بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف شدہ زمین کو بیچنے کا حکم


سوال

ہمارے نانا نے زمین کا ایک ٹکڑا مسجد کے لیے وقف کیا،تا کہ اس زمین سے کاشت کاری کے ذریعے نفع کو مسجد کےاخراجات پر خرچ کریں،یہ گاؤں کی مسجد ہے،اور اس کے ساتھ مدرسہ ہے،مسجد و مدرسہ کی انتظامیہ ایک ہی ہے،نانا نے زمین وقف کی تھی 1984 میں ،مدرسہ کے تین مہتمم آئے اور گزر گئے،سب نے اس وقف شدہ زمین کو ایسے ہی استعمال کیا،کہ وہ کاشت کاری کے لیے استعمال ہوئی اور اس کا نفع مسجد پر خرچ ہوتا تھا،لیکن اب چوتھا مہتمم آیا ہے، اور اس نے زمین (وقف شدہ)بیچ کر (کیوں کہ اس کو زمین خالی لگی)وہ پیسے مدرسہ کے اخراجات کے لیے استعمال کرلیے اور کمرہ وغیرہ بنایا۔

اب سوال یہ ہے:کہ کیا مہتمم اس وقف شدہ زمین کو بیچ سکتا ہےیا نہیں؟اگر بیچ سکتا ہے تو پھر زمین کے مالکان(یعنی جنہوں نے اس زمین کو وقف کیا)ان کی اپنی زمین اس زمین کے ساتھ متصل ہے،کیا ان کو حق شفعہ حاصل ہےیا نہیں؟مدرسےوالوں نے اس زمین کو ہم سے مشورہ کیے بغیر کسی اور کو بیچ دی۔

جواب

واضح رہے کہ کسی چیز کو جب ایک دفعہ وقف کر دیا جائے تو اس میں تبدیلی کرناشرعاً جائز نہیں، کیوں کہ وہ واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست ہو تو مہتمم صاحب کا اس زمین کو بیچنا شرعاً جائز ہی نہیں تھا، چہ جائےکہ اس کو مدرسے کے اخراجات میں استعمال کیا جائے، لہذا اس موقوفہ زمین کو واپس کر کے حسبِ سابق جس طرح واقف نے وقف کیا تھا اسی مد میں استعمال کیا جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"والحاصل أن ههنا مسألتين: الأولى أن بيع الوقف باطل ولو غير مسجد خلافا لمن أفتى بفساده."

(كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، ج:5، ص:57، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100815

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں