بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 صفر 1448ھ 09 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف شدہ زمین کو زیادہ کرایہ دینے والے کو کرایہ پر دینے کا شرعی حکم


سوال

ایک بندہ نے کچھ زمین مسجد کے لیے وقف کی تھی،اب وہ زمین کرایہ پر دی جاتی ہے اور اس کرایہ سے مسجد کا کا م چل رہا ہے۔ جس بندے نے زمین وقف کی تھی وہ خود فوت ہوگیا ہے، اب اس کا بیٹا وہ زمین پانچ سال کے لیے تین لاکھ کے بدلے کرایہ پر دینا چاہتا ہے،حالانکہ وہی زمین ایک اور بندہ پانچ سال کے پانچ لاکھ کے بدلے لینا چاہ رہا ہے، اور پیسے بھی فوراً ادا کرے گا، جب کہ تین لاکھ والا آدمی قسطوں میں ادا کرے گا۔

اب یہ اس پانچ لاکھ پر لینے والے کو نہیں دے رہا ہے،امام صاحب جو مسجد کے متولی ہیں ، ان کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ زمین اسی کو دی جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ زمین کس کو دینی چاہیے تین لاکھ والے کو یا پانچ لاکھ والے کو ؟ نیز جو قیمت بھی ملے گی وہ مسجد کے کام  میں استعمال ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ مسجد کے لیے وقف شدہ زمین کو کرایہ پر دیتے وقت متولی پر لازم ہے کہ وہ وقف اور مسجد کی مصلحت اور زیادہ سے زیادہ فائدے کو پیشِ نظر رکھے، اور موقوفہ زمین ایسے شخص کو کرایہ پر دے جس میں وقف کا زیاد ہ  فائدہ ہو۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر ایک شخص پانچ سال کے لیے پانچ لاکھ روپے کرایہ دینے پر آمادہ ہے اور پوری رقم بھی فوراً ادا کرنے کو تیار ہے، جبکہ دوسرا شخص اسی مدت کے لیے صرف تین لاکھ روپے وہ بھی قسطوں میں دینے پر آمادہ ہے، تو وقف کی مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ موقوفہ زمین پانچ لاکھ روپے دینے والے شخص کو کرایہ پر دی جائے؛ کیونکہ اس میں وقف اور مسجد کا زیادہ فائدہ ہے۔

نیز واقف کے بیٹے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے موقوفہ زمین کم کرایہ پر دے۔ بلکہ یہ اختیار متولی کو حاصل ہے، اور اس پر لازم ہے کہ وہ وقف کی مصلحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے موقوفہ زمین ایسے شخص کو کرایہ پر دے جس سے وقف اور مسجد کو زیادہ فائدہ حاصل ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما كذا في شرح أبي المكارم للنقاية وإنما يزول ملك الواقف عن الوقف عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - بالقضاء".

(كتاب الوقف، الباب الأول في تعريف الوقف وركنه......، ج : 2، ص : 350، ط : رشیدیه)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويؤجر) بأجر (المثل) ف (لا) يجوز (بالأقل)ولو هو المستحق قارئ الهداية إلا بنقصان يسير أو إذا لم يرغب فيه إلا بأقل أشباه."

(كتاب الوقف، فصل إجارة الواقف، ج:4، ص: 402، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"فصل يراعى شرط الواقف في إجارته فلم يزد القيم بل القاضي لأن له ولاية النظر لفقير وغائب وميت (فلو أهمل الواقف مدتها قيل تطلق) الزيادة للقيم (وقيل تقيد بسنة) مطلقا (وبها) أي بالسنة (يفتى في الدار وبثلاث سنين في الأرض) إلا إذا كانت المصلحة بخلاف ذلك وهذا مما يختلف زمانا وموضعا وفي البزازية: لو احتيج لذلك يعقد عقودا فيكون العقد الأول لازما لأنه ناجز والثاني لا لأنه مضاف. قلت: لكن قال أبو جعفر الفتوى على إبطال الإجارة الطويلة ولو بعقود ذكره الكرماني في الباب التاسع عشر وأقره قدري أفندي.

واعلم أن المسألة فيها ثمانية أقوال ذكرها العلامة قنالي زاده في رسالته أحدها: قول المتقدمين عدم تقدير الإجارة بمدة ورجحه في أنفع الوسائل والمفتى به ما ذكره المصنف خوفا من ضياع الوقف كما علمت.(قوله: إلا إذا كانت المصلحة بخلاف ذلك) هذا أحد الأقوال الثمانية، وهو ما ذكره الصدر الشهيد من أن المختار أنه لا يجوز في الدور أكثر من سنة إلا إذا كانت المصلحة في الجواز، وفي الضياع يجوز إلى ثلاث سنين إلا إذا كانت المصلحة في عدم الجواز وهذا أمر يختلف باختلاف المواضع واختلاف الزمان اهـ وعزاه المصنف إلى أنفع الوسائل وأشار إلى أنه لا يخالف ما في المتن لأن أصل عدول المتأخرين عن قول المتقدمين بعدم التوقيت إلى التوقيت إنما هو بسبب الخوف على الوقف فإذا كانت المصلحة الزيادة أو النقص اتبعت، وهو توفيق حسن."

(کتاب الوقف ،فصل فی اجارہ الواقف،ج:4،ص:400-401،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100780

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں