
اگر کوئی شخص اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں کام کرتاہو اور کاروبار سب کچھ والد کا ہو،تو اگر والد صاحب کچھ پیسے جیب خرچ کے نام پر تنخواہ کے نام پر یا تحفہ کے نام پر دے دیں،بیٹا اس رقم سے نیا کاروبار شروع کرے،تو کیا اس کاروبار کی رقم میں والد صاحب کے بقیہ ورثاء بھی شامل ہوں گے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں والد بیٹے کو جو رقم ہدیہ،یا جیب خرچ ،یا تنخواہ کے عنوان سے دیتاہے ، تو بیٹا اس رقم کامالک ہوتاہے، بیٹے کو دینے کے بعد وہ رقم والد کی ملکیت نہیں رہتی۔پھر اس رقم سے بیٹا اگر کوئی کاروبار کرے تو وہ کاروبار بھی صرف بیٹے کی ہی ملکیت ہوگا، نہ والد کی ملکیت شمار ہوگااور نہ والد کے انتقال کے بعد والد کے ترکہ میں داخل ہوگا،لہذا والد کے ورثاء میں بھی اس کو تقسیم نہیں کیا جائے گا۔
فتاوی شامی ميں ہے:
''وفي خزانة الفتاوى: إذا دفع لابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك بيري.''
(کتاب الهبة، ج:5، ص:688، ط:سعید)
وفيه أيضاً:
''دفع لابنه مالا ليتصرف فيه ففعل وكثر ذلك فمات الأب إن أعطاه هبة فالكل له، وإلا فميراث وتمامه في جواهر الفتاوى.''
(كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، فصل في مسائل متفرقة، ج:5، ص:709، ط: سعيد)
درر الحكام ميں ہے:
"و يوجد ثلاثة شروط لأجل اعتبار الولد معينا لأبيه:1 - اتحاد الصنعة، فإذا كان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فكسب الأب من المزارعة والابن من صنعة الحذاء، فكسب كل منهما لنفسه وليس للأب المداخلة في كسب ابنه لكونه في عياله.
وقول المجلة: (مع ابنه) إشارة لهذا الشرط. مثلا إن زيدا يسكن مع أبيه عمرو في بيت واحد ويعيش من طعام أبيه وقد كسب مالا آخر فليس لإخوانه بعد وفاة أبيه إدخال ما كسبه زيد في الشركة ...(ولده) ليس احترازيا فالحكم في الزوجة والإخوة على الوجه المذكور أيضا وذلك لو عمل أحد في صنعة مع زوجته الموجودة في عيال و اكتسبا أموالًا فكافة الكسب للزوج وتعد الزوجة معينة (الهندية) أما إذا كان للزوجة كسب على حدة فكافة الكسب لها و لاتعد معينة للزوج."
(كتاب الشركة :المادة:1398:ج:3:ص:420:ط:دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101133
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن