بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی زندگی میں بیٹی کا اپنے حصہ کا مطالبہ کرنا


سوال

ہم دوبھائی ہیں ، ہمارے والدین کا انتقال ہوگیا تھا،میرے بھائی نے اٹھارہ سال پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی،اس وقت بھائی کی بیٹی ایک دوسال کی تھی،اس بچی کو ہم نے پالا،میرے بھائی کو فالج ہواہے،جس کی وجہ سے ان کادماغی توازن اب ٹھیک نہیں ہےاور وہ اب مکمل طور پر بستر پر ہیں،البتہ دماغی طور پربھائی مکمل طور پر مفلوج نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی پہچانتاہے اور پھر پہچاننے کے بعد بلاتابھی ہے،اور کبھی کبھی بھول جاتاہےاور یادداشت باقی نہیں رہتی۔

وہ بچی اب بڑی ہوگئی ہے جس کی عمر ابھی اٹھارہ سال ہے،اور اپنے والد کو اس حالت میں دیکھ کراپنی ماں کی باتوں میں آکراپنے والد کے مکان میں سے حصہ مانگ رہی ہے،اور اب وہ اپنی ماں کےپاس چلی گئی ہے،اس کا والد ابھی حیات ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس بچی کواس کے والد کے گھرمیں حصہ کیسے دیاجائے؟اورابھی دیاجائے  کہ نہیں؟

مذکورہ مکان بھائی کی ذاتی ملکیت ہے ،انہوں نے اپنی کمائی سے لیا تھا۔

جواب

واضح رہے کہ  بچی کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق  اس کی والدہ کو حاصل ہوتاہے،پھر نو سال کے بعد بلوغت تک اس کی ولایت کا حق والد کوحاصل ہے،جب بالغ ہوجائے تو اسے  اختیار  ہے چاہے والدہ کے پاس رہے چاہے والد کے پاس رہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں ابھی اگر آپ کے بھائی کی بیٹی اپنی والدہ کے پاس رہ رہی ہے تو اس کا والدہ کے پاس رہنا جائز ہے۔

تاہم بیٹی کا والد کے ساتھ حسن سلوک ، ان کا ادب و تعظیم اور ان کی خدمت لازم ہے ، والد سے اعراض کرنا جائز نہیں ۔ 

 مکان چونکہ آپ کے بھائی کی ملکیت ہے،اس میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ نہیں ہے،لہذا آپ کے بھائی کی بیٹی کاآپ کے بھائی کی زندگی میں حصے کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ہے،اور نہ ہی آپ کے بھائی پراپنے مکان سے بیٹی کو حصہ دینا ضروری ہے۔

جب بھائی دماغی توازن رکھتے ہیں اور معاملات کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے مال میں تصرف کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ہے ۔  

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية."

"(قوله: ولا خيار للولد عندنا) أي إذا بلغ السن الذي ينزع من الأم يأخذه الأب، ولا خيار للصغير لأنه لقصور عقله يختار من عنده اللعب، وقد صح أن الصحابة لم يخيروا. وأما حديث «أنه صلى الله عليه وسلم خير فلكونه قال: اللهم اهده» فوفق لا اختيارا لا نظر بدعائه عليه الصلاة والسلام، وتمامه في الفتح".

(كتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج:3، ص:568، ط:سعيد)

دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ‌المستقل ‌كيفما ‌شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

(الكتاب العاشر الشركات،المادة (1192)،ج:3،ص:201،ط:دار الجيل)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار."

(‌‌كتاب الهبة،ج:5،ص: 696،ط:سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن يكون الموهوب ‌مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب."

(كتاب الهبة،الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها،ج:4،ص:374،ط:رشيدية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101637

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں