بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

والد کی وراثت تقسیم


سوال

میرے والد صاحب کے انتقال کے وقت انہوں نے 3264 فٹ جائیداد چھوڑی، والد مرحوم کے ورثاء میں چھ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں،والدہ کا انتقال  والد صاحب کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا اور دو بیٹے جو کہ غیر شادی شدہ تھے اپنے والد کی زندگی میں وفات پا گئے تھے،  ایک بیٹا والد کی وفات کے بعد فوت ہوا، جس کی ایک بیوہ اور چار بیٹے ہیں، والد کا ترکہ  بیٹوں، بیٹیوں اور مرحوم بیٹے کی بیوہ اور اس کے بیٹوں میں کس طرح تقسیم ہو گا؟

جواب

صورت مسئولہ میں والد مرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ (تجہیزو تکفین کے اخراجات)ادا کرنے کے بعد ،اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اور مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو  باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے  اسے  نا فذ کرنے کے بعد  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو256حصوں میں تقسیم کر کے پانچ زندہ بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 32حصے،ہر ایک بیٹی کو 16حصے،مرحوم بیٹے کی بیوہ کو4 حصے اور اس کے ہر ایک بیٹے کو 7حصے ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت:16/ 256۔۔والد

بیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2222221111
فوت323232323216161616

میت:8/ 32/ 16۔۔بیٹا۔۔ما فی الید:2/ 1

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹا
17
47777

یعنی فیصد کے اعتبار سے والد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو12.50فیصد،ہر ایک بیٹی کو6.25 فیصد،مرحوم بیٹے کی بیوہ کو1.562 فیصد اور اس کے ہر ایک بیٹے کو2.734 فیصد ملے گا۔

3264فٹ کے اعتبار سے والد مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو408 فٹ،ہر ایک بیٹی کو 204فٹ،مرحوم بیٹے کی بیوہ کو 51فٹ اور اس کے ہر ایک بیٹے کو89.25 فٹ ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100185

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں