
میں نے اپنے والد مرحوم کی زندگی میں ان کی جگہ پر ان کی اجازت سے اپنے لیےایک مکان تعمیر کروایا تھا،جس پر تقریبا بارہ لاکھ روپے خرچہ آیا تھا، وہ جگہ کرائے پر تھی، والد صاحب نے کرائے دار سے ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ایڈوانس بھی لیا ہوا تھا، وہ رقم بھی میں نے کرائے دار کوادا کی، اسی طرح بجلی کے بل کی مد میں بھی رقم ادا کی تھی۔
اب والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹے اورتین بیٹیاں ہیں،والدمرحوم کے والدین کا انتقال ان کی زندگی میں ہو گیا تھا، ان کی وراثت میں دومکان ہیں، ان میں سے ایک مکان وہ ہے جس کومیں نے ان کی اجازت سےاپنے لیے تعمیر کیا تھا، میرا سوال یہ ہے کہ:
1- کیا مجھے تعمیری اخراجات کی رقم اور کرائے دارکو ایڈوانس واپسی کرنے کی رقم اور بجلی کے بل کی مد میں ادا کردہ رقم ملے گی؟
2- والد مرحوم کی وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟
صورت مسئولہ میں والد مرحوم کے دونوں مکانوں میں مرحوم کے تمام شرعی ورثاء حصص شرعیہ کے تناسب سے شریک ہیں اورمذکورہ دونوں مکان مرحوم کے شرعی ورثاء میں حصص شرعیہ کے تناسب سے تقسیم ہوں گے، البتہ جس مکان پر سائل نے مرحوم کی اجازت سے اپنے لیے مکان تعمیر کروایا تھا، اس مکان کے تعمیری اخراجات کی رقم جو تقریبا بارہ لاکھ روپے ہے وہ سائل کو ادا کرکے باقی رقم ورثاء میں حصص شرعیہ کے تناسب سے تقسیم ہوگی، اور سائل نےکرائے دار کوایڈوانس ادا کرتے وقت اور بل دیتے وقت اگر والد مرحوم سے کوئی معاہدہ کیا تھا تو مذکورہ رقوم سائل کوواپس ملیں گی اور اگر مذکورہ رقو م ادا کرتے وقت سائل نے والدمرحوم سے کوئی معاہدہ نہیں کیا تومذکورہ رقوم سائل کی طرف سے والد مرحوم پر احسان و تبرع تھاجس کی وجہ سے مذکورہ رقوم سائل کوواپس نہیں ملیں گی۔
والدمرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرض ہوتواس کو اداکرنےکے بعد، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو اس کو باقی مال کےایک تہائی میں نافذکرنے کےبعد، بقیہ کل ترکہ کو 72 حصوں میں تقسیم کرکے 9حصےوالد مرحوم کی بیوہ کو، 14 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کواور 7 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہوگی:
میت(والد مرحوم): 72/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||
| 9 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے12.5 فیصدوالد مرحوم کی بیوہ کو، 19.444فیصد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 9.722فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملےگا۔
جامع الفصولین میں ہے:
"إن الزوج لو عمر دارهابإذنها فالعمارة لها والنفقه دين عليهاولم يذكرانه شرط الرجوع إذالأصل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لرب الدارويرجع عليه بما أنفق اختلف فيه المشايخ بعضهم قالوا: البناء لرب الدارلو بنى بإذنه... وقال بعضهم: البناء للباني، و إن بنى بإذن رب الدار... وهذا الخلاف فيما أمر ولم يشترط الرجوع فأما لو شرط الرجوع بما أنفق فالبناء لرب الدار وعليه ما أنفق."
(الفصل الرابع والثلاثون في الأحكام، ج: 2، ص: 220،221، ط: اسلامي كتب خانه كراتشي)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ومن بنى أو غرس في أرض غيره بغير إذنه أمر بالقلع والرد)
(قوله بغير إذنه) فلو بإذنه فالبناء لرب الدار، ويرجع عليه بما أنفق جامع الفصولين من أحكام العمارة في ملك الغير."
(کتاب الغصب، ج: 6، ص: 194، ط: دارالفکر بیروت)
وفیہ ایضا:
"(ولو أعار أرضا للبناء والغرس صح) للعلم بالمنفعة (وله أن يرجع متى شاء) لما تقرر أنها غير لازمة (ويكلفه قلعهما إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فيتركان بالقيمة مقلوعين) لئلا تتلف أرضه.
(قوله مقلوعين) أو يأخذ المستعير غراسه وبناءه بلا تضمين المعير هداية، وذكر الحاكم أن له أن يضمن المعير قيمتها قائمين في الحال، ويكونان له، وأن يرفعهما إلا إذا كان الرفع مضرا بالأرض، فحينئذ يكون الخيار للمعير كما في الهداية وفيه رمز إلى أن لا ضمان في العارية المطلقة. وعنه أن عليه القيمة، وإلى أن لا ضمان في الموقتة بعد انقضاء الوقت، فيقلع المعير البناء والغرس إلا أن يضر القلع؛ فحينئذ يضمن قيمتهما مقلوعين لا قائمين كما في المحيط قهستاني كذا في الهامش."
(كتاب العارية، ج: 5، ص: 281، ط: دار الفکر بیروت)
البحرالرائق میں ہے:
"(قوله وإن أعار أرضا للبناء أو الغراس صح) لأن المنفعة معلومة اهـ.
(قوله وله أن يرجع) لأنها غير لازمة (قوله ويكلف قلعهما) أي قلع البناء والغرس وهو بفتح الغين وكسرها كذا في المغرب ويجبر المستعير على القلع إلا إذا كان فيه مضرة بالأرض فإن كان يترك بقيمته مقلوعا كذا في النهاية."
(كتاب العارية، ج: 7، ص: 282، ط: دارالکتاب الإسلامي)
العقود الدریہ في تنقيح الفتاوى الحامديہ میں ہے:
"المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره كما لو قضى دين غيره بغير أمره."
(كتاب المداينات: ج:2 ،ص:226، ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100889
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن