
1)ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے۔ ہم ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ والدین کی میراث شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کی جائے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس کی شرعی تقسیم کی کیا صورت ہوگی؟
واضح رہے کہ ہمارے والدین کے انتقال کے وقت ان کے زندہ ورثاء میں صرف ہم تین افراد تھے: ایک بیٹا اور دو بیٹیاں، اور اب بھی یہی تین ورثاء موجود ہیں۔
2)دوسرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی دونوں بہنوں کا بڑا بھائی ہوں اور اپنی زندگی ہی میں والدین کی میراث تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن اگر میراث تقسیم ہونے سے پہلے میرا انتقال ہوجائے تو اس صورت میں میراث کی تقسیم کا کیا حکم ہوگا؟ جبکہ میرے ورثاء میں ایک بیٹی اور میری بیوی موجود ہیں۔
3)تیسرا سوال یہ ہے کہ والدین کے ترکے میں ایک فلیٹ شامل ہے۔ کیا میں اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو لگوا کر اس کے مطابق میزان بینک، کسی اسلامی بینک یا وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم سے قرض حاصل کرکے بہنوں کو ان کے شرعی حصص ادا کرسکتا ہوں؟ نیز کیا میرے لیے بینک یا وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم سے قرض لینا شرعاجائز ہے یا نہیں؟
1،2)واضح رہے کہ ترکہ حتی الامکان جلد از جلد تقسیم کر دینا چاہیے، کیونکہ ترکہ کو بروقت تقسیم نہ کرنے سے کئی مفاسد اور باہمی نزاع کا اندیشہ رہتا ہے ۔لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کو اپنے والدین کے ترکے کی تقسیم میں بلاوجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اپنی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ حتی الامکان جلد ادا کرنا چاہیے۔ البتہ اگر ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے سائل کا انتقال ہوجائے تو ترکے میں سائل کا جو حصہ بنتا ہے، وہ سائل کی وفات کے وقت موجود سائل کے زندہ ورثاء میں شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے گا، البتہ سائل کی وراثت کی تقسیم کا سوال قبل از وقت ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم والد ین کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ترکہ میں سے اولاً مرحومین کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کا خرچہ نکالنےکے بعد ، اگر مرحومین کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد ،اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال کی ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد،باقی ماندہ کل ترکہ(منقولہ و غیر منقولہ )کو 4 حصوں میں تقسیم کرکے2حصے مرحومین کے بیٹے کو،اور1،1 حصہ مرحومین کے دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کوملے گا۔
3)وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم یا بینک سے قرض لینا یا اس نوعیت کا کوئی معاملہ نہ کیا جائے۔ اگر قرض لینے کی ضرورت ہو تو بینک کے علاوہ کسی شخص یا ادارے سے بلا سود قرض حاصل کر لیا جائے، ورنہ فلیٹ فروخت کرکے رقم ورثاء میں تقسیم کردی جائے ۔
صورت تقسیم یہ ہے:
مرحوم والدین : 4
| بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبارسے50 فیصد بیٹے کو،اور 25فیصد دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ملے گا۔
فتح القدیرمیں ہے:
"عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل قرض جر نفعا فهو ربا."
(كتاب الحوالة، ج: 7، ص: 250، ط: دار الفکر)
اعلاء السنن میں ہے:
"قال ابن المنذر: أجمعوا على أن المسلف إذا شرط على المستسلف زیادة أو ھدیة فأسلف على ذلك إن أخذ الزیادة علی ذلك ربا."
(کتاب الحوالة، باب کل قرض جر منفعة، ج: 14، ص: 513، ط: إدارۃ القرآن)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144801100914
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن