بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین یا شوہر کو فجر کی نماز کے لیے جگانا


سوال

فجر کی نماز میں اٹھانے کے لئے کس حد تک محنت کرنی چاہئے، خاص طور پر جس کو اٹھانا ہو وہ آپ کا میاں یا پھر والدین ہوں؟ اور کیا طریقہ  اپنانا چاہئے؟

جواب

واضح رہے کہ سوئے ہوئے شخص کو  نرمی اور حکمت کے ساتھ ہی اٹھانا چاہیے، تاہم جو  زیرِ تربیت ہو  اگر وہ ایک مرتبہ نرمی سے بیدار نہ ہو تو اس کی تربیت اورتادیب کے لیے اصرار کے ساتھ اٹھایا جاسکتا ہے، اور جو ماتحت نہ ہو اُسے اصرار کے ساتھ بیدار کرنے میں اگر اس کے متنفر ہوجانے کا خوف ہو یا کوئی ایسا عمل یا جملہ کہنے کا خوف ہو جس سے اس کے ایمان کو خطرہ ہوجائے، تو اسے نہ اٹھایا جائے، بلکہ جب وہ اٹھ جائے تو اسے سمجھا دیا جائے۔ اور اگر مذکورہ کوئی خوف نہ ہو تو ایسے آدمی کو نرمی کے ساتھ  بیدار کردینا چاہیے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  اپنے شوہر یا والدین کو  فجر کی نماز کے لیےنرمی سے بیدار کرنا چاہیے اگر بیدار نہ ہو ں اس صورت میں اگر ان کے متنفر ہونے ناراض ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو  بار بار اصرار کرکے  بھی اٹھایا جاسکتا ہےورنہ جب بیدار ہوجائیں تو  حکمت اور  مصلحت سے نماز کی اہمیت اور حکمِ الٰہی کی عظمت ان  کے سامنے بیان  کی جائے  ، نیز جگانے کے لیے کوئی بھی مناسب طریقہ اختیار  کیا جاسکتا ہے ، مثلاً پیر دبانا ، دروازہ وغیر ہ پر دستک دینا، یا  آواز دینا وغیرہ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"[فرع] لايجب انتباه النائم في أول الوقت، ويجب إذا ضاق الوقت، نقله البيري في شرح الأشباه عن البدائع من كتب الأصول، وقال: ولم نره في كتب الفروع فاغتنمه اهـ.
قلت: لكن فيه نظر لتصريحهم بأنه لايجب الأداء على النائم اتفاقًا فكيف يجب عليه الانتباه: روى مسلم في قصة التعريس عن أبي قتادة أنه صلى الله عليه وسلم قال: «ليس في النوم تفريط، إنما التفريط أن تؤخر صلاة حتى يدخل وقت الأخرى». وأصل النسخة التنبيه بدل الانتباه، وسنذكر في الأيمان أنه لو حلف أنه ما أخر صلاة عن وقتها وقد نام فقضاها، قيل: لايحنث، واستظهره الباقاني، لكن في البزازية: الصحيح أنه إن كان نام قبل دخول الوقت وانتبه بعده لايحنث، وإن كان نام بعد دخوله حنث اهـ فهذا يقتضي أنه بنومه قبل الوقت لايكون مؤخرًا وعليه فلايأثم وإذا لم يأثم لايجب انتباهه إذ لو وجب لكان مؤخرًا لها وآثمًا، بخلاف ما إذا نام بعد دخول الوقت، ويمكن حمل ما في البيري عليه."

(كتاب الصلاة، ج:1 ص:358 ط: سعید)

 فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144603102627

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں