بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدین کے درمیان علیحدگی کے بعد والد کی طرف سے کرائی گئی شادی پر والدہ ناراض ہوں تو کیا بیٹا گناہ گار ہوگا؟


سوال

 آج سے کئی سال قبل میرے والدین کی طلاق ہوچکی تھی، اور میں والدہ کے ساتھ رہتا تھا، تاہم صلہ رحمی کی نیت سے والد اور ددھیال سے بھی تعلق قائم رکھتا تھا، جب کہ ننھیال والے ددھیال سے تعلق رکھنے کو سخت ناپسند کرتے تھے،  تقریباً آٹھ ماہ قبل والد صاحب اور ددھیال والوں نے میری شادی کروا دی،  شادی کے بعد سے والدہ نہ مجھ سے ملنا پسند کرتی ہیں اور نہ ہی بات چیت رکھتی ہیں، حالاں کہ میں نے متعدد بار رابطے اور صلح کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ہوئی، بلکہ کئی مرتبہ وہ مجھے بددعائیں بھی دے چکی ہیں،  میں اپنی استطاعت کے مطابق والدہ کی مالی معاونت بھی کرتا ہوں، ایسی صورت میں میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں شرعاً گناہگار یا نافرمان شمار ہوتا ہوں؟ کیا والدہ کی بددعائیں میرے حق میں مؤثر ہو سکتی ہیں؟ اور کیا مجھے مکافاتِ عمل کا اندیشہ ہونا چاہیے؟ اس معاملے میں دل میں مسلسل خوف رہتا ہے، براہِ کرم شریعت کی روشنی میں میری راہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ شریعت کے مطابق اولاد پر والدین کی اطاعت لازم ہے، لہٰذا اگر وہ کسی کام کو کرنے کا حکم دیں  اور وہ کام  شرعا جائز ہو ،آدمی اس کو کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور اس سے دُوسروں کے حقوق تلف نہ ہوتے ہوں تو ان کے حکم کی تعمیل ضروری ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ سائل کے اپنے والد اور ددھیال والوں سے تعلق رکھنے کی بناء پر ناراض ہیں، بات چیت نہیں کرتیں، بد دعائیں دیتی ہیں اور سائل سے بھی اس کا مطالبہ کرتی ہیں تو  اس معاملہ میں  سائل کے ذمہ والدہ کی اطاعت لازم نہیں اور اس وجہ سے والدہ کا ناراض ہونا اور بات چیت نہ کرنابھی درست نہیں،  اور چوں کہ  سائل   اپنی والدہ کے ساتھ معاملہ درست رکھنے کی پوری کوشش اور مالی معاونت بھی کررہا ہے،  تو وہ نافرمان و گناہ گار نہیں ہوگا، البتہ  ان کے لیے خوب دعاؤں کا اہتمام کرے اور  ہر اس عمل سے اجتناب کرے جو والدہ کے لیےتکلیف کا باعث بنے۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

3662 - "حدثنا هشام بن عمار قال: حدثنا صدقة بن خالد قال: حدثنا عثمان بن أبي العاتكة، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أمامة، أن رجلا قال: يا رسول الله، ما ‌حق ‌الوالدين على ولدهما؟ قال: «هما ‌جنتك ونارك".

(كتاب الأدب، باب برالوالدين، ج:2، ص:1208، ط: دار إحياء الكتب العربية)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

4943 -[33]"وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ‌أصبح ‌مطيعا ‌لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا. ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا» قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: «وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه".

(كتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ج:3، ص:1382، ط: المكتب الإسلامي)

المحيط البرہانی میں ہے:

"ألا ترى أن رجلا لو قطع الطريق على رجل ليأخذ ماله، أو ليقتله، أو أراد امرأة ليفجر بها، وقد حضر ذلك رجل يظن أن به قوة عليه أو أنه ينتصف منه، لم يسعه إلا أن يمنع المظلوم ممن يريد الظلم عليه، وإن كان مع الرجل الذي يريد أن يعينه أبواه فنهياه عن ذلك، فليس ينبغي له أن يطيعهما، ولا يسعهما أن يمنعاه إلا أن يكون به قوة عليه، فإن كان كذلك فليطعهما، وإنما ينبغي طاعة الوالدين في التطوع الذي يسع تركه، فنفاذ برهما أفضل من الجهاد التطوع، فإذا جاءت الفريضة والأمر الذي لا يسع الرجل فيه إلا أن … لم يلتفت في هذا إلى طاعة الوالدين، وكانت طاعة الله تعالى أحق أن يؤخذ بها من طاعة الوالدين".

(كتاب الإستحسان والكراهية، ‌‌الفصل الثامن والعشرون في الرجل يخرج إلى السفر ويمنعه أبواه، أو أحدهما أو غيرهمامن الأقارب أو يمنعه الدائن، والعبد يخرج ويمنعه المولى والمرأة، ج:5، ص:394، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله حج الفرض أولى من طاعة الوالدين) لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق سبحانه وتعالى".

(كتاب الحج، فروع في الحج، ج:2، ص:620، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں