بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین کی زندگی میں اولاد کا جائیداد میں حصہ طلب کرنے کا حکم


سوال

ماں باپ کی زندگی میں بیٹا حصے کا مطالبہ کر رہاہے کہ گھر بیچو   اور     مجھے میراحصہ دو۔ٹوٹل تین بھائی اور دو بہنیں ہیں،والد کی ملکیت  میں صرف ایک گھر ہے ،اولاد میں سے ایک بڑا بیٹا اور ایک بیٹی شادی شدہ ہیں ،باقی بچے بالغ ہیں ، گھر کی قیمت ایک کروڑ ستر لاکھ ہے،والد اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو حصہ دینا چاہتاہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کس کا کتنا حصہ ہے،بچوں کا بھی اور والدین کا بھی؟ والدپر سات لاکھ قرض بھی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں والدین کی زندگی میں ان کی مملوکہ جائیداد پر اولاد کا کوئی شرعی حق یا متعین حصہ ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کسی بیٹے کا اپنے حصے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں، کیونکہ وراثت کا حق والدین کے انتقال کے بعد ہی ثابت ہوتا ہے۔

البتہ اگر والد اپنی خوشی اور رضا سے بغیر کسی جبر و اکراہ کےزندگی ہی میں اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو کر سکتاہے اور اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے ذمہ موجود سات لاکھ روپے قرض ادا کرے، کیونکہ قرض کی ادائیگی مقدم ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے، اسی طرح بیوی کو جتنا دینا چاہے دے دے، بہتر ہے کہ آٹھویں حصے سے کم نہ دے،اس کے بعد باقی جائیداد اپنے تمام بیٹےاور بیٹیوں میں برابری کے بنیاد پر تقسیم کردے، یعنی جتنا بیٹے کو دے  اتنا ہی بیٹی کودے بلاوجہ کمی بیشی نہ کرے اور نہ ہی کسی کو محروم کرےورنہ گناہ ہوگا،اور ایسی تقسیم شرعاً غیر منصفانہ ہوگی،البتہ کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معتدل وجہ کی  بناء پربنسبت اوروں کے کچھ زیادہ دینے کی گنجائش ہے، مثلاً کسی کی کثرت شرافت و دینداری کے یا کسی کے خدمت گزار ہونے پر، یا غریب ہونے کی بناء پرکچھ  زیادہ دینے کی گنجائش ہے اور جس کو دے اس پر اسے مالکانہ قبضہ اور تصرف بھی دے،صرف نام کردینا کافی نہیں ہوگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلامًا، فقال: «أكلّ ولدك نحلت مثله؟» قال: لا، قال: «فأرجعه». وفي رواية ... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".

(باب العطايا،ج:1،ص:261،ط:قديمي)

ترجمہ:

"حضرت نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما  کے بارے  منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیررضی  اللہ عنہ ) انہیں  رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

(مظاہر حق، باب العطایا،ج:3، ص : 193,، ط؛ دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن التركة ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية."

(کتاب الفرائض،ج:6،ص:759،ط:سعید)

وفيه أيضاً:

" أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة: أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال: «سووا بين أولادكم في العطية، ولو كنت مؤثراً أحداً لآثرت النساء على الرجال». رواه سعيد في سننه، وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير: «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم». فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا، والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى. وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزياً إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف، وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا: يكون آثماً في التخصيص وفي التفضيل، وليس عند المحققين من أهل المذهب فريضة شرعية في باب الوقف إلا هذه بموجب الحديث المذكور، والظاهر من حال المسلم اجتناب المكروه، فلاتنصرف  الفريضة الشرعية في باب الوقف إلا إلى التسوية والعرف لايعارض النص هذا خلاصة ما في هذه الرسالة، وذكر فيها أنه أفتى بذلك شيخ الإسلام محمد الحجازي الشافعي والشيخ سالم السنهوري المالكي والقاضي تاج الدين الحنفي وغيرهم اهـ"

(كتاب الوقف،ج:4،ص:444، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"وفي الخانية: لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة؛ لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى."

 ( کتاب الھبۃ،ج:5،ص:696، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين."

( کتاب الھبۃ، ج:7،ص:288،ط: رشیدیہ)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712101203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں