بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کی وفات کے بعد جس بیٹی کا انتقال ہوا وہ وارث ہے


سوال

ہمارے نانا کا انتقال پہلے ہوا  ہے،ابھی کچھ مہینے پہلے والدہ کا بھی انتقال ہوگیا،  نانا کی وراثت میں ہمارا حصہ ہے یا نہیں؟

کیوں کہ ماموں یہ کہہ رہے ہیں  کہ :تمہاری والدہ کے انتقال کے بعد تم لوگوں کا کوئی حصہ نہیں، براہ ِکرم !رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں   جب والد (سائل کے نانا)کا انتقال پہلے ہوا ہے اور بیٹی (سائل کی والدہ)کا انتقال بعد میں ہوا ہے  تو ایسی صورت میں والد مرحوم کے ترکہ میں دیگر شرعی ورثاء   کے ساتھ  بیٹی کا بھی حصہ تھا،  جو  بیٹی کے انتقال کی صورت میں  اُن کے  ورثاء (سائل اور اُس  کے بہن بھائیوں  ، یعنی مرحومہ کی اولاد )  میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا ۔

لہذا  سائل کے نانا مرحوم کے ترکہ میں ان کی بیٹی یعنی سائل کی والدہ مرحومہ شرعاً حق دار ہیں ، اور سائل کے ماموں کا یہ کہنا کہ :’’تمہاری والدہ کے انتقال کے بعد تم لوگوں کا کوئی حصہ نہیں‘‘  درست نہیں ہے۔

کسی وارث کا حصہ ساقط کرنا، کسی کا حصہ نہ دینا یا غصب کرلینا گناہ کبیرہ اور سخت جرم ہے ، احادیث میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا سائل کی والدہ کاحصہ ان کے ورثاء  کو دینا لازم ہے ۔ 

باقی  والدہ مرحوم کے ترکہ میں سے ہر ایک وارث کےشرعی  حصہ سے متعلق معلوم کرنےکےلیے مرحومہ کے تمام ورثاء لکھ  کر  نیز شوہر (سائل کے والد)حیات ہیں یا نہیں!یہ تفصیل لکھ کر دوبارہ معلوم کرلیں۔

"رد المحتار"میں ہے:

"لأنّ التركة ما تركه الميّت من الأموال صافياً عن تعلّق حقّ الغير بعين من الأموال، كما في "شروح السراجية".

(رد المحتار، كتاب الفرائض، 6/759، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"وشروطه ثلاثة: موتُ مورِّث حقيقةً، أو حكماً كمفقود، أو تقديراً كجنين فيه غُرّة، ووجودُ وارثه عند موته حيّاً حقيقةً أو تقديراً كالحمل، والعلمُ بجهة إرثه".

(رد المحتار، كتاب الفرائض، 6/758، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706101936

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں