہے؟
سوال کا پس منظر یہ ہے کہ اس بارے میں احناف کا مفتی بہ قول تو یہی ہے کہ وہ اس کی تولیت ختم کرسکتا ہے، لیکن آج کل مدارس اور مساجد کا جو معاملہ ہے اس میں اگر اس قول پر فتوی دیا جائے تو جو خرابیاں لازم آئیں گی وہ محتاج بیان نہیں، بلکہ بعض جگہوں پر اس طرح کے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ بعض واقفین نے مدرسہ کو وقف کی ہوئی جائیداد کی تولیت کی واپسی کا مطالبہ چالیس سال بعد کیا، تو کیا ایسی صورت میں امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر فتوی دیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے وقف تام ہونے کے بعد شرط نہ ہونے کی صورت میں واقف کو کوئی اختیار نہیں دیا ہے، جیسا کہ ہمارے بعض مشائخ نے بھی اس پر فتوی دیا ہے، نمونہ کے طور پر چند عبارات درج ذیل ہیں:
التصحیح والترجیح، ص:294، ط:دار الکتب العلمیۃ میں ہے:
"الواقف اذا شرط في الوقف الولاية لنفسه ولأولاده في عزل القوام والاستبدال بهم جاز، نص عليه فى السير الكبير، فلو لم يشترط قال محمد رحمه الله تعالى لا ولاية له، والولاية للقيم، ولو مات لا ولاية لوصيه، وعند ابى يوسف رحمه الله تعالى يصح بدون التسليم، فاذا سلم كان وكيلا ينعزل بموته الا اذا جعله قيما فى حياته وبعد وفاته، فحينئذ يصير قيما، والفتوى على قول محمد رحمه الله تعالى."
البحرالرائق (5/ 244) میں ہے:
"وقال أبو يوسف الولاية للواقف وله أن يعزل القيم في حياته وإذا مات الواقف بطلت ولاية القيم ومشايخ بلخ يفتون بقول أبي يوسف وقال الصدر الشهيد والفتوى على قول محمد. اهـ.."
رسائل ابن نجيم ص:98، ط:دار السلام ميں هے:
"الفتوى على ان الواقف لايملك عزل الناظر اذا لم يشترط ذلك في اصل الوقوف، وهكذا في غيره وهو قول محمد ."
الفتاوی المہدویہ ص:487 میں ہے:
"قد سئل العلامة الرملي عن عزل الناظر بغير جنحة، فاجاب قد صرح العلماء بانه لايجوز عزل الناظر ولاعزل صاحب وظيفة ما بغير جنحة، ولو عزله الحاكم لاينعزل بغير جنحة وللقاضى ابقائه."
اس کے علاوہ فتاوی محمودیہ جلد 14 صفحہ نمبر 375 پر ایک مسئلہ ہے اس سے بھی اشارہ ملتا ہے (بلاوجہ الگ کرنا درست نہیں)
امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر فتوی نہیں ہے، لہذا اگر واقف نے اپنے لیے وقف میں ولایت کی شرط نہ لگائی ہو تب بھی واقف کی زندگی میں اس کے لیے ولایت اور تولیت ثابت ہوگی، اور اس کو اپنے مقرر شدہ متولی کو معزول کرنے کا اور دوسرے متولی یا خود اپنے لیے ولایت لینے کا اختیار ہوگا، لیکن بلاوجہ ایسا کرنا مناسب نہیں ورنہ وقف کی ذمہ داری لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوگا۔
باقی اگر متولی کو معزول کرنے کے بعد واقف خود ولایت لے لے اور اس تولیت کے لینے سے وقف کا نظام اور مصالح معطل ہوجائیں تو ایسی صورت میں عدالت سے یا خود اہل مسجد ومدرسہ وغیرہ واقف کو تولیت میں خیانت کرنے کی وجہ سے معزول کرسکتے ہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها وأن له عزل المتولي، وأن من ولاه لا يكون له النظر بعد موته أي موت الواقف إلا بالشرط على قول أبي يوسف."
(كتاب الوقف، مطلب ولاية نصب القيم إلى الواقف ثم لوصيه ثم للقاضي، ج:4، ص:421، ط:سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفيها للواقف عزل الناظر مطلقا، به يفتى
قوله: للواقف عزل الناظر مطلقا) أي سواء كان بجنحة أو لا وسواء كان شرط له العزل أو لا وهذا عند أبي يوسف لأنه وكيل عنه وخالفه محمد كما في البحر: أي لأنه وكيل الفقراء عنده، وأما عزل القاضي للناظر فقدمنا الكلام عليه عند قوله وينزع لو غير مأمون إلخ (قوله: به يفتى) والذي في التجنيس والفتوى على قول محمد أي بعدم العزل عند عدم الشرط وجزم به في تصحيح القدوري العلامة قاسم وكذلك المؤلف أي ابن نجيم في رسائله وهو من باب الاختلاف في الاختيار. اهـ. بيري أي فيه اختلاف التصحيح.
قلت: وهو مبني على الاختلاف في اشتراط التسليم إلى المتولي فإنه شرط عن محمد فلا تبقى للواقف ولاية إلا بالشرط، وغير شرط عند أبي يوسف فتبقى ولايته فاختلاف التصحيح هنا مبني على اختلافه هناك."
(كتاب الوقف، مطلب للواقف عزل الناظر، ج:4، ص:427، ط:سعيد)
البحر الرائق میں ہے:
"فالحاصل أن الترجيح قد اختلف والأخذ بقول أبي يوسف أحوط وأسهل ولذا قال في المحيط ومشايخنا أخذوا بقول أبي يوسف ترغيبا للناس في الوقف ويبتني على هذا الخلاف مسائل الأولى لو عزل الواقف القيم وأخرجه إلى غيره بلا شرط أن له ذلك قال محمد لا ينعزل والولاية للقيم."
(کتاب الوقف، حکم الوقف، ج:5، ص:212، ط:دار الکتاب الاسلامی)
القانون العدل والانصاف لقدری پاشا میں ہے:
"ولاية نصب القيم الي الواقف، ثم لوصيه ان كان، ثم لوصيه ان كان، ثم للقاضي ان لم يكن له وصي، فيجوز للواقف أن يجعل الولاية لنفسه علي وقفه، وإن لم يشترطها لنفسه أو لغيره، فهي ثابتة له ما دام حيا .... فإن مات القيم المشروط له قبل الواقف، فللواقف ولاية نصب غيره، وله عزل القيم، وله عزل الناظر الذي نصبه مطلقا، سواء كان بجنحة أو لا، وسواء شرط لنفسه العزل أو لم يشترطه، بل وإن شرط علي نفسه عدم عزله."
(الباب الثالث فى ولاية الوقف وتصرف النظار في امور الوقف، الفصل الاول في الولاية علي الوقف، ص:108، ط:المكتبة المكية)
فتاوی ہندیۃ میں ہے:
"رجل وقف وقفا ولم يذكر الولاية لأحد قيل: الولاية للواقف، وهذا على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى -؛ لأن عنده التسليم ليس بشرط، أما عند محمد - رحمه الله تعالى - فلا يصح هذا الوقف ويفتى به كذا في السراجية.
وقف ضيعة له وأخرجها من يده إلى قيم ثم أراد أن يأخذها من يده فإن كان شرط لنفسه في الوقف أن له العزل والإخراج من يد القيم كان له ذلك وإن لم يكن شرط ذلك فعلى قول محمد - رحمه الله تعالى -: ليس له ذلك، وعلى قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى -: له ذلك، ومشايخ بلخ رحمهم الله تعالى يفتون بقول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وبهذا أخذ الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - وبه يفتى كذا في المضمرات."
(كتاب الوقف، الباب الخامس في ولاية الوقف وتصرف القيم في الأوقاف، ج:2، ص:408، 409، ط:رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولا يتم) الوقف (حتى يقبض) لم يقل للمتولي لأن تسليم كل شيء بما يليق به ففي المسجد بالإفراز وفي غيره بنصب المتولي وبتسليمه إياه ابن كمال
(قوله: وفي غيره) أي غير المسجد ونحوه مما ذكرناه. وفي القهستاني: أن التسليم ليس بشرط إذا جعل الواقف نفسه قيما، ولا يعتبر التسليم للمشرف؛ لأنه حافظ لا غير اهـ لكن فيه أن من شرط التسليم وهو محمد لم يصحح تولية الواقف نفسه ومن صححها وهو أبو يوسف لم يشترطه تأمل."
(کتاب الوقف، ج:4، ص:348، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف درر فغيره بالأولى (غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح،
(قوله: وينزع وجوبا) مقتضاه إثم القاضي بتركه والإثم بتولية الخائن ولا شك فيه بحر. لكن ذكر في البحر أيضا عن الخصاف أن له عزله أو إدخال غيره معه، وقد يجاب بأن المقصود رفع ضرره عن الوقف، فإذا ارتفع بضم آخر إليه حصل المقصود قال في البحر: قدمنا أنه لا يعزله القاضي بمجرد الطعن في أمانته بل بخيانة ظاهرة ببينة."
(کتاب الوقف، ج:4، ص:380، ط:سعید)
کفایت المفتی میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
"حق تولیت میں تغیر وتبدل کرنا واقف کے اختیار میں ہے، اس لیے ابطال نامہ کا یہ جزء بلاشبہ جائز ہے۔"
(کتاب الوقف، پانچواں باب تولیت وانتظام، ج:7، ص:160، ط:دار الاشاعت)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
سوال: (225) رحم علی نے چھ بیگہ خام اراضی بنام خدا عزوجل وقف کی، اور حق تولیت نسلاً بعد نسل ذاکر علی کو بذریعہ وقف نامہ سپرد کیا، قبضہ دے دیا گیا، بلاثبوت تغلب (خیانت) بر بناء رنجش جدید، رحم علی واقف چاہتا ہے، کہ ذاکر علی متولی نہ رہے، لیکن دوسرے اشخاص دیہہ ذاکر علی کے متولی رہنے سے خوش ہیں، صورت مسئولہ میں رحم علی کو کوئی حق اراضی وقف کی تولیت سے ذاکر علی متولی کو علیحدہ کرنے کا شرعاً حق حاصل ہے یا نہیں؟
الجواب: در مختار میں ہے: ولاية نصب القيم إلى الواقف قال فى الشامى: (قوله: ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها وأن له عزل المتولي، (شامى 3/ 409) وفيه:قبله وأما الواقف فله عزل الناظر مطلقا، به يفتى الخ (ص:386) پس معلوم ہوا کہ رحم علی واقف متولی مذکور کو بلاوجہ بھی معزول کرسکتا ہے۔
(وقف کا بیان، ج:13، ص:242، ط:دار الاشاعت)
فتاوی محمودیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے:
"مصالح وقف کی رعایت نہ رکھنے اور خلاف شرع عمل کرنے کی وجہ سے وہ مستحق عزل ہوتا ہے بعد تحقیق جماعت منتظمہ خود، یا کسی وقف بورڈ، یا حکومت کے ذریعہ سے اس کو معزول کرایا جاسکتا ہے۔"
(باب ولایۃ الوقف، ج:14، ص:343، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100386
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن