
ایک ادارے کے ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہم کئی سالوں سےصوبہ بلوچستان ضلع پشین میں اجتماعی وقف قربانی کرتے آرہے ہیں، اور ٹرسٹ انتظامیہ ہمیں فی جانور مخصوص رقم دیتی ہے، مثلاً فی جانور ، 1،30،000 ، لیکن بعض مرتبہ یہ مشکل پیش آتی ہے کہ دی گئی رقم میں جانور نہیں ملتا ، جانور اس سے مہنگا ہوتا ہے، حتی کہ بعض مرتبہ کمزور جانور بھی نہیں ملتا، جس سے محض قربانی صحیح ادا ہو سکے،تو ہمارا ایک چھوٹا سا ٹرسٹ ہے، اپنےگاؤں کی سطح پر ؛جس میں لوگ زکات و صدقات کی رقم جمع کرواتے ہیں، اور بعض اہل خیر ایسے بھی ہوتے ہیں جو رقم دیتے وقت کہتے ہیں:یہ صدقہ کی رقم ہے ؛ آپ جہاں مناسب سمجھیں خرچ کر سکتے ہیں۔تو اب سوال یہ ہے کہ؛
1- ٹرسٹ کی طرف سے فی جانور کے لئے مخصوص رقم کے کم ہونے کی وجہ ہمارے چھوٹے ٹرسٹ کی طرف سے مزید رقم ملانا جائز ہے ؟ تا کہ اچھی قربانی خریدنے کے بعد زیادہ گو شت فقراء میں تقسیم ہو۔
2-اگر دوسرے علاقائی ٹرسٹ کی رقم ملانا جائز نہ ہو، تو پھراس ادارے کے ٹرسٹ کی وقف قربانی کی رقم کے ساتھ کسی شخص کی اپنی ذاتی رقم ملانا جائز ہے ؟حالاں کہ جن حضرات کی طرف سے قربانی ہورہاہے ان کو معلوم نہیں ہوتاکہ ہمارے حصے میں زائد رقم ملائی جا رہی ہے۔
1- صورتِ مسئولہ اس ادارے کے ٹرسٹ کی طرف سے دی گئی رقم میں صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین میں اجتماعی وقف قربانی کے لیے اگر فی جانور 1,30,000 روپے میں جانور نہ ملتا ہو، یا بڑی مشکل سے ملتا ہو، تب بھی قربانی کے اچھے جانور خریدنے کے لیے علاقائی ٹرسٹ سے رقم لینا جائز نہیں ہوگا؛ کیونکہ لوگوں نے جو رقم زکات، صدقات یا عطیات کی مد میں جمع کروائی ہوتی ہے، وہ غریبوں کا حق ہوتی ہے، اور اس رقم کو قربانی کرنے والوں کی رقم کے ساتھ ملانے میں وہ رقم مالدار افراد پر خرچ ہوتی ہے جو دینےوالوں کی منشاء کے خلاف ہے، اگرچہ بعد میں گوشت غریبوں میں تقسیم کردیا جائے۔لہذا اگر ٹرسٹ کی طرف سے دی گئی رقم میں قربانی کا جانور میسر نہیں ہوتا تو ٹرسٹ والوں پر یہ بات واضح کردی جائے ۔اگر وہ اضافی رقم دے تو ٹھیک ہے ورنہ معذرت کرلی جائے۔
2- کسی شخص کا اپنی ذاتی رقم سے دوسروں کی طرف سے قربانی کرنا، یا دوسروں کی قربانی کی رقم کے ساتھ اپنی ذاتی رقم ملانا، اسی وقت جائز ہوگا جب وہ قربانی کرنے والوں کی اجازت سے ایسا کرے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر قربانی کرنے والوں سے اجازت لینا ممکن ہو تو ایسا کرنا جائز ہے، اور اگر اجازت لینا ممکن نہ ہو تو جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية، وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغاراً جاز عنه وعنهم جميعاً في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كباراً إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغير أمر بعضهم لاتجوز عنه ولا عنهم في قولهم جميعاً؛ لأن نصيب من لم يأمر صار لحماً فصار الكل لحماً."
(كتاب الاضحية، الباب السابع في التضحية عن الغير، وفي التضحية بشاة الغير عن نفسه، ج:5، ص: 302، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101258
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن