بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ولیمہ کے موقع پر تحفہ تحائف کا حکم


سوال

میں نے  اپنی شادی کے موقع پر حتی الامکان  غیر شرعی کاموں سے بچنے کی کوشش کی اور ولیمہ کے موقع پر  ادا کی جانے والی رسم  ”نیوتہ “  بھی نہیں لیا،  لیکن ولیمہ کے موقع پر کافی لوگوں نے مجھے رقم دی، میں نے لینے سے انکار کیا اور واپس دینے کی کوشش بھی کی ، لیکن جو بھی آتا   زبردستی ہاتھ میں تھما دیتا،واپس نہیں لیتا تھا۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ اس وقت ہجوم کی وجہ سے ہر ایک کو زبردستی واپس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ برا محسوس نہ کر لیں۔ تو اب وہ رقم جن لوگوں نے دی ہے ان کی واپس کر دوں یا کوئی حرج نہیں؟

جواب

آپ کے لیے شادی کے موقع پر ملنے والی مذکورہ رقم استعمال کرنے میں حرج نہیں، اور یہ رقم نیوتہ کے حکم میں نہیں آئی گی،   اور  آپ  کے لیے تحفہ تحائف  والے احباب کو شادی بیاہ کے موقع پر  اس رقم کے بدلے  تحفہ تحائف دینا لازم بھی نہیں  ۔

ارشادِ بارتعالی ہے: 

"‌‌‌‌وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ وَما آتَيْتُمْ مِنْ زَكاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ "(سورۃ الروم، آیة: 39)

معارف القرآن میں ہے:

" وَمَا أَتَيْتُمْ مِنْ رِبَا لِيربُوا فِي أَمْوَالِ النَّاسِ، اس آیت میں ایک بری رسم کی اصلاح کی گئی ہے، جو عام خاندانوں اور اہل قرابت میں چلتی ہے۔ وہ یہ کہ عام طور پر کنبہ رشتہ کے لوگ جو کچھ دوسرے کو دیتے ہیں اس پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے وقت میں کچھ دے گا بلکہ رسمی طور پر کچھ زیادہ دے گا، خصوصا نکاح ، شادی وغیرہ کی تقریبات میں جو کچھ دیا  لیا جاتا ہے اس کی یہی حیثیت ہوتی ہے جس کو عرف میں نو تہ کہتے ہیں۔ اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے  کہ اہل قرابت کا جو حق ادا کرنے کا حکم پہلی آیت میں دیا گیا ہے ان کو یہ حق اس طرح دیا جائے   نہ ان پر احسان جتائے اور نہ کسی بدلے پر نظر رکھے۔ اور جس نے بدلے کی نیت سے دیا کہ ان کا مال دوسرے عزیز رشتہ دار کے مال میں شامل ہونے کے بعد کچھ زیادتی لے کر واپس آئے گا تو اللہ کے نزدیک اس کا کوئی درجہ اور ثواب نہیں اور قرآن کریم نے اس زیادتی کو لفظ ربوٰ سے تعبیر کر کے اس کی قباحت کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ ایک صورت سود  کی سی ہوگئی۔"

(معارف القرآن، ج: 6، سورۃ الروم، ص: 750، ط: مکتبہ معارف القرآن) 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144608100475

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں