بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کو ایصال ثواب کا تحریری معاہدہ


سوال

 میں علم التجوید سیکھ رہا ہوں ، میں نے پہلے دن سے وعدہ کیا ہے اپنی والدہ کے ساتھ( والدہ حیات ہے ) کہ علم التجوید سیکھنے اور بعد میں دوسروں کو سکھانے کا سارا ثواب آپ کو بخشتا ہوں ۔ میں نے یہ بیان حلفی سٹامپ پیپر پر دوگواہوں کے سامنے تحریر بھی کیا ہے تاکہ والدہ کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں ثبوت رہیں۔کیا اس طرح ثواب بخشنا اور بیان حلفی/ معاہدہ (صرف والدہ کی رضا اور اطمینان کے لیے) لکھنا جائز ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  علم تجوید سیکھنے اور سکھانے کا ثواب آئندہ کے اعتبار سے والدہ کو بخشنے کا وعدہ کرنا درست ہے، تحریری معاہدہ کے بغیر بھی ثواب بخشا جا سکتا ہے، اگر تحریری معاہدہ کر لیا تو حرج بھی نہیں ہے، تاہم اس طرح کا کوئی تحریری معاہدہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے حضور ثبوت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اگر آپ نے صحیح طور پر ایصالِ ثواب کیا ہوگا تو اللہ تبارک وتعالیٰ کسی تحریری معاہدہ کے بغیر بھی اسے قبول فرمالیں گے اور اگر تحریری معاہدہ کر لیا لیکن کسی وجہ سے صحیح ایصالِ ثواب نہ کیا تو عند اللہ ایسے وعدہ اور معاہدہ کا اعتبار نہیں۔

البتہ الفاظ کے انتخاب میں احتیاط بہتر ہے یعنی مستقبل میں دوسروں کو سکھانے پر جو ثواب ہوگا اسے بخشنے کے لیے مستقبل کے الفاظ استعمال کرنا چاہیے یعنی یوں کہہ دیں کہ آئندہ جو ثواب ہوگا وہ بھی والدہ کو بخش دوں گا یا یوں کہیں کہ آئندہ جو ثواب ہوگا اس کو بھی والدہ کو بخشنے کا وعدہ کرتا ہوں۔

حاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وفي البحر: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة كذا في البدائع، ثم قال: وبهذا علم أنه لا فرق بين أن يكون المجعول له ميتا أو حيا. والظاهر أنه لا فرق بين أن ينوي به عند الفعل للغير أو يفعله لنفسه ثم بعد ذلك يجعل ثوابه لغيره، لإطلاق كلامهم".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له، 2/ 243، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100332

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں