
ایک شخص نے گاؤں میں کچھ زمین مسجد کے لیے وقف کی تھی اور اہلِ محلہ کے حوالے کر دی تھی، جس پر اہلِ محلہ نے کچھ کام بھی شروع کر دیا۔ اب وقف کرنے والے کی اولاد کہتی ہے کہ مسجد ہم خود تعمیر کریں گے، مسجد کا اختیار بھی ہمارا ہوگا اور امام کی تعیین بھی ہم ہی کریں گے، جبکہ اس وقت اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔ دوسری طرف اہلِ محلہ اس بات سے متفق نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اختیار بھی اہلِ محلہ کا ہوگا اور امام کی تعیین بھی اہلِ محلہ کریں گے۔ اہلِ محلہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم اس وقف شدہ جگہ پر مسجد تعمیر نہیں کریں گے بلکہ کسی دوسری جگہ مسجد بنا رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس وقف شدہ جگہ پر کام بند کرکے دوسری جگہ مسجد بنا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں، تو اس کی کوئی اور جائز صورت کیا ہو سکتی ہے؟
واضح رہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز کو وقف کر دیتا ہے تو موقوفہ چیز اس کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد نہ واقف کو اس میں ذاتی تصرف کا اختیار باقی رہتا ہے اور نہ ہی اس کے ورثاء کو، بلکہ اس وقف شدہ چیز کو صرف انہی مقاصد کے مطابق استعمال کرنا لازم ہوتا ہے جن کے لیے اسے وقف کیا گیا ہو۔
اسی طرح اگر واقف اپنی زندگی میں کسی کو متولی مقرر کر دے، تو اس متولی کو محض ذاتی خواہش یا خاندانی بنیاد پر معزول کرنے کا اختیار نہ واقف کے ورثاء کو حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی دیگر افراد کو، الا یہ کہ متولی میں خیانت،عجز یا نااہلی پائی جائے۔ مزید برآں، جو جگہ ایک مرتبہ مسجد کے لیے وقف ہو کر مسجد بن جائے، وہ تا قیامت مسجد ہی رہتی ہے؛ اس کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنا یا بلا ضرورت اس کا کام بند کر دینا شرعاً درست نہیں، کیونکہ یہ وقف کے مقصد کے خلاف اور اس کی حرمت کے منافی ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب کسی شخص نے اپنی زمین مسجد کے لیے وقف کرکے اہلِ محلہ کے حوالے کردی اور اہل محلہ نےاس زمین پر مسجد کی تعمیر کا آغاز بھی کردیا، تو اب وہ زمین شرعاً مسجد کے حکم میں آچکی ہے اور واقف کی ملکیت سے نکل چکی ہے۔ اس کے بعد نہ واقف کے ورثاء کو اس میں ذاتی اختیار حاصل ہے اور نہ ہی وہ اس بنیاد پر کوئی خصوصی حق جتا سکتے ہیں کہ ہم مسجد خود تعمیر کریں گے یا امام و انتظام کی تعیین صرف ہمارا حق ہوگا، کیونکہ وقف کے بعد یہ معاملہ ذاتی ملکیت نہیں بلکہ مقاصدِ وقف کے تابع ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ چونکہ مذکورہ جگہ وقف ہو کر مسجد کے لیے متعین ہوچکی ہے اور اس پر کام بھی شروع ہوچکا ہے، اس لیے محض باہمی اختلاف کی وجہ سے اس کام کو روک دینا اور دوسری جگہ نئی مسجد تعمیر کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے وقف کے مقصد میں خلل اور اہلِ محلہ میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ اسی وقف شدہ جگہ پر مسجد کی تعمیر کو مکمل کیا جائے اور نزاع کو ختم کرنے کے لیےآپس میں باہمی مشاورت سے کوئی مناسب صورت نکالی جائے۔
چناچہ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ انفرادی اختیار کا دعوی چھوڑ دیں،کچھ دیندار و معتمد افراو پرمشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیں،اور اسی مسجد کی تکمیل میں سب مل کر حصہ لیں،ورثاء اگر خدمت کرنا چاہیں تو یہ ایک نیکی کا کا م ہے لیکن اسے اپنے خصوصی اختیار اور ملکیت کا ذریعہ بنانا درست نہیں ہوگا ، اس طرح نہ صرف مقصدِ وقف برقرار رہے گا بلکہ اہل علاقہ کا اتحاد بھی قائم ہوگا۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث كذا في الهداية وفي العيون واليتيمة إن الفتوى على قولهما."
(کتاب الوقف،الباب الأول، ج:2، ص:350،ط: الرشيدية)
وفيه أيضاً:
"وأما حكمه فعندهما زوال العين عن ملكه إلى الله تعالى وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - حكمه صيرورة العين محبوسة على ملكه بحيث لا تقبل النقل عن ملك إلى ملك والتصدق بالغلة المعدومة متى صح الوقف بأن قال: جعلت أرضي هذه صدقة موقوفة مؤبدة أو أوصيت بها بعد موتي فإنه يصح حتى لا يملك بيعه ولا يورث عنه لكن ينظر إن خرج من الثلث والوقف فيه بقدر الثلث كذا في محيط السرخسي."
(کتاب الوقف،الباب الأول، ج:2، ص:352،ط:الرشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(جعل) الواقف (الولاية لنفسه جاز) بالإجماع، وكذا لو لم يشترط لأحد فالولاية له عند الثاني. وهو ظاهر المذهب نهر، خلافا لما نقله المصنف، ثم لوصيه إن كان وإلا فللحاكم فتاوى ابن نجيم وقارئ الهداية وسيجيء،(وينزع) وجوبا بزازية (لو) الواقف.....(غير مأمون) أو عاجزا أو ظهر به فسق كشرب خمر ونحوه فتح .(وإن شرط عدم نزعه) أو أن لا ينزعه قاض ولا سلطان لمخالفته لحكم الشرع فيبطل كالوصي ،فلو مأمونا لم تصح تولية غيره أشباه.
وفي الرد: مطلب في عزل الناظر (قوله: فلو مأمونا لم تصح تولية غيره) قال في شرح الملتقى إلى الأشباه لا يجوز للقاضي عزل الناظر المشروط له النظر بلا خيانة، ولو عزله لا يصير الثاني متوليا، ويصح عزل الناظر بلا خيانة لو منصوب القاضي أي لا الواقف وليس للقاضي الثاني أن يعيده وإن عزله الأول بلا سبب لحمل أمره على السداد إلا أن تثبت أهليته اه.وأما الواقف فله عزل الناظر مطلقا به يفتي."
(کتاب الوقف، ج:4، ص:379، ط: سعید)
وفيه أيضاً:
"مطلب ولاية نصب القيم إلى الواقف ثم لوصيه ثم للقاضي (قوله: ولاية نصب القيم إلى الواقف) قال في البحر قدمنا أن الولاية للواقف ثابتة مدة حياته وإن لم يشترطها وأن له عزل المتولي، وأن من ولاه لا يكون له النظر بعد موته أي موت الواقف إلا بالشرط على قول أبي يوسف."
(کتاب الوقف، ج:4، ص:421، ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية."
(كتاب الوقف،الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع،ج:2،ص:362،ط:الرشيدية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709101978
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن