بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے انتقال کے بعد نانا کے انتقال کی صورت میں نواسوں/نوسیوں کا نانا کی میراث میں حصہ


سوال

ایک خاتون کا والدکی زندگی میں انتقال ہوا ،بعد میں والد کا انتقال ہوا، اب کیا نواسوں/نواسیوں کا نانا کی میراث میں حصہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں، چوں کہ خاتون کا انتقال اپنے والد (یعنی بچوں کے نانا) کی زندگی میں ہو گیا تھا، اس لیے نانا کی میراث میں مرحومہ بیٹی یا اس کی اولاد (نواسوں/نواسیوں) کا کوئی شرعی حصہ نہیں ہوگا ۔ نانا مرحوم  کا ترکہ ان کے زندہ بیٹے بیٹیوں اور بیوہ اگر حیات ہو،   میں تقسیم ہوگا، اور نواسے/نواسیاں اس میں حق دار نہیں ہوں گے، البتہ اگر نانا کے شرعی ورثاء اپنی خوشی سے انہیں کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، لیکن شرعاً ان پر لازم نہیں۔

رد المحتار میں ہے:

"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقةً أو حكمًا كمفقود أو تقديرًا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيًّا حقيقةً أو تقديرًا كالحمل، والعلم بجهل إرثه".

(كتاب الفرائض، ج:6، ص:756، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101253

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں