بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وقف جائیداد واقف کی اجازت سے بیچنا


سوال

ہمارا ایک دینی ادارہ جو کہ بحمد اللہ1994ء سے تاحال  قائم ہے ،  اب اس کی تین شاخیں بھی ہیں،  جس میں بھی تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری ہے ۔ چند سال قبل ایک صاحبِ خیر نے ہمارے ادارے کے لیے ایک پلاٹ وقف کیا، نیت یہ تھی کہ وہاں مدرسہ  قائم ہو۔

 اور ادارہ نے اس پلاٹ پر باقاعدہ چاردیواری، ایک کمرہ اور پانی وغیرہ کا انتظام کیا اور باقاعدہ ایک مکتب قائم کیا۔ تاہم آبادی نہ ہونے کی بنا پر یہ سلسلہ ایک سال بعد ختم ہو گیا۔  تقریباً چار تا پانچ سال سے وہ پلاٹ اور عمارت خالی پڑی ہیں ۔

واقف زندہ ہے  اب وه یہ تجویز پیش کر رہے ہیں کہ چوں کہ وہ پلاٹ  دینی تعلیم  میں استعمال نہیں ہو پا رہا، اس لیے اسے فروخت کر کے اس کی پوری رقم ہمارے مرکزی ادارہ کی موجودہ مسجد اور مدرسے کی ضروریات پر لگا دی جائے۔

 اب ہمارا سوال یہ ہے کہ:

کیا شرعی اصولوں کے تحت ایسی وقف شدہ جائیداد، جو اپنے اصل محلِ استعمال میں کئی سال سے بیکار پڑی ہو اور مستقبل قریب میں بھی اس کا استعمال ممکن نہ ہو، فروخت کی جا سکتی ہے؟

وضاحت:مذکورہ پلاٹ پر جو مکتب قائم کیا گیا تھا، اس کے اردگرد کچھ آبادی موجود ہے، تقریباً آٹھ سے دس گھر ہیں۔تاہم، وہاں کے رہائشی صاحبِ حیثیت اور دنیاوی تعلیم و سوچ کے حامل لوگ ہیں، اپنے بچوں کو مکتب میں بھیجنے کے خواہش مند نہیں۔ اسی وجہ سے یہ جگہ غیر فعال اور بیکار پڑی ہوئی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ کسی چیز کو جب ایک دفعہ وقف کر دیا جائے تو اس کو بیچنا شرعاً جائز نہیں، کیوں کہ وہ واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ بیچنا اور اس کی آمدنی متعلقہ مرکزی ادارے کے ضروریات میں صرف کرنا جائز نہیں۔

اسی طرح اگر مکتب کے اردگرد رہنے والے لوگ دنیاوی تعلیم و سوچ رکھنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو مکتب میں بھیجنے کے خواہش مند نہیں تو اس عذر کی بنیاد پر استبدال ( یعنی اس پلاٹ کو فروخت کرکے اس کی جگہ کوئی دوسرا پلاٹ لے لینا) کی بھی اجازت نہیں، بلکہ ایسی صورت میں چاہیے کہ ان لوگوں پر محنت کی جائے، انہیں ترغیب دی جائے، اور تدریج کے ساتھ مکتب کو فعال اور آباد کیا جائے، تاکہ وقف کی اصل غرض بھی پوری ہو اور دینی تعلیم کا سلسلہ بھی قائم رہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"والحاصل أن ههنا مسألتين: الأولى أن بيع الوقف باطل ولو غير مسجد خلافا لمن أفتى بفساده."

(كتاب البيوع، باب بيع الفاسد، ج:5، ص:57، ط: سعید)

وفیه أیضاً:

"‌اعلم ‌أن ‌الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار."

(کتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه، ج:4، ص:384، ط:سعید)

فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:

” شرعی طور پر وقف ہونے کے بعد واقف کی اجازت کا اعتبار نہیں، لہذا واقف اجازت دے تب بھی بیچنا درست نہیں ہے۔“

(کتاب الوقف، ج:9، ص:62، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100900

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں