
آپ سے ایک مسئلے پر رہنمائی درکار ہے کہ اگر میاں بیوی کے درمیان تنازع یا لڑائی میں بچے ماں کا ساتھ دیں اور یہ سوچے بغیر کہ کون حق پر ہے اور کون نہیں؟ ماں کی بےجا حمایت کریں، اپنے والد کے اوپر الزامات لگائیں ، جھوٹ ،بہتان ان پر لگائیں اور اس میں سے اگر اولاد باپ پر ہاتھ اٹھاتی ہے، باپ کو گالی دیتی ہے، باپ کو مارتی ہے ،گریبان پکڑتی ہے، شرمناک بے ہودہ الزامات لگاتی ہے ،وہ بھی صرف ماں کے کہنے پر اور باپ کو مارنے دوڑتی ہے ،باپ کو گھر سے نکالتی ہے اور اس کے بعد وہ یہ کہے کہ ہم اپنی ماں کا ساتھ دے رہے ہیں اور ہمیں ماں عزیز ہے تو کیا وہ اس سارے عمل پر حق بجانب ہوں گے ؟اور شریعت کے مطابق وہ کس گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں؟ اور کیا انہیں میاں بیوی کے تنازع میں کودنا چاہیے؟ اس میں دخل اندازی کرنا چاہیے؟
کیا باپ پر ہاتھ اٹھانا ،اس کو گالیاں دینا ،اس کا گریبان پکڑنا اس پر شریعت کیا حکم صادر کرتی ہے؟ اور کیا تعزیر ہوتی ہے؟ دوسرے باپ کے اوپر بہتان ،الزام ،شرمناک اور بےہودہ جملے کسنا اس کی سرعام بےعزتی کرنا کیا شریعت کے مطابق ان کو ایسا کرنے کا حق ہے؟ براہ کرام جلدی سے مجھے اس بارے میں رہنمائی اورفتوی درکار ہے۔
والدین کا ادب واحترام بہرصورت لازم ہے، اگر والد ین میں سے کوئی غلطی پر ہوں تب بھی ان کی بے ادبی، توہین، تذلیل یا ان کے ساتھ بے باکانہ گفتگو کرنا جائز نہیں، والدین کی لڑائی میں اولاد کا اعتدال پر قائم رہنا اور ہرایک کے احترام کوپیشِ نظر رکھنا ایک کڑا امتحان ہوتاہے، لیکن جوشخص شریعت کا متبع ہو اور فہم وفراست رکھتا ہو اس کے لیے ان معاملات کو سنبھالنا سہل ہوجاتاہے؛ لہذا اولاد کا فریضہ یہ ہے کہ والدین کو ہرممکن راحت پہنچانے کی کوشش کریں، ان کے مابین اختلاف کو کم کرنے اور انہیں حکمت ومصلحت عاجزی وانکساری کے ساتھ سمجھانے اور ایک دوسرے کے حقوق بتلانے کی کوشش کریں، ممکن ہے کہ اس طریقے سے ان کی باہمی ناچاقی کم ہوجائے اور گھر میں سکون کی فضا قائم ہو، ہمت اورحوصلے کے ساتھ گھر کے ماحول کو بدلنے کی کوشش کریں، والدین میں سے ہر ایک کا ساتھ دیں، کسی ایک کو راضی کرکے دوسرے سے قطع تعلقی کرنا ،ان کی تذلیل کرنا ،ان کے گریبان پکڑنا اور ان کو گالی دینا ان تمام باتوں کی شرعاً اجازت نہیں ہے اور نہ ان کو اس طرح کرنے کا کوئی حق ہے ۔والدین میں سے اگر کوئی ایک غلطی پر ہو تب بھی اس کے ساتھ احترام کا رشتہ قائم رہنا ضروری ہے، جیسے والدہ کی خدمت اور اطاعت ضروری ہے، اسی طرح والد کی تعظیم بھی لازم ہے۔
احکام القرآن میں ہے :
"قال الله تعالى: {وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه وبالوالدين إحسانا} {وقضى ربك} معناه: أمر ربك، وأمر بالوالدين إحسانا وقيل: معناه وأوصى بالوالدين إحسانا والمعنى واحد لأن الوصية أمر. وقد أوصى الله تعالى ببر الوالدين والإحسان إليهما في غير موضع من كتابه وقال: {ووصينا الأنسان بوالديه إحسانا} [الأحقاف:15]وقال: {أن اشكر لي ولوالديك إلي المصير وإن جاهداك على أن تشرك بي ما ليس لك به علم فلا تطعهما وصاحبهما في الدنيا معروفا} [لقمان:15] فأمر بمصاحبة الوالدين المشركين بالمعروف مع النهي عن طاعتهما في الشرك لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق. وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أن من الكبائر عقوق الوالدين. قوله تعالى:{إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما} قيل فيه: إن بلغت حال الكبر وهو حال التكليف وقد بقي معك أبواك أو أحدهما فلا تقل لهما أف. وذكر ليث عن مجاهد قال: "لا تقل لهما أف إذا بلغا من الكبر ما كانا يليان منك في الصغر فلا تقل لهما أف". قال أبو بكر: اللفظ محتمل للمعنيين فهو عليهما، ولا محالة أن بلوغ الولد شرط في الأمر; إذ لا يصح تكليف غير البالغ، فإذا بلغ حال التكليف وقد بلغاهما حال الكبر والضعف أو لم يبلغا فعليه الإحسان إليهما وهو مزجور أن يقول لهما أف، وهي كلمة تدل على الضجر والتبرم بمن يخاطب بها.
قوله تعالى:{ولا تنهرهما} معناه: لا تزجرهما على وجه الاستخفاف بهما والإغلاظ لهما قال قتادة في قوله: {وقل لهما قولا كريما} قال: "لينا سهلا". وقال هشام بن عروة عن أبيه: {واخفض لهما جناح الذل من الرحمة} قال: "لا تمنعهما شيئا يريدانه". وروى هشام عن الحسن أنه سئل: ما بر الوالدين؟ قال: "أن تبذل لهما ما ملكت وأطعهما في أمرك ما لم يكن معصية". وروى عمرو بن عثمان عن واصل بن السائب: {واخفض لهما جناح الذل من الرحمة}قال: "لا تنفض يدك عليهما" وقال عروة بن الزبير: "ما بر والده من أحد النظر إليه وعن أبي الهياج قال: سألت سعيد بن المسيب عن قوله: {قولا كريما} قال: "قول العبد الذليل للسيد الفظ الغليظ". وعن عبد الله الرصافي قال: حدثني عطاء في قوله تعالى: {واخفض لهما جناح الذل من الرحمة} قال: "يداك لا ترفعهما على أبويك ولا تحد بصرك إليهما إجلالا وتعظيما
"قال أبو بكر: قوله تعالى: {واخفض لهما جناح الذل من الرحمة} هو مجاز لأن الذل ليس له جناح ولا يوصف بذلك، ولكنه أراد المبالغة في التذلل والتواضع لهما، وهو كقول امرئ القيس في وصف الليل:
فقلت له لما تمطى بصلبه … وأردف أعجازا وناء بكلكل
وليس لليل صلب ولا أعجاز ولا كلكل، وهو مجاز، وإنما أراد به تكامله واستواءه."
(باب بر الوالدين،ج:3،ص:255،دارالكتب العلمية)
اسی نوعیت کے ایک سوال کے جواب میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ نے لکھا ہے :
" آپ کے والدین کے اختلافات بہت ہی افسوس ناک ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ عطا فرمائے۔ آپ ایسا ساتھ تو کسی کا بھی نہ دیں کہ دُوسرے سے قطع تعلق ہوجائے، دونوں سے تعلق رکھیں اور ان میں سے جو بھی بدنی یا مالی خدمت کا محتاج ہو اس کی خدمت کریں، ادب و احترام دونوں کا کریں، اگر ان میں ایک دُوسرے کی خدمت سے یا اس کے ساتھ تعلق رکھنے سے ناراض ہوتا ہو، اس کی پروا نہ کریں، نہ کسی کو پلٹ کر جواب دیں، چوں کہ آپ کی والدہ بوڑھی بھی ہیں اور ان کا خرچ اُٹھانے والا بھی کوئی نہیں، اس لیے ان کی جانی و مالی خدمت کو سعادت سمجھیں"۔
( والدین اور اولاد کے تعلقات،ج:8،ص:554،مکتبہ لدھیانوی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100518
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن