بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین سے جھوٹ بول کر سامان کی مد میں اضافی پیسے لینے کا حکم۔ والدین سے چوری کردہ پیسوں کو کاروبار میں لگانا اور اس کاروبار کے منافع کا حکم


سوال

ایک بالغ آدمی ہے جس کو والدین گھر کا سامان مثلا سبزی ، فروٹ وغیرہ لانے کے لیے بھیجتے ہیں، وہ بندہ سامان خریدنے کے بعد والدین کو ان چیزوں کی اصل قیمت سے کچھ زیادہ بتادیتا ہے، مثلا 100 روپے والی چیز کی قیمت 120 روپے بتادیتا ہے، اسی طرح زائد پیسے جمع کرتے کرتے اس کے پاس بڑی رقم مثلا پانچ دس ہزار روپے جمع ہوجاتے ہیں، پھر وہ آدمی اس رقم کو کسی کاروبار میں لگالیتا ہے، تو کیا اس آدمی کے لیے اس طرح کرنا جائز ہے؟ نیز ان چوری کے پیسوں سے آنے والا منافع اس کے حلال ہے؟ یہ سوال صرف والدین کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرنے کے بارے میں ہے۔

جواب

گھر کا سامان لاتے ہوئے سامان کی اصل قیمت سے زیادہ بتاکر والدین سے اضافی قیمت لینا جھوٹ اور دھوکہ دہی ہونے کے ساتھ ساتھ چوری جیسے قبیح فعل پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے اور جس طرح والدین کے علاوہ دیگر لوگوں سے چوری کرنا حرام ہے اسی طرح والدین سے چوری کرنا بھی ناجائز اور حرام ہے، اگر کسی شخص نے والدین سے چوری چھپے یا جھوٹ بول کر دھوکہ دہی سے پیسے لے لیے ہوں تو اس کے لیے ان پیسوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ وہ پیسے والدین کو لوٹانا لازم ہے، چوری کے پیسوں سے کاروبار کرنا ناجائز اور سخت گناہ کا کام ہے، اس لیے مذکورہ شخص کو چاہیے کہ اپنے اس فعل پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرے اور والدین کو بھی ساری بات بتاکر ان سے معافی مانگے، نیز یا تو والدین سے چوری کردہ یہ رقم کاروبار سے نکال کر والدین کو واپس  لوٹادے یا پھر ان سے معاف کروالے، چوری کے پیسے والدین کو واپس لوٹانے یا والدین سے معاف کروانے کی صورت میں کاروبار سے آنے والا منافع حلال ہوجائے گا۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار.

(المادة 97) :لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.

(بلا سبب شرعي) لأنه بالأسباب الشرعية كالبيع، والإجارة، والهبة، والكفالة، والحوالة يحق أخذ مال الغير."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ج : 1، ص : 98،ط : دار الجیل)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"والحاصل أنه إن علم ‌أرباب ‌الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه...ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله."

(کتاب البیوع،باب البیع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99،  ط:سعید)

   فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا ‌يطيب ‌في ‌الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام."

(‌‌‌‌کتاب البیوع،باب المتفرقات من ابوابها،مطلب إذا اكتسب حراماثم اشترى فهوعلى خمسةأوجه،ج:5،ص:235،ط:سعید)

 فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101300

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں