بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف شدہ قبرستان کی جنازگاہ کی چھت پر مدرسہ تعمیر کرنے کا حکم


سوال

ایک بہت بڑی  جنازگاہ ہے ،جسے لوگ پہلے گراؤنڈ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ بعد ازاں ایک منسٹر صاحب جو نہایت نیک دل ہیں ،انہوں نے اسے مکمل طور پر محفوظ کر دیا۔ انہوں نے جنازہ گاہ کی تعمیر کروائی، جس کی دو چھتیں بنی ہوئی ہیں، جبکہ تیسری چھت پر چار دیواری بھی قائم کی گئی ہے،اب وہ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ حکومتی فنڈ سے تیسری چھت پر مدرسے کی تعمیر کی جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا اس تیسری چھت پر مدرسہ تعمیر کرنا جائز ہے؟

وضاحت :قبرستان وقف شدہ ہے، اور جنازہ گاہ بھی اسی موقوفہ قبرستان کی زمین میں بنائی گئی ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جسے لوگوں  جنازہ گاہ کے طور پر استعمال  کرتے آرہے ہے ،لیکن وہ اصل میں قبرستان ہی کی زمین ہے ،مگر لوگ اس میں  تدفین نہیں کرتےہے۔ اب اس جگہ پر سرکاری فنڈ  سے جنازہ گاہ  تعمیر کی گئی ہے۔

 

جواب

واضح رہے کہ جب وقف مکمل ہوجائے   تو موقوفہ چیز ہمیشہ کے لیے واقف کی ملکیت سے نکل کراللہ کی ملکیت میں  چلی جاتی ہے، واقف نے زمین جس مقصد کے لیے وقف کی ہو تو اس موقوفہ زمین  کو اسی جہت میں استعمال کرنا ضروری ہوتاہے ،لہذا صورت مسئولہ میں وقف قبرستان تدفین کے لیے استعمال کرنا چاہیے، تاہم اگر علاقہ والوں کو مذکورہ جگہ میں تدفین کی حاجت نہ ہو  تو اس جگہ کو جنازہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا جائز ہوگا،کیونکہ  جنازہ گاہ قبرستان کی مصالح میں سے ہے۔تاہم اس کی چھت پر مدرسہ بنانے کی شرعی اجازت نہیں ۔

عمدۃ القاری میں ہے؛

 ‌" هل ‌يجوز ‌أن ‌تبنى ‌على ‌قبور ‌المسلمين؟ ‌قلت: ‌قال ‌ابن ‌القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد."

(كتاب الصلاة،باب الصلاة في مرابض الغنم،ج:4، ص:179، ط:ودار الفكر - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي فتاوى الشيخ قاسم: وما كان من شرط معتبر في الوقف فليس للواقف تغييره ولا تخصيصه بعدتقرره ولا سيما بعد الحكم. اهـ. فقد ثبت أن الرجوع عن الشروط لا يصح إلا التولية ما لم يشرط ذلك لنفسه فله تغيير المشروط مرة واحدة إلا أن ينص على أنه يفعل ذلك كلما بدا له وإلا إذا كانت المصلحة اقتضته، فاغتنم هذا التحرير."

(کتاب الوقف ،مطلب  لا يجوز الرجوع عن الشروط،ج :4،  ص:459، ایچ ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے: 

"‌البقعة ‌الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية."

(كتاب الوقف، الباب الثاني فيما يجوز وقفه وما لا يجوز وفي وقف المشاع، ج:2،  ص:362،  ط:دار الفكر  بيروت)

وفيہ أيضاً:

"سئل القاضي الإمام شمس الأئمة محمود الأوزجندي عن مسجد لم يبق له قوم وخرب ما حوله واستغنى الناس عنه هل يجوز جعله مقبرة؟ قال: لا. وسئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة."

(‌‌الباب الثاني عشر في الرباطات والمقابر والخانات والحياض، ج:2، ص:470، ط: دار الفكر  بيروت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

" جنازہ گاہ قبرستان کے مصالح میں سے ہے۔"

(کتاب الجنائز،ج:3 ، ص:120،ط:ادراہ الفاروق کراچی)

وفیہ ایضاً:

" اگر جنازہ گاہ کا وقف ہےتو اس کو تعلیمی کمرہ میں تبدیل کرنا جائزنہیں اس لیے کہ چھت وقف کا بدلنا صحیح نہیں۔"

(کتاب الجنائز،ج:3 ، ص:121،ط:ادراہ الفاروق کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710101723

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں