بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کی خدمت کی وجہ سے بیوی سے علیحدہ سونے کا حکم/ بیوی کا ازدواجی تعلقات قائم نہ کرنے دینے کا حکم


سوال

میری والدہ بیمار ہیں، ان کی طبیعت اکثر خراب رہتی ہے، انہیں مستقل کسی خدمت گزار کی ضرورت ہوتی ہے،  گھر میں کل افراد میری والدہ، میری بیوی اور میرے تین بچے ہیں، میری والدہ چاہتی ہیں کہ میں رات کو ان کے ساتھ سوؤں، تاکہ ان کو خدمت کی ضرورت ہو تو میں کرسکوں، میں ان کا اکلوتا بیٹا ہوں، جب بہنیں گھر آتی ہیں تو پھر میں اپنے کمرے میں سوتا ہوں۔میری اہلیہ اعتراض کرتی ہیں کہ تم میرے ساتھ کمرے میں سویا کرو، وہ مجھے ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں کرنے دے رہی، وہ کہتی ہے کہ  جب مستقل میرے ساتھ سو گے تو ازدواجی تعلق قائم کرنے دوں گی۔

کیا میں اس صورت حال جب کہ والدہ اس حالت میں ہیں کہ انہیں خدمت گار کی ضرورت ہے، میری اہلیہ کا یہ اعتراض درست ہے؟میری اہلیہ کا مجھے ازدواجی تعلق قائم کرنے سے روکنا درست ہے؟

وضاحت: بیٹے کی عمر9 سال، بیٹی کی عمر 7 سال اور ایک بچے کی عمر تقریبا ڈیڑھ سال ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  شریعت کا حکم یہ ہے کہ میاں بیوی  ایک ہی  بستر پر آرام کریں، کسی معقول و معتبر  وجہ کے بغیر شوہر کو الگ کمرے میں آرام نہیں کرنا چاہیے، صورت مسئولہ میں سائل اپنی والدہ کی طبیعت کی خرابی کی وجہ سےبیوی سے علیحدہ سوتا ہےاور سائل کے علاوہ اس کی والدہ کا کوئی خدمت گزار بھی نہیں ہے،جبکہ والدہ کو مستقل کسی خدمت گزار کی ضرورت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اگر کسی عورت کو والدہ کی خدمت کے لیے رکھنے کا کوئی انتظام نہیں تو بیوی کاسائل سے اپنے کمرے میں سونے پر اصرار کرنا درست نہیں ہے،  نیز بیوی کا مذکورہ وجہ کی بناء پر سائل کو ازدواجی تعلقات سے روکنا بھی جائز نہیں ہے،البتہ کوئی ایسی صورت اختیار کرے کہ ماں کی خدمت بھی ہو جائے، اور بیوی کا حق بھی ادا ہو جائے، یعنی ماں کی خدمت کے لیے کسی سمجھدار عورت کو رکھ لیا جائے تا کہ دونوں کا حق ادا ہو سکے، اور ازدواجی زندگی متاثر ہونے سے بچ جائے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح."

(كتاب بدء الخلق، باب: إذا قال أحدكم: آمين، والملائكة في السماء، فوافقت إحداهما الأخرى، غفر له ما تقدم من ذنبه، ج: 3، ص: 1182، ط: دار ابن كثير)

ترجمہ: ”جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وأما تعديد الفراش للزوج فلا بأس به لأنه قد يحتاج كل واحد منهما إلى فراش عند المرض ونحوه. واستدل بعضهم بهذا أنه يلزمه النوم مع امرأته، وأن له الانفراد عنها بفراش وهو ضعيف ; لأن النوم من الزوجة وإن كان ليس بواجب، لكنه معلوم بدليل آخر أن النوم معها بغير عذر أفضل: هو ظاهر فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم."

(کتاب اللباس، ج: 7، ص: 2777، ط: دار الفکر بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

" وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم اھ."

(كتاب النكاح،فصل بيان حكم النكاح، ج: 2، ص: 331، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703101871

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں