
میرا سوال اولاد کی تربیت اور ان کے ساتھ سلوک سے متعلق سے ہے،سوال یہ ہے کہ اولاد کے اوپر جسمانی یا ذہنی تشدد کس حد تک اور کن مواقع پر جائز ہے؟ نیز گھریلو معاملات جیسے سازوسامان کے نقصان یاکسی کام سے انکارپر نابالغ یابالغ بچوں کو ڈنڈوں سے یا ایسی چیز سے تشدد کرنا کہ نیل پڑجائیں یا شدید تکلیف کا سامنا ہو کیسا ہے؟
دوسرا ہر وقت طنز وطعنے دینا ،ہر بات پر ذہنی ٹارچر کرنا، اگر کوئی غلطی ہوجاۓ تو باربار اسے یاد کرتے رہنا کیا یہ سب والدین کر سکتے ہیں؟
یہ سوال اس لیے پوچھا ہے کہ اکثر والدین سے یہ سلوک ہوتا ہے اپنی اولاد کے ساتھ جس کی وجہ ان کی اپنی کوئی پریشانی، غربت یا کچھ بھی ہوتی ہے اور اگر انہیں سمجھایا جاۓ تو وہ کہتے ہیں والدین سے کچھ بھی پوچھ گچھ نہیں ہوگی، والدین کے حقوق ہوتے ہیں، یعنی وہ اسے غلط نہیں بلکہ تربیت و اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اور جس کی وجہ سے اولاد بگڑ جاتی ہے۔ لہذا اس چیز پر قرآن و حدیث سے روشنی ڈالیں!
بصورتِ مسئولہ اولاد کی تربیت کی خاطر شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے والدین کو اپنی اولاد کی پٹائی کرنا اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا شرعاً جائز ہے،بلکہ دینی معاملات میں غفلت اور کوتاہی کی صورت میں شریعت بسااوقات خود بھی مناسب حد تک مارنے کا حکم دیتی ہے۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ذیشان ہے کہ ” جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو ان کو نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر مارو۔“لیکن اولاد پر سختی کرنے بالخصوص مارپیٹ کرنے میں شرعی حدود کی رعایت رکھنا بہت ضروری ہے۔شرعی حدود کا مطلب یہ ہے کہ اولاً بچہ تادیب کا قابل ہو لہذا ایسا نابالغ اور چھوٹا بچہ جو پٹائی برداشت نہ کرسکتا ہو اُسے مارنا کسی صورت جائز نہیں ہے، اور بڑے بچے کو بھی ایسی مار نہ ماری جائے جس سے وہ زخمی ہوجائے یا نیل پڑجائیں اوراُسے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑے، بچے کے سر، چہرے پر نہ مارا جائے، شدید ضرورت کے بغیر ایک وقت میں تین ضربوں سے زیادہ اور ایک ہی جگہ پر تین ضربیں نہ ماری جائیں، مارتے وقت اولاد کی خیرخواہی اور تربیت کا ہی جذبہ دل میں ہو، اپنا غصہ نکالنا مقصود نہ ہو، پٹائی ہاتھ سے کی جائے اور ڈنڈے یا کوڑے وغیرہ کا استعمال نہ کیا جائے ۔اِسی طرح اولاد کی غلطی پر تنبیہ اور سرزنش کرنا تو درست ہے، لیکن اُسے لے کر بیٹھ جانا اورموقع با موقع یاد دلا کر طنز و تشنیع کا نشانہ بنانادرست نہیں ہے۔بالخصوص بالغ اولاد کے ساتھ حدسے زیادہ متشدد رویہ رکھنے،سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ اور جسمانی سزا دینے سے اُن کے باغی ہونے کا خطرہ رہتا ہے، اور جب کہ اولاد بالغ ہونے کے بعد ازخود بھی احکامِ شرعی کی مکلف اور جواب دہ ہوتی ہے، تو اُن کی کوتاہی کا گناہ والدین کے سر نہ ہوگا، اِس لیے مارپیٹ اور ہاتھ اُٹھانے سے حتی الامکان احتراز کرنا چاہیے۔ اور اعتدال کے ساتھ نرمی و سختی دونوں طریقوں سے بالغ اولاد کی بھی اصلاح کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ فرماتےہیں:
”اولاد جب جوان ہوجائے تو اُن کے جذبات کا احترام ضروری ہوتا ہے۔“
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل، والدین اور اولاد کے تعلقات،جلد ہشتم، صفحہ ۵۶۵، ط: مکتبہ لدھیانوی)
خلاصہ یہی ہے کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیش بہا نعمت ہے تو امانت بھی ہے، والدین پر اُن کی تربیت کے ساتھ ساتھ دیگر حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے،تربیت میں نرمی وسختی دونوں پہلوؤں میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے،حتی الامکان نرمی اور شفقت کے ساتھ بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔ اور اگر ضرورت کے وقت سزا دینے کی بھی ضرورت ہوتو تدریجاً سزا دے مثلاً (1) ملامت کرنا (2) ڈانٹنا، (3) کان کھینچنا،(4) ہاتھ سے مارنا وغیرہ۔تادیب کی خاطر بچوں کے مارنے کو مطلقاًغلط سمجھنا یا ہرطرح کے تشدد کو جائز اور والدین کا حق سمجھ کر روا رکھنا یہ دونوں رویے درست نہیں ہے۔
تربیتِ اولاد کے حوالے سے مفصل تفصیلات کے لیے درج ذیل کتاب کا مطالعہ کیا جائے:
”اِسلام اور تربیتِ اولاد“(اردو ترجمہ: حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہیدؒ _ناشر: مکتبۃ الحبیب)
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
1۔"وقال مكحول في قوله تعالى عليكم أنفسكم إذا هاب الواعظ وأنكر الموعوظ فعليك حينئذ نفسك لا يضرك من ضل إذا اهتديت."
(سورة المائدة، الآية:103، باب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، ج:4، ص:159، ط: دار إحياء التراث العربي)
2۔"{يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم وأهليكم نارا} روي عن علي في قوله: {قوا أنفسكم وأهليكم} قال: "علموا أنفسكم وأهليكم الخير" وقال الحسن: "تعلمهم وتأمرهم وتنهاهم"...ويدل على أن للأقرب فالأقرب منا مزية به في لزومنا تعليمهم وأمرهم بطاعة الله تعالى، ويشهد له قول النبي صلى الله عليه وسلم: "كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته" ومعلوم أن الراعي كما عليه حفظ من استرعي وحمايته والتماس مصالحه فكذلك عليه تأديبه وتعليمه; وقال عليه السلام: "فالرجل راع على أهله وهو مسئول عنهم والأمير راع على رعيته وهو مسئول عنهم."
(سورة التحريم، الآية:6، مطلب: يجب علينا تعليم أولادنا وأهلينا، ج:3، ص:624، ط: دار الكتب العلمية)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه) : أي: محمد (عن جده) : أي: عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مروا ") : أمر من الأمر حذفت همزته للتخفيف، ثم استغني عن همزة الوصل تخفيفا، ثم حركت فاؤه ; لتعذر النطق بالساكن (أولادكم) : يشمل الذكور والإناث (بالصلاة) وربما يتعلق بها من الشروط (وهم أبناء سبع سنين) : ليعتادوا ويستأنسوا بها، والجملة حالية (واضربوهم عليها) : أي: على ترك الصلاة (وهم أبناء عشر سنين) : لأنهم بلغوا، أو قاربوا البلوغ."
(کتاب الصلاة، ج:2، ص:512، دار الفكر، بيروت – لبنان)
وفیہ ایضا:
"(عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا ضرب أحدكم) أي أحدا في حد أو تعزير (فليتق الوجه) أي فليتجنب من ضرب وجهه وقد سبق تعليله بقوله فإن الله خلق آدم على صورته."
(کتاب الحدود، باب التعزير، ج:6، ص:2380، ط: دار الفكر، بيروت – لبنان)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وإن وجب ضرب ابن عشر عليها بيد لا بخشبة) لحديث: «مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر".
"(قوله: بيد) أي: ولايجاوز الثلاث، وكذلك المعلم ليس له أن يجاوزها، «قال عليه الصلاة والسلام لمرداس المعلم: إياك أن تضرب فوق الثلاث، فإنك إذا ضربت فوق الثلاث اقتص الله منك». اهـ إسماعيل عن أحكام الصغار للأستروشني، وظاهره أنه لايضرب بالعصا في غير الصلاة أيضاً. (قوله: لا بخشبة) أي: عصًا، ومقتضى قوله: بيد أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منها ومن السوط أفاده ط. (قوله: لحديث إلخ) استدلال على الضرب المطلق، وأما كونه لا بخشبة فلأن الضرب بها ورد في جناية المكلف. اهـ ".
(كتاب الصلاة، ج:1، ص:352، ط:سعيد)
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
"(قوله: بيد) قيد في امداد الفتاح بكونه ثلاث ضربات فقط، ويفهم منه انه لايضرب بالعصا في جميع ما أمر به ونهي عنه فليراجع حلبي، والمنصوص انه يجوز للمعلم أن يضربه باذن أبيه نحو ثلاث ضربات ضرباً وسطاً سليماً ولم يقيد بغير العصا ... (قوله: لا بخشبة) مقتضي قوله: بيد، أن يراد بالخشبة ما هو الأعم منها ومن السوط، (قوله: لحديث) استدلال علي الضرب المطلق، وأما كون الضرب لا بخشبة فلأن الضرب بها ورد في جناية صادرة من المكلف ولا جناية من الصغير".
(کتاب الصلاة، ج:1، ص:169 - 170، ط: رشیدیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100031
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن