
میری گزارش یہ ہے کہ کچھ وقت سے میرے والد کی مجھ سے ناراضی چل رہی ہے ، اس کی وجہ یہ تھی، کہ کچھ سال پہلے میں نے ایک پراپرٹی فروخت کی، مگر والد صاحب اس پرخوش نہیں تھے، اس وقت انھوں نے مجھے یہ الفاظ بولے ”توروڈ پر بیٹھے گا جب تجھے پتہ چلے گا “اس جملے کے بعد میں جو بھی کام کرتا ہوں اس میں نقصان ہوتا ہے ، اس وقت بھی نقصان اور قرضے میں ڈوبا ہوا ہوں ، میں نے بہت مرتبہ والد صاحب سے معافی مانگی، اور انھوں نے مجھے معاف بھی کردیا ، اب میرا سوال یہ ہے، کہ انھوں نے مجھے جو الفاط کہے تھے کیا وہ بدعا تھی ؟ اب مجھے کیا کرنا چاہیے کہ آئندہ میرانقصان نہ ہو اور میرے قرضے ادا ہوجائیں ؟
صورتِ مسئولہ میں والد صاحب کے مذکورہ الفاظ: ”تو روڈ پر بیٹھے گا، جب تجھے پتہ چلے گا“ بظاہر ناراضی اور غصہ کے اظہار پر مشتمل ہیں، ان کو یقینی طور پر شرعی اصطلاح میں بددعا قرار نہیں دیا جاسکتا، اگرچہ ان الفاظ میں بددعا کا مفہوم پایا جاتا ہے۔کیوں کہ نفع و نقصان، تنگی و فراخی اور رزق کی کمی بیشی سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے، اس لیے بعد میں پیش آنے والے تمام مالی نقصانات کو یقینی طور پر والد صاحب کے مذکورہ الفاظ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔
البتہ احادیثِ مبارکہ میں والدین کی دعا اور بددعا کے اثرات کا ذکر آیا ہے، چناں چہ سنن ترمذی میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: «ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ،» دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ
(سنن الترمذي، أبواب البر و الصلة، باب ما جاء في دعوة الوالدين 3/ 469 ط: دار الغرب الإسلامي)
لہٰذا اولاد کو ہمیشہ والدین کی ناراضی سے بچنا اور ان کی رضا و دعائیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاہم چوں کہ سائل نے والد صاحب سے معافی مانگ لی ہے اور والد صاحب نے اسے معاف بھی کردیا ہے، اس لیے اب اس معاملے میں وسوسوں اور اندیشوں میں مبتلا ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور والد صاحب کے ساتھ حسنِ سلوک، خدمت اور ادب کا معاملہ جاری رکھتے ہوئے ان سے اپنے حق میں دعائے خیر کی درخواست کرنی چاہیے۔
نیز سائل کثرت سے استغفار، توبہ، صدقہ و خیرات اور ذکر و دعا کا اہتمام کرے، اور قرض سے نجات اور رزق میں برکت کے لیے درج ذیل دعاؤں کا اہتمام کرے:
(1)اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ.
(2)اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ.
قرآن مجید میں ہے :
"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا " [الإسراء: 23]
ترجمہ :اور آپ کے رب نے حکم کر دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کیا کرو۔"(از بیان القرآن)
صحیح بخاری میں ہے:
"عن أنس رضي الله عنه قال:سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الكبائر قال: (الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وقتل النفس، وشهادة الزور)."
(كتاب الشهادات، باب ماقیل فی شھادۃ الزور، ج:2،ص:939، ط: دار ابن كثير)
ترجمہ :" حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ" اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی آدمی کا قتل کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا ۔"
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے:
"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رغم أنف رجل ذكرت عنده فلم يصل علي ورغم أنف رجل دخل عليه رمضان ثم انسلخ قبل أن يغفر له ورغم أنف رجل أدرك عنده أبواه الكبر أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة."
(مشكاة المصابيح، کتاب الشھادات،ج:1،ص:292، ط: المكتب الإسلامي)
ترجمہ:"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھے پر درود نہ بھیجا، خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس پر رمضان آیا اور اس کی بخشش سے پہلے گذر گیا اور خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک نے اس کے سامنے بڑھاپا پایا اور انہوں نے اسے جنت میں داخل نہیں کیا۔"
نیز ارشاد فرمایا:
"وعن عبدالله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رضي الرب في رضى الوالد وسخط الرب في سخط الوالد. رواه الترمذي."
(مشكاة المصابيح، أبواب البر والصلة ج:3،ص:739 ، ط: المكتب الإسلامي)
ترجمہ: " حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: والد کی رضا میں اللہ کی رضا ہے اور والد کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے۔ (ترمذی)"
(مظاہر حق، ج:4،ص:529، ط: دارالاشاعت)
ایک اور حدیث میں ہے:
"وعن أبي بكرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «كل الذنوب يغفر الله منها ما شاء إلا عقوق الوالدين فإنه يعجل لصاحبه في الحياة قبل الممات."
(مشكاة المصابيح، أبواب البر والصلة،ج:3،ص:383 ط: المكتب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100212
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن