بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1448ھ 27 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ونی و سوارہ کی رسم سے منعقدہ نکاح کو جرگہ کے ذریعے فسخ کرانے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں  نکاح کے متعلق ایسی رسوم پائی جاتی ہیں جو شریعت کے  سراسر خلاف ہیں، جیسے کہ باپ نے قتل کر دیا اور بدلہ میں بیٹی کو دے دیا،  باپ نے قرض لیا ،بدلہ میں بیٹی کو دے دیا ،  جب کہ بیٹی راضی نہیں ہوتی،  بسا اوقات لڑکی کی عمر 13، 14  سال ہوتی ہے اور دوسری طرف عمر 95، 65 سال ہوتی ہے، اور لڑکی اس نکاح پر راضی نہیں ہوتی۔ بسااوقات کسی اور کے ساتھ بھاگ جاتی ہےاور کبھی خود کشی کر لیتی ہے۔کبھی دھوکہ دیا جاتا ہے کہ فلاں حافظ ہے، بعد میں پتہ چلتا ہے کہ قرآن کے حافظ مراد نہیں بلکہ آنکھوں سے نابینا مراد ہے، اور لڑکی راضی نہیں ہوتی۔ اس طرح کے نکاحوں کو ہم جرگہ کے ذریعہ طلاق دلوا کر یا عدالت سے خلع لے کر ختم کر دیتے ہیں، تو کیا ہم گناہ گار تو نہیں ہوں گے؟ جب کہ یہ کام ہم لوگوں کی بھلائی کے لیے کرتے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ قتل، قرض یاکسی بھی معاملہ میں صلح کے طور پر دوسرے فریق کو لڑکی دینا یا بدل کے طور پر اس کا نکاح کرانا سوارہ یا ونی کی رسم کہلاتا ہےجو کہ  شرعاً جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ صلح کے بدل کا مال ہونا ضروری ہےاور آزاد لڑکی مال نہیں ہے، نیز عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا جائز نہیں ہے،اور مذکورہ  رسم میں صلح کے طور پر جو نکاح کیا جاتا ہے  اگر یہ نکاح عاقلہ بالغہ کا ہو اور  اس کی رضامندی کے بغیر یہ نکاح   کیاگیاہو جیسا کہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے  تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوگا اور یہ مرد اور عورت  جب تک ساتھ رہیں گے  اور میاں بیوی والے تعلقات  قائم کریں گے، حرام کاری میں مبتلا رہیں گے،اور صلح  کرانے اور کرنے والے بھی  اس قبیح گناہ  میں شریک ہوں گے۔

اور اگر لڑکی نابالغہ ہے اور اس کا نکاح ا س کے باپ دادا کرائیں اور وہ سیئ الاختیار یعنی (اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے والے،فاسق،لالچی اورلاپراوہ    )ہونے میں معروف ہیں تو ان کی جانب سے بھی نابالغہ لڑکی کا نکاح غیر کفو   میں منعقد نہیں ہوگا۔اوراگر باپ دادا اپنے اختیارات کو غلط استعمال کرنے میں معروف نہ ہوں تو ایسی صورت میں نابالغہ کا نکاح منعقد تو ہو جائے گا، البتہ  وہ اپنے اختیارات غلط استعمال کرنے کی وجہ سے شرعا گناہ گار ہوں گے۔

نیز یاد رہے کہ خلع بھی مالی معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے جس میں فریقین یعنی زوجین کی رضامندی ضروری ہوتی ہے؛ لہذا خلع کے لیے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے، نیز طلاق دینا بھی شوہر کا حق ہے،  چنانچہ مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق  جن صورتوں میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے، ان ميں اگر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر جرگہ اپنے طور پر  طلاق کا فیصلہ کر لےتو یہ طلاق معتبر نہیں ہو گی، اسي طرح بیوی  عدالت سے خلع یا طلاق لے لے اور عدالت اس کے  حق میں یک طرفہ خلع کی  ڈگری جاری کردے تو شرعاً ایسی خلع معتبر نہیں ہوتی،اور مذكوره دونوں صورتوں ميں نکاح ختم نہیں ہوگا، اور ایسی صورت میں عورت کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

 صورتِ مسئولہ  میں سائل  اور  اس کے ساتھی مذکورہ خرابیوں پر مشتمل نکاحوں کوجرگہ وغیرہ کے ذریعے عاقل بالغ شوہر سے  طلاق دلوا کر یا عدالت کے ذریعےشوہر کی رضامندی کے ساتھ  خلع لے کر فسخ کراتے ہیں تو اگر ان میں خلع اور طلاق کی مذكوره شرائط پائی جاتی ہوں تو ایسی صورت ميں سائل اوراس کے ساتھی گناہ گا ر نہیں ہوں گے۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (2)(المائدۃ)

ترجمہ: نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور الله تعالیٰ سے ڈرا کرو بلاشبہ الله تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں ۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة."

(کتا ب الطلاق، ‌‌فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:3، ص:145، ط: دار الكتب العلمية)

وفيه ايضا:

"وأما الشرائط التي ترجع إلى المصالح عليه."

"فأنواع: (منها) أن يكون مالا فلا يصح الصلح على الخمر والميتة والدم وصيد الإحرام والحرم وكل ما ليس بمال؛ لأن في الصلح معنى المعاوضة فما لا يصلح عوضا في البياعات لا يصلح بدل الصلح."

(كتا ب الصلح، ‌‌فصل في الشرائط التي ترجع إلى المصالح عليه، ج:6، ص:42، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج."

(کتاب النکاح، ‌‌الباب الرابع في الأولياء في النكاح، ج:1، ص:287، ط: دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وحاصله أن الفسق وإن كان لا يسلب الأهلية عندنا، لكن إذا كان الأب متهتكا لا ينفذ تزويجه إلا بشرط المصلحة ومثله ما سيأتي من قول المصنف ولزم ولو بغبن فاحش أو بغير كفء إن كان الولي أبا أو جدا لم يعرف منهما سوء الاختيار وإن عرف لا."

(کتاب النکاح، باب الولی، ج:3،ص:54، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100557

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں