
ایک مالدار شخص ہے، جس کی جائیداد کافی زیادہ ہے، شہر میں بھی ان کا ایک مکان اور کئی دکانیں ہیں جو کرایہ پر دی ہوئی ہیں۔
اس شخص کی اپنے بیٹے کے ساتھ کچھ بحث ہوئی، جس پر والد نے بیٹے کو الگ کردیا، اور بیٹے کو جائیداد، نقدی اور سامان میں سے کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ یہ بیٹا اپنے والد کے ساتھ کھیتی باڑی اور گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتا تھا
پوچھنا یہ ہے کہ : -
والد کا یہ معاملہ بیٹے کے ساتھ شرعاً کیسا ہے؟ اور اس بیٹے کا باپ کے ذمے کوئی حق بنتا ہے یا نہیں؟جب کہ اس بیٹے کی کوئی نوکری وغیرہ بھی نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بیٹے کو چاہیے کہ اپنے والد سے معافی تلافی کرکے معاملات سلجھانے کی کوشش کرے۔ رہی بات بالغ بیٹے کی کفالت کی، تو والد پر بالغ اور کمانے کے قابل بیٹے کی کفالت شرعاً لازم نہیں ہوتی، لہذا مسئولہ صورت میں مذکورہ بیٹے نے بحیثیت بیٹا کھیتی باڑی میں جو خدمات انجام دیں، اور اس کے عوض والد سے مالی فائدہ بھی حاصل کرتا رہا، ان خدمات کی وجہ سے مذکورہ بیٹا والد کا شریک شمار نہیں ہوگا، اب والد اگر اپنے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہے، تو انہیں اس پر مجبور کرنے کا حق نہیں ہوگا، جب تک والد حیات ہیں ان کے اموال و جائیداد میں اولاد میں سے کسی کا شرعاً کوئی حق نہیں، والد کی وفات کے بعد ان کی تمام جائیداد منقولہ وغیر منقولہ ان کے ترکہ میں شامل ہوگی، اس وقت مذکورہ بیٹا اگر زندہ ہو، تو دیگر وارثوں کی طرح یہ بیٹا وراثی حصہ کا حق دار ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها، ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له."
(کتاب الشرکة، فصل في الشركة الفاسدة، مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية، 325/4، ط:سعید)
العقود الدريه ميں ہے:
"(سئل) في رجل ساكن في بيت أبيه في جملة عياله وصنعتهما متحدة يعينه بتعاطي أموره ولا يعرف للابن مال سابق فاجتمع مال بكسبه ويريد أن يختص به بدون وجه شرعي فهل جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه ولا شيء له فيه؟
(الجواب) : نعم جميع ما حصله بكسبه ملك لأبيه لا شيء له فيه حيث كان من جملة عياله والمعين له في أموره وأحواله وصنعتهما متحدة ولا يعرف للابن مال سابق؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يصنع كما صرح بذلك في الخلاصة والبزازية ومجمع الفتاوى."
(كتاب الدعوى، ج:2، ص:17، ط:دار المعرفة)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضي خان."
(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1، ص:563، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101107
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن