بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 محرم 1448ھ 11 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کا دوسری شادی کی بناء پر بد دعا دینا اور اس کی قبولیت


سوال

میں نے دوسری شادی کی ، دونوں بیویوں کے حقوق بجا لاتا ہوں، دونوں خوش بھی ہیں۔دوسری شادی کرتے وقت پہلی بیوی کی رضامندی بھی تھی، لیکن میری والدہ میری دوسری شادی سے ناراض ہیں اور مجھے بد دعا دیتی ہیں ۔ میں بہت پریشان ہوں۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری والدہ کا اس بناء پر مجھے بد دعا دینا قبول ہوگا یا نہیں؟

نوٹ: میں نے دوسری شادی مجبوری کی وجہ سے کی تھی، اگر میں دوسری شادی نہ کرتا تو گناہ میں پڑنے کا قوی اندیشہ تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر سائل کی والدہ محض دوسری شادی (جو کہ شرعا سائل کا حق ہے) کی وجہ سے ناراض ہیں، اس کے علاوہ کوئی اور معقول وجہ نہیں ہے تو  امید یہی ہے کہ سائل کی والدہ کی بد دعا سائل کے حق میں قبول نہ ہوگی، البتہ سائل کو چاہیے کہ والدہ کی طرف سے اس بلا وجہ ناراضگی کے باوجود ان کے ساتھ حسن سلوک کرے اور سائل کی دونوں بیویاں بھی حتی الامکان جتنا حسن سلو ک کرسکتی ہیں  کریں ۔

سائل والدہ کے ساتھ حسن سلوک ، ان کے نان نفقہ (اگر سائل کے ذمہ ہے) سے لے کر ان کی خدمت وغیرہ سارے امور کو اچھی طرح ادا کرتا رہے اور اللہ سے والدہ کی رضامندی اور دل کی نرمی کے لیے دعا مانگتا رہے۔ 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن معاذ قال: «أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر كلمات، قال: " لاتشرك بالله شيئًا و إن قتلت وحرقت، و لاتعقن والديك و إن أمراك أن تخرج من أهلك ومالك، و لاتتركن صلاةً مكتوبةً متعمّدًا؛ فإنّ من ترك صلاةً مكتوبةً متعمّدًا فقد برئت منه ذمة الله، و لاتشربنّ خمرًا فإنّه رأس كل فاحشة، و إيّاك و المعصية؛ فإنّ بالمعصية حلّ سخط الله، و إيّاك والفرار من الزحف و إن هلك الناس، و إذا أصاب الناس موت و أنت فيهم فاثبت. (أنفق على عيالك من طولك، و لاترفع عنهم عصاك أدبًا و أخفهم في الله»". رواه أحمد.

قال ابن حجر: شرط للمبالغة باعتبار الأكمل أيضا أي: لا تخالف واحدا منهما، وإن غلا في شيء أمرك به، وإن كان فراق زوجة أو هبة مال، أما باعتبار أصل الجواز فلا يلزمه طلاق زوجة أمراه بفراقها، وإن تأذيا ببقائها إيذاء شديدا؛ لأنه قد يحصل له ضرر بها، فلا يكلفه لأجلهما؛ إذ من شأن شفقتهما أنهما لو تحققا ذلك لم يأمراه به فإلزامهما له مع ذلك حمق منهما، ولا يلتفت إليه، وكذلك إخراج ماله (ولا تتركن صلاة مكتوبة) أي: مفروضة."

(کتاب الایمان ،باب الکبائر  و علامات النفاق ج نمبر  ۱ ص نمبر  ۱۳۲،دار الفکر)

بہشتی زیور میں ہے:

’’سو، جو امر شرعًا واجب ہو اور نہ ممنوع ہو، بلکہ مباح بلکہ مستحب ہو اور ماں باپ اس کے کرنے یا نہ کرنے کو کہیں تو اس میں تفصیل ہے، دیکھنا  چاہیے کہ اس امر کی اس شخص کو ایسی ضرورت ہے کہ بدون اس کے تکلیف ہوگی، مثلًا غریب آدمی ہے پاس پیسہ نہیں بستی میں کوئی صورت کمائی کی نہیں، مگر ماں باپ نہیں جانے دیتے...اگر اس درجہ ضرورت ہے تو اس میں ماں باپ کی اطاعت ضروری نہیں ۔۔۔ مثلاً وہ کہیں کہ اپنی بیوی کو بلا وجہ معتد بہ طلاق دے دے تو اطاعت واجب نہیں ہے۔‘‘

(گیارواں حصہ   ضمیمہ ثانیہ ص نمبر ۷۵۱ اسلامک بک سروس)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712101266

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں