بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

بہن کے مطالبے کے باوجود اس کو حصہ نہ دینا


سوال

 میرے چار بھائی ہیں، جن میں سے تین بھائی کینیڈا میں رہتے ہیں، اور ایک بھائی پاکستان میں میرے والد کے بنائے ہوئے گھر میں رہتے ہیں، جو بھائی پاکستان میں رہتے ہیں، ان کا ایک بیٹا سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے، میں اپنے شوہر کے ساتھ کرائے کے مکان میں رہتی ہوں۔

میں گزشتہ تین سال سے اپنے بھائیوں سے اپنے حصے کا مطالبہ کر رہی ہوں لیکن وہ نہ گھر فروخت کر رہے ہیں اور نہ ہی مجھے میرا حصہ دے رہے ہیں۔ تو شرعاً  میرا حصہ نہ دینا کیسا ہے؟ اور میری راہنمائی فرمائیں میں کیا کروں؟

جواب

واضح رہے کہ  کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں اس کے تمام ورثاء کا حق متعلق ہوجاتاہے اور کسی وارث کو اس کاشرعی حصہ طلب کرنے کے باوجود اس کا حصہ  نہ دینا اور محروم کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا،اسی طرح کسی وارث کے میراث کی تقسیم کے مطالبےپر ترکہ کی تقسیم کرنا ضروری ہوتا ہے،وارث کو اس کے حصۂ میراث سے محروم کرنے اور اس کا حق دبالینے پر احادیث مبارکہ میں بڑی وعیدیں آئی ہیں:

’’حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی‘‘،  ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے: ’’حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا(یعنی اسے جنت سے محروم کردے گا)۔‘‘

 لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے والد کی وفات کے بعد  ترکہ کے مکان میں ان کے تمام شرعی ورثاء کا حصص شرعیہ کے تناسب سے حصہ ہے، سائلہ کے بھائیوں کا سائلہ کے مطالبہ کے باوجود سائلہ کو حصہ نہ دینا شرعاً ناجائز  اور ظلم ہے، ان پر لازم ہے کہ وہ سائلہ کو ان کا حصہ الگ کرکے دے دیں ، اور اگر بھائی مکان اپنے پاس رکھنا چاہتے ہوں تو موجودہ ویلیو لگاکر سائلہ کے حصے کی قیمت سائلہ کو ادا کردیں، بصورت دیگرسائلہ کو حصہ نہ دینے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو ں گے، جس کا آخرت میں ان کو حساب دینا ہو گا، جو آسان نہ ہو گا۔

نیز اگر سائلہ کے بھائی رضامندی سے حصہ دینے کے لیے تیار نہ ہو ں ، خاندان کے معزز افراد کےذریعے بھی مسئلہ حل نہ ہو تو  سائلہ اپنے حق کے حصول کے لیے قانونی کاروائی بھی کر سکتی ہے۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."

 (مشكاة المصابيح،  باب الغصب والعاریة،1 /254، ط: قدیمی)

وفيها أیضاً: 

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة. رواه ابن ماجه." 

(باب الوصایا، الفصل الثالث،1 /266،  ط: قدیمی)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلب ‌أحد ‌الشريكين ‌القسمة وأبى الآخر فأمر القاضي قاسمه ليقسم بينهما."

(‌‌كتاب القسمة، ج:5، ص:231، ط:دارالفکر)

درر الحكام في شرح مجلة الاحكام میں ہے :

"إذا طلب أحد الشريكين القسمة وامتنع الآخر عنها ‌فيقسمه ‌القاضي ‌جبرا أي حكما إذا كان المال المشترك قابلا للقسمة؛ لأن القسمة هي لتكميل المنفعة والتقسيم في المال القابل للقسمة أمر لازم."

(باب في بيان القسمة، المادة 1130، ج:3، ص:128، ط:دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101790

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں