بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کی اطاعت میں حلال کو ترک کر کے حرام کمائی اختیار کرنے کا شرعی حکم


سوال

سائل  ایک دکان میں  طویل عرصہ سے ملازم ہے۔ اسی دکان کے ماحول میں اسے دین کو سمجھنے کی توفیق حاصل ہوئی، اور باطل عقائد سے نکل کر توحید کی طرف ہدایت ملی۔ اس ملازمت کی حلال کمائی سے اس کے گھر کے تمام دینی اور ذاتی اخراجات بخوبی انجام پا رہے ہیں۔

اس کی والدہ اور دونوں بھائی اس کے دینی عقائد و نظریات سے بالکل متضاد عقیدہ رکھتے ہیں۔ والدہ کا اصرار ہے کہ وہ یہ حلال و طیب ملازمت چھوڑ کر بینک میں ملازمت اختیار کر لے۔ اگر وہ والدہ کی اطاعت کرتا ہے تو اس کی موجودہ حلال ملازمت سے محرومی یقینی ہے، نیز دینی مجالس میں شرکت سے بھی محرومی یقینی ہے۔

موجودہ ملازمت میں اسے روزانہ، ماہانہ اور سالانہ دینی اسفار میں شرکت کی مکمل آزادی حاصل ہے، جبکہ بینک کی ملازمت میں ادارتی پابندیوں کی وجہ سے دینی معاملات میں  یقیناتعطل پیدا ہوگا۔ والدہ کا کہنا ہے کہ ”ماں کی اطاعت دین و تبلیغ کا اصول ہے“ — اور اس اصول کے تحت وہ چاہتی ہیں کہ وہ حلال ملازمت ترک کر کے بینک کی نوکری کر لے۔

سائل کا بنیادی سوال یہ ہے کہ: کیا اس تفصیل کی روشنی میں والدہ کی اطاعت لازم ہے یا انکار؟ انکار کی صورت میں والدہ کی ناراضگی یقینی ہے۔ کیا والدہ کو راضی رکھنے کے لیے حلال ملازمت چھوڑ کر بینک کی ملازمت اختیار کرے؟ یا حلال طیب ملازمت پر ثابت قدم رہے؟ براہ کرم شرعی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح  رہے  کہ حلال روزی کمانا فرض ہے، جبکہ حرام سے بچنا بھی ضروری ہے۔ والدین کی اطاعت تب تک واجب ہے جب تک وہ شریعت کی حدود میں رہے۔ شریعت کے خلاف کسی معاملے میں والدین کی اطاعت جائز نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے یہ ہرگز درست نہیں کہ وہ یقینی حلال کمائی چھوڑ کر اپنی ماں کے کہنے پر ایسا پیشہ اختیار کرے جہاں دینی سرگرمیوں سے محرومی ہو اور کمائی بھی حرام ہو۔ کیونکہ بینک کے سود (ربا) میں ملوث ہونے کی وجہ سے وہاں کام کرنا اور اس سے کمائی کرنا جائز نہیں۔

لہٰذا اس حالت میں ماں ناراض ہوں تو بھی صبر و تحمل اور اچھے اخلاق کے ساتھ انہیں سمجھاتے ہوئے حلال پیشے سے وابستہ رہنا ضروری ہے — جہاں دینی ماحول بھی ہو اور گھر کے تمام افراد کی ضروریات بھی پوری ہو رہی ہوں۔ ایسا کام چھوڑ کر بینک جیسے حرام کام میں لگنا ہرگز جائز نہیں۔

قرآنِ کریم میں ہے:

{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}(سورۃ البقرۃ:278-279)

ترجمہ:…’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑدو، اگر تم ایمان والے ہو ، پھر اگر تم اس پر عمل نہیں کروگے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے‘‘۔

(بیان القرآن،ج: 1، ص:200، ط: مکتبہ رحمانیہ)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء".

(باب لعن آکل الربا، ومؤکله، ج: 2، ص: 27، ط: النسخة الهندیة)

مسند احمد میں ہے:

"لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ."

ترجمہ:”خالق کی نافرمانی میں کسی کو اطاعت نہیں۔“

(مسند احمد، مسند البصريين، حديث عمران بن حصين،  ج: 33 ص: 111، رقم 19880، ط: مؤسسة الرسالة)

صحيح البخاری میں ہے:

"عن أبي عبد الرحمن، عن علي رضي الله عنه قال:بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية، وأمر عليهم رجلا من الأنصار، وأمرهم أن يطيعوه، فغضب عليهم، وقال: أليس قد أمر النبي صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى، قال: قد عزمت عليكم لما جمعتم حطبا وأوقدتم نارا، ثم دخلتم فيها. فجمعوا حطبا، فأوقدوا، فلما هموا بالدخول، فقام ينظر بعضهم إلى بعض، قال بعضهم: إنما تبعنا النبي صلى الله عليه وسلم فرارا من النار، أفندخلها؟ فبينما هم كذلك إذ خمدت النار، وسكن غضبه، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: (لو دخلوها ما خرجوا منها أبدا، إنما الطاعة في المعروف)."

(باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية،ج:6، ص: 2613، رقم: 6726، ط:دار ابن كثير، دار اليمامة - دمشق)

فيض القدير میں ہے:

"طلب الحلال) لفظ رواية البيهقي في سننه والديلمي في فردوسه طلب كسب الحلال (فريضة بعد الفريضة) أي بعد المكتوبات الخمس كما أشار إليه الغزالي أو بعد أركان الإسلام الخمسة المعروفة عند أهل الشرع أو المراد فريضته متعاقبة يتلو بعضها لبعض أي لا غاية لها ولا نهاية لأن طلب كسب الحلال أصل الورع وأساس التقوى وروى النووي في بستانه عن خلف بن تميم قال: رأيت إبراهيم بن أدهم بالشام قلت: ما أقدمك قال: لم أقهر لجهاد ولا لرباط بل لأشبع من خبز حلال."

(حرف الطاء، ج:4، ص: 270، ط:المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

”ماں باپ کی بات کسی حد تک ماننا ضروری ہے؟

جواب:  والدین کی فرمانبرداری اور ان کی خدمت کے بارے میں واقعی بڑی سخت تاکیدیں آئی ہیں، لیکن یہ بات غلط ہے کہ والدین کی ہر جائز و نا جائز بات ماننے کا حکم ہے، بلکہ والدین کی فرمانبرداری کی بھی حدود ہیں، میں ان کا خلاصہ ذکر کر دیتا ہوں ۔

اول ... والدین خواہ کیسے ہی بُرے ہوں، ان کی بے ادبی و گستاخی نہ کی جائے، تہذیب و متانت کے ساتھ ان کو سمجھا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ سمجھانا ضروری ہے، لیکن لب ولہجہ گستاخانہ نہیں ہونا چاہئے ، اور اگر سمجھانے پر بھی نہ سمجھیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

دوم ...اگروہ کسی جائز بات کا حکم کریں تو اس کی  تعمیل  ضروری ہے بشرطیکہ آدمی اس کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اس سے دوسروں کے حقوق تلف نہ ہوتے ہوں، اور اگر ان کے حکم کی تعمیل اس کے بس کی بات نہیں یا اس سے دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے تو تعمیل ضروری نہیں ، بلکہ بعض صورتوں میں جائز نہیں۔

سوم . اگر والدین کسی ایسی بات کا حکم کریں جو شرعا نا جائز ہے اور جس سے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے، تب بھی ان کے حکم کی تعمیل جائز نہیں، ماں باپ تو ایسا حکم دے کر گناہ گار ہوں گے، اور اولادان کے ناجائز حکم کی تعمیل کر کے گناہ گار ہوگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور ارشاد گرامی ہے: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" یعنی جس چیز میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو اس میں کسی مخلوق کی فرمانبرداری جائز نہیں ۔ مثلاً : اگر والدین کہیں کہ نماز مت پڑھو، یا دین کی باتیں مت سیکھو، یا داڑھی مت رکھو، یا نیک لوگوں کے پاس مت بیٹھو وغیرہ وغیرہ ، تو ان کے ایسے احکام کی تعمیل جائز نہیں، ورنہ والدین بھی جہنم میں جائیں گے اور اولاد کو بھی ساتھ لے جائیں گے۔

چهارم . والدین اگر ماریں پیٹیں، گالی گلوچ کریں، برا بھلا کہیں یا طعن و تشنیع کرتے رہیں، تو ان کی ایذاؤں کو برداشت کیا جائے اور ان کو الٹ کر جواب نہ دیا جائے۔

پنجم:   میں لکھ چکاہوں کہ ناجائز کام میں والدین کی اطاعت جائز نہیں۔“

(ماں باپ کی بات کسی حد تک ماننا ضروری ہے،ج:7، ص: 198- 201، ط:مکتبہ لدھیانوی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101696

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں