
میری والدہ نے اپنی زندگی میں میرے پاس اپنا کچھ سونا اور نقد رقم رکھوائی تھی،نقد رقم اس وجہ سے کہ کہیں اگر خدانخواستہ آخری عمر میں علاج معالجہ کی ضرورت پڑے،تو یہ رقم کام آجاۓاور سونا اس وجہ سے کہ میرا ایک چھوٹا بھائی ہے،جو اس وقت بیمار تھاتو والدہ نے وہ سونا میرے پاس رکھوایا تاکہ اگر کل اس بھائی کی شادی ہوجاۓتو اس میں کام آجاۓ،لیکن اس بھائی کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی اور اب وہ ہمارے ساتھ رہتاہے۔اب والدہ کا بھی انتقال ہوچکاہے،والدہ کا جب انتقال ہوا،اس وقت اس کے ورثاء میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں۔شوہر،والدین اور ایک بیٹے کا انتقال والدہ کی زندگی میں ہوگیاتھا۔
اب سوال یہ ہے کہ میں اس رقم اور سونے کا کیا کروں؟
صورتِ مسئولہ میں چوں کہ وہ رقم اور سونا آپ کے پاس بطور امانت رکھوایاگیاتھا،اس لیے جب والدہ کا انتقال ہوا،تو اب یہ رقم اور سونا والدہ کے تمام ورثاء کے درمیان اپنے اپنے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔تقسیم کا طریقہ کار یہ ہوگاکہ سب سے پہلے مرحومہ والدہ پر اگر کوئی قرض ہو اس کو ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو اس کو ایک تہائی ترکہ سے پورا کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ کو6 حصوں میں تقسیم کرکےدو،دو حصے ہر ایک بیٹے اور ایک،ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملےگا۔
صورتِ تقسیم یہ ہوگی:
میت:6
| بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحومہ کی جائیداد کا33.33 فیصد ہر ایک بیٹے کو اور 16.66 فیصد ہر ایک بیٹے کو ملے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102465
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن