بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی زندگی میں اولاد والد کی جائیداد میں کیوں حصہ دار نہیں ہوتے؟


سوال

میری عمر 70 سال ہے، نو(9) بیٹے اور پانچ(5) بیٹیاں ہیں، پہلی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے، دوسری بیوی حیات ہے، میرا کاروبار پہلے والد اور بھائی کے ساتھ مشترک تھا،والد کے انتقال کے بعد جو حصہ مجھے میراث میں ملا، وہ الگ ہوگیا،اس کے علاوہ میرا ذاتی کاروبار بھی ہے، اس کاروبار اور جائیداد میں میری اولاد کی کوئی شراکت نہیں رہی، جو بیٹے میرے ساتھ کام کرتے تھے، وہ میری سرمایہ  پر ہی کام کرتے تھے، اور انہیں میں تنخواہ یا جیب خرچ دیا کرتا تھا،سوال یہ ہے: کیا میری زندگی میں میرے بیٹے اور بیٹیاں میری جائیداد یا دولت میں کسی حصے کے مالک ہیں، اگر ہیں تو کیوں؟ اور نہیں تو کیوں؟

جواب

واضح رہے کہ  انسان زندگی میں اپنی جائیداد اور تمام مملوکہ اشیاء کا خود مالک ہوتا ہے، جب تک وہ ان  اشیاء کورضامندی سے کسی کو  مکمل ہبہ نہ  کر دے یا اس کو فروخت نہ  کر دے،  اس وقت تک اس کی مملوکہ اشیاء  میں اولاد یابیوی وغیرہ  کا کوئی حق نہیں ہوتا،  البتہ مالک کی وفات کے بعد اس کی تمام  مملوکہ اشیاء اس کے ترکہ میں شامل ہوتی ہیں،  جس میں اس کی  تمام شرعی  وارث حصص شرعیہ کے تناسب سے شریک ہوتے ہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل  زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک ہے،جب تک وہ اپنی مملوکہ اشیاء  میں سے کوئی چیز کسی کو خود تحفۃ ً یا  قیمۃ ً نہ دے دے، اس وقت تک اس کے مال میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوگا، اور اسے اپنے تمام اموال میں ہر قسم کے جائز تصرف کا حق ہوگا، اولاد یا کسی اور کو قدغن لگانے کا حق نہیں ہوگا۔

درر الحکام فی شرح مجلہ الأحکام العدلیہ میں ہے:

"كل يتصرف ‌في ‌ملكه المستقل ‌كيفما ‌شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

(الكتاب العاشر، الباب الثالث، ‌‌الفصل الأول، 201/3، ط: دارالجیل)

مجلۃ الاَحکام العدلیہ میں ہے:

"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه (المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

(المقدمة، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ص:27، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100741

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں